جنگ بدر : عزیز بلگامی ۔ بیلگام، انڈیا
رمضاں میں ذکرِ بدر کو لے کر ہوں بے قرار
ـ’’یاد آرہا ہے بدر کا میدان  باربار ‘‘
اسلام و کفرکا یہ تصادم تھا اوّلیں
تھی جنگ ایسی جس پہ تھا خود امن جاں نثار
چھوٹی سی فوج کفر کے لشکر پہ چھا گئی
افواجِ کفرو شرک کا دامن تھا تار تار
کمزور فتح پاگیے، ہارے قوی ترین
سو اک طرف تھے، مدّ مقابل تھے اک ہزار
ایماں ڈٹا تھا ،عسکری قوت کے سامنے
تھا کفر ساز و ساماں کے ہمراہ ، بے قرار
بیٹا تھا اک طرف، تو پدردوسری طرف
چشمِ فلک بھی آنسو بہاتی تھی زار زار
حضرت عمرؓ نے اپنے  ہی ماموں کی جان لی
اْن کو تو رب کے دیں نے دیا تھا یہ اِختیار
مسلم ہوئے تو ابنِ ابوبکر ؓنے کہا
زد میں تھے ،پھر بھی آپ پہ خالی کیاتھا وار
کہنے لگے یہ سن کہ ابو بکر ؓدفعتاً
ایمان مجھ سے کہنے لگا تھا یہ بار بار
ہاتھ آتے میرے تم تو نہ پاتے کبھی اماں
ہوتے جو میری زد میں توخالی نہ جاتی مار
عتبہ ،تھا اک طرف تو حذیفہؓ تھے سامنے
بیٹے کی فوج کا وہ ہوا اوّلیں شکار
ایک سمت نظم و ضبط تھا اورطاعتِ رسولؐ
اور کفر کی صفوں میں مسلسل تھا اِنتشار
تقویٰ نے اور طاعت و حبِّ رسول ؐنے
کر ہی دیا تھادامنِ باطل کو تارتار
اہلِ ہوس کے دور کی جنگوں کے درمیاں
ہو ذکرِ بدرماہِ مقدّس میں بار بار
اے کاش،ملتی بدر کی ساعت عزیزؔ کو
تیغِ خودی کی اور بڑھاتا وہ تیز دھار

یہ نظم آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟