یہ خدا یا خدایا : سیمیں کرن ۔ فیصل آباد، پاکستان
اُس نے اُلجھ کر کتا ب پٹخ دی۔ وہ جو نا ول میں بُری طرح کھو ئی ہو ئی تھی ’’قربت مر گ میں محبت‘‘میں بہتے دریائے سندھ کے گہرے کبھی ٹھہرے پا نیوں ، سر کنڈوں کے ٹاپوئوں دلد لی علا قوں میں تنہا ڈو بتی اس کشتی کے سا تھ خو د بھی بہت دور نکل آئی تھی۔ مگر مستنصر حسین تا رڑ کے اس سوا ل نے اُسے بُری طرح اُلجھا دیا ۔ 
موت کیا ہے ؟ کیا موت خود اِک خدا ہے ؟ کیا وہ خدا بھی مو ت کے ہاتھوں بے بس ہے ؟ نو شین نے اُلجھ کر سو چا بھلا یہ کیا بے تُکا سوا ل ہُوا ؟ موت کیسے خدا ہو سکتی ہے اور وہ اتنی قوتوں طا قتوں وا لا رب بھلا مو ت کے آگے کیسے بے بس ہو سکتا ہے ؟ یہ لکھا ری بھی جانے کِن کیفیات میں گھِر کر کہاں جا پہنچتے ہیں ؟ الحاد کی حدوں کو چُھو آتے ہیں ۔ 
نو شین نے اُلجھ کر اور کو فت سے نا ول کو پٹخ دیا اور بے زا ری سے سر تکیے پر رکھ کر کچھ دیر کو آنکھیں مو ند لیں اُلجھن، کو فت ، بیزا ری اور فرا غت اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اِ ن چا روں محا ذوں پر کیسے بر سرِ پیکا ر ہوا کہ معاً نیچے سے عارفہ با جی نے آواز دی 
’’ با جی! اگر فا رغ ہیں تو نیچے آجا ئیں مِل کر اکٹھے چا ئے پیتے ہیں ‘‘ اسے اس وقت یہ دعوت بڑی بر وقت اور غنیمت لگی ! اس نے دو پٹا سنبھا لتے ہو ئے اسے جوا ب دیا : ’’آتی ہوں با جی! بلکہ آرہی ہوں میں بھی فا رغ بور ہو رہی تھی ‘‘ 
یہ بھی طرفہ تما شہ تھا کہ وہ دو نوں ایک دو سرے کو با جی کہہ کر مخا طب کر تی تھیں گویا دو نوں اس محاذ سے پیچھے ہٹنے کو تیا ر نہ تھیں کہ وہ ایک دوسرے سے کم سن بنیں ۔
عا رفہ نوشین کی کرا ئے دا ر تھی کچھ عرصہ سے میاں کو جا ب کے کچھ مسا ئل درپیش تھے اور آگے پیچھے کچھ ایسے لمبے اخرا جا ت کا عفریت منہ کھو لے کھڑا تھا کہ اُن دو نوں کو یہی حل منا سب نظر آیا کہ اپنیء گھر کا نچلا پورشن کرائے پر دے دیا جا ئے یو ں ایڈ وا نس کی شکل میں یک مشت رقم ہا تھ آجا ئے گی ۔ نو شین کی اپنی مختصر سی فیملی تھی دو بچے تھے بڑا بیٹا دسویں میں اور اس سے چھوٹی بیٹی آٹھو یںمیں ۔ 
اس کے کرا ئے دا ر اُس کے میاں جمیل کے وا قف تھے، بلکہ پُرا نے دو ست تھے۔ چھوٹا سا مختصر سا کُنبہ تھا ، اُن کے بھی دو ہی بچے تھے ایک بیٹی شا دی شدہ دو بچوں کی ماں تھی اور ایک بیٹا جس کی اب شا دی کر نا تھی اسی لئے وہ سسرا لی آبا ئی گھر سے علیحدہ ہو ئی تھی کہ وہاں وہ چھ سا ت خا ندا ن آبا د تھے اور اب تیسری نسل اپنا گھر بسا نے کو تیا ر کھڑی تھی اور یہ اس مختصر سے گھر میں ممکن نہ تھا ۔ اسی لئے عا رفہ اور عا بد نے فی الحا ل کرا ئے پر یہ پو رشن لے لیا ۔
نو شین کو دوہرا تہیرا اطمینا ن حا صل ہُوا اِس مختصر سے کنبے کو اپنے گھر کا حصہ بنانے کا، اِ ک تو آمدنی کامعقول ذریعہ ہو گیا دوسرے لوگ بہت اچھے اورنفیس تھے اور تیسرا یہ کہ اُس کو خود دوسرا ہٹ کا احساس مِل گیا وہ جو دونوں بچوں کے بڑا ہوجا نے ، میاں کے مصروف رہنے سے تنہا ئی کا شکا ر ہو رہی تھی ۔ اُسے یو ں لگا کہ جیسے جِینے کو اِک نیا جواز مِل گیا اور عا بدہ با جی اُن کاتو ما نو پیرز مین پرنہیں پڑ تا تھا ۔ سا ری زند گی اِ ک گھٹن حبس بھرے کمرے میں گزا ر کر انہیں لگتا کہ یہ چھو ٹا سا مختصر پورشن نہیں بلکہ کسی را ج دا ھا نی کا تخت مِل گیا ہو اُس کی خو شیا ں روشنیوں کی ما نند پُھوٹ پُھوٹ پڑتی تھیں ، وہ تما م عمر کے دبے ار ما ن اور معصوم خوا ہشیں جو مشترکہ خا ندا ن کی بھینٹ چڑھ گئی تھیں دِ ل میں نیت رکھی تھیں اَ ب پورے کر نے کے دِن آگئے تھے ۔
سُسرال میں اِ ک مختصر سا کمرہ ، کیا سا ما ن ہوسکتا تھا زیست کرنے کو ! سو اِک اِک چیز بڑی چا ہتوں محبتوں سے بنا رہی تھی وہ ،نیا فر یج اوون خریدا گیا ، پھر اپنے جہیز کے کرو شیے کے نفیس رو ما ل نِکا ل کر اُن پر بچھا کراُس نے اُن پر نفیس سے کر سٹل کے گلدا ن سجا دیے ۔ اپنا بیڈ روم ایسے سنوا را جیسے نو بیا ہتا دلہنیں ایک ایک چیز کو بڑے ار ما نوں سے سجا تی ہیں گویا ہر شے میں کو ئی لمس دھرا ہوا ۔ نو شین بڑی دلچسپی اور حیرت سے عا رفہ با جی کی یہ سرگرمیاں دیکھتی ، بعض اوقا ت اسے یہ چھچھورا پن بھی لگتا مگر رفتہ رفتہ اُس نے جا نا کہ دراصل یہ تما م عمر کے رُکے جذ با ت تھے ۔ اُن کے گھر میں کسی مو م بتی کا بھی اضا فہ ہو تا تو عارفہ با جی کے بچے حیرت و خو شی آمیز حسرت سے کہتے :
’’بھلا یہ ممکن تھا کہ ہم اُس گھر میں رہتے ہوئے اپنی یہ خو شی پوری کر لیتے ‘‘
یہ وہ حسرت ودرد اور مُسرت سے لتھڑے جملے تھے کہ اُس پر اُن کی اُن خو شیوں کے را ز کھو ل گئے کہ آخر خا ندا نی سیا ست جو دُکھ و آزار دیتی ہے وہ کو ن سا اُن سے نا آشنا تھی؟ اور پھر یہ تو ما ننے وا لی با ت تھی کہ عارفہ با جی بطور کرا ئے دا ر اتنی شا ئستہ اور نفیس خا تو ن تھیں کہ اُنہوں نے آکر نو شین کو بہت سی فکروں اور غموں سے آزاد کردیا تھا گو کہ پہلے پہلے اُس نے بہت کو شش کی کہ وہ کہیں یہ محسوس نہ کر ے کہ وہ ما لک مکا ن کے طور پر کو ئی استحقا ق جتا تی ہے یا کو ئی تکلیف دینے کی کو شش کرتی ہے مگر عارفہ با جی نے اس کی ایک نہ چلنے دی ۔ وہ اپنے مہما نوں کے آنے پر اوپر سے آنے کی کو شش کرتی تو عارفہ با جی اُسے منع کر دیتی اور دروازے پر دستک سُنتے ہی آوا زیں لگا نا شروع کر دیتی 
’’میں آرہی ہوں ، ابھی آئی ، آر ہی ہوں ‘‘ کہ نوشین با خبر ہو جا ئے وہ دروا زہ کھولنے کے لئے اُٹھ چکی ہے اور وہ سردی میں رضا ئی میں دبکی ہوئی انہیں ڈھیروں دعائیں دیے جاتی کہ اِس کڑا کے کی سر دی میں کمبل سے نکلنا بھی گو یا اِک جہا د ہی تھا ۔ 
زرا وہ اِدھر اُدھر ہو تی یا اُسے نیچے پر تن پکڑا نا بھو ل جا تا تو عارفہ با جی اپنے برتن میں دو دھ ڈلوا کر اُبا ل کر ڈھک رکھتیں کہ کو ئی بچہ آتے جا تے لیجا ئے گا۔ اُ س کے مہما ن آتے تو عارفہ با جی نیچے رو ک کر پہلے خو د توا ضع کر تیں پھر اوپر آنے دیتیں۔ نو شین کی سا س اس کے پا س رہنے آئیں تو گھٹنوں کی تکلیف کے با عث اوپر نہیں چڑھ سکتی تھیں وہ پورا ہفتہ عارفہ با جی نے بڑے پیا ر احترا م اور اِصرار سے نیچے انہیں اپنے پا س رکھا ۔
ان کی ان با توں و خصا ئل و شما ئل نے تو نوشین کو ان کا گرویدہ ہی بنا دیا اور اور اُن کی رفا قت اس کے لئے نعمت ہی ثا بت ہو ئی ۔سانولی سا نولی سی پستہ قد فر بہی مائل لٹکے ہوئے بدن وا لی عارفہ با جی جو کہ پنتا لیس پچا س کے درمیا ن ہوں گی اور دیکھنے میں کم از کم پچپن کی لگتی تھیں جب اُسے با جی کہہ کر بلا تیں توشروع شروع میں تو اُسے بڑا عجیب لگا مگر بعد میں اسے یہ بھی ان کے خلوص و مروت کا اظہا ر ہی لگا۔ یوںبھی عارفہ با جی کو ہر خا تو ن اُن کی عمر کی یا ان سے چھو ٹی بھی ہو تی با جی اور آنٹی کہہ کر بلا نے کی عا دت تھی ۔ 
نو شین جب اُن کی اِ س عجیب و غریب عا دت کا تجز یہ کر نے بیٹھتی تو اُسے لگتا کہ اپنی شا دی کے بعد سے جیسے وہ سا را وقت اِ ک جبر و صبر سے گزا رتی آتی ہیں ۔ جیسے کو ئی کِسی بوتل کوبہت کَس کے ڈھکن لگا دے ۔ آنکھیں بند کر کے مسا فت طے کر تا چلا جا ئے اور خو د وہیں کہیں کھڑا رہ جا ئے تو شا یدعارفہ با جی بھی ابھی کہیں پیچھے ہی رہ گئی تھیں انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ گز رتا وقت اُن پر اپنے کتنے نشا ن چھو ڑ گیا ہے اور جب وہ نو شین کو یا اپنی کِسی ہم عمر خاتون کو با جی یا آنٹی کہتی ہیںتو کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے مگر یہ عارفہ با جی کی پُر خلوص محبت و شخصیت تھی کہ نو شین کبھی بھی انہیں نہیں ٹو ک سکی۔ سو مو سم سبز تھا پُر بہا ر تھا خوا ہشوں کے پنچھی نئے دیسوں کی را ہ دکھا تے تھے سرِ شا م عارفہ با جی چا ئے کے لئے ٹیبل سجا تی اور اسے آوا ز دے لیتیں ۔ پھر را ت اپنا نشا ط اوڑھ کر آجا تی وہ نفیس سا میز پوش بچھا کر پلیٹیں سجا دیتیں ، نفیس سے اکڑے نیپکن ، ہو نٹوں پر ہلکی گلا بی نسوا ری شیڈ دیتی لِپ اسٹک ۔ سا منے بیٹھا نو جوا ن بیٹا ، زندگی کتنی خو بصورت لگنے لگتی ۔ اُس لمحہ مو جود میں اور پھر اس کے بیٹے کے اِس جملے کی تکرار: ’’ما ما اگر ہم وہاں اس گھر میں ہو تے تو کیا یہ سب ممکن تھا ؟ــ‘‘نو شین نیچےعارفہ با جی کے پا س ہی تھی کہ جمیل اُس کا میاں اندر دا خل ہُوا وہ اُس کے ہمرا ہ سیڑھیاں چڑھنے لگی تو عارفہ با جی اس کی جا نب پُشت کئے چو لہے کے پاس کھڑی تھیں اس نے یو نہی سر سری سے لہجے میں پوچھا :’’ کیا کر رہی ہیں با جی؟‘‘ عارفہ با جی نے یو نہی بغیر مڑے جوا ب دیا :’’ قہوہ بنا رہی ہوں آپ لوگوں کے لئے بھی بھجوا تی ہوں ‘‘ نو شین مسکرا تی اوپر چڑھ گئی ، تھوڑی دیر بعد عابد کی چیختی آواز سُنا ئی دی : ’’ جمیل بھا ئی نیچے آئیے جلدی ذرا جلدی‘‘جمیل ننگے پائوں دوڑا تو عابد گھبرا ئے لہجے میں کہا : ’’ عارفہ کی طبیعت ایکدم خرا ب ہو گئی ہے ڈا کٹر کے پاس جا نا ہے ‘‘ نوشین جو پیچھے دوڑتی آئی تھی نے دیکھا عارفہ کی رنگت زرد تھی مگر انہوں نے چا در اوڑھی گھر کی چپل بدلی دروا زے تک آتے آتے وہ یکد م گر گئی بمشکل اُٹھا کر گا ڑی میں ڈا لا گیا ، ہا سپٹل جا کر مشین سیدھی لکیر بتا رہی تھی ۔ سیدھی با لکل موت کی سیدھی جا مد لکیر…!
نو شین جیسے با لکل اندھے گہرے سنا ٹے میں جا گِری اِک عجب اندھیرا تھا اُس کے ارد گرد ، اِک ہی سوا ل کی تکرا ر تھی : ’’کیا ہے موت؟ خود اِک خدا ؟ کیا وہ خدا بھی اُس کے آگے بے بس ہے ‘‘

یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟