ہائکو : عرفان عارف ۔ کشمیر، انڈیا


حمدِ الٰہی کر 
حد سے بڑھ کرا ے ناداں
اپنا دامن بھر
٭٭٭
دھرتی ہے بنجر   
اس لیے تو دہقاں نے
بیجے ہیں پتھر
٭٭٭
عیسی ؑہیں مصلوب
سچ کہنے کاتیرا بھی 
اچّھاہے اسلوب
٭٭٭
قصّہ ہے دراز
قطرۂ ناچیز ہوں گو
پر ہوں گہراراز
٭٭٭
جنّت کی ہوا
سب کوملتی ہے کہاں؟
اماں کی دُعا
٭٭٭
شام کی دہلیزپر
سورج دستک دیتاہے
دُوراُفق سے پار
٭٭٭
اللہ کافرمان 
ہم تک پہنچانے والے 
تجھ پہ ہم قربان
٭٭٭
حق کوہومنظور
پتھر کی آغوش میں
کھلتے ہیں حضور
٭٭٭
دھوپ ہے نہ سایہ
شہروں کایہ المیہ
میں بھی دیکھ آیا
٭٭٭
انسان بنا ہے 
آب و گل میں جان پڑی ہے
حیوان بنا ہے 
٭٭٭
دن بھر اُڑان سے 
میں گھبراکے دھوبیٹھا
ہاتھ اپنی جان سے
٭٭٭
کس کو ہے انکار
عشقِ صادق میں عارفؔ
پھول بنے انگار
٭٭٭
سہمے سہمے لوگ
مہنگائی کے عالم میں 
کیا کھائیں لوگ؟
٭٭٭

یہ ہائکو آپ کو کیسے لگے؟ انہیں کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟