بطور خاص : معید رشیدی کی بارہ غزلیں



(1)
سب حروف معتبر ساری روانی دے مجھے
چاک کر لفظوں کا سینہ اور معانی دے مجھے

کوئی کہتا ہے حدود وقت سے آگے نکل
نارسائی میں رسائی، لامکانی دے مجھے

تو ہے خوشبو، ٹھنڈی ٹھنڈی باد صرصر کا خرام
میں سلگتی دوپہر، ویران، پانی دے مجھے

لفظ کو مائل بہ اظہار تمنا کر سکوں
فکر میں گہرائی، طرز گل فشانی دے مجھے

واقف اسرار کن ! روشن ہے تجھ پر کائنات
واقف اسرار کر، چشم نہانی دے مجھے


(2)
خوشبو سی تحلیل ہوئی سانسوں کے تانے بانے میں
ہم نے بھی محسوس کیا ہے دل تک آنے جانے میں

آنگن کا آہٹ سے رشتہ اور آہٹ کا بنجر پن
کتنے موسم بیت گئے ہیں اس دل کو سمجھانے میں

آنکھوں کا منظر سے رشتہ اور منظر کا سوندھاپن
کچی مٹی سی یادوں کو گوندھا ہے افسانے میں

راتوں کا خوابوں سے رشتہ اور خوابوں کا سُوناپن
خاموشی چلتی رہتی ہے دور تلک ویرانے میں

منزل کا رستوں سے رشتہ اور رستوں کا خالی پن
جانے اِن رستوں پر کیسے آپہنچے انجانے میں

دریا کا موجوں سے رشتہ اور موجوں کا پاگل پن
خود کو زخمی کر بیٹھا ہے ساحل سے ٹکرانے میں

بادل کا پانی سے رشتہ اور پانی کامیٹھاپن
سوکھی دھرتی کے سینے سے دنیا کے پیمانے میں

پتوں کا پت جھڑ سے رشتہ اور پت جھڑ کا سوکھا پن
کیسے کیسے دن دیکھے ہیں کھلنے اور مرجھانے میں

روحوں کا مٹی سے رشتہ اور مٹی کا گیلاپن
کتنے رشتے خواب ہوئے ہیں رشتوں کے تہ خانے میں


(3)
نقطہ نقطہ چن کر میں نے چہروں کو تصویر کیا
لمحہ لمحہ بُن کر میں نے صدیوں کو زنجیر کیا

اک منظر جب چھوٹ گیا ماضی کے اندھے رستے میں
آگے بڑھ کر دل سلگایا اک منظر تعمیر کیا

نیند میں چلنے کی عادت تھی بھٹکے ہیں ویرانوں میں
خوابوں کے آوارہ پن کو یوں ہم نے تعبیر کیا

ریزہ ریزہ فرشِ دل پرہو کے شکستہ بکھرے ہیں
بے موسم کے اس پت جھڑ نے رشتوں کو تعزیر کیا

آنکھوں سے آنکھوں کا رستہ ، دل سے دل کی راہیں ہیں
چلتے چلتے خود کو جانااور سب کو تسخیر کیا

احساسات کی حدت میں جذبات کا سونا پگھلا یا
لفظوں میں بجلی بھر ڈالی اور خود کو تحریر کیا


(4)
قیمت حرمت دل، حرفِ دعا کچھ بھی نہیں
اور ایک شور ہے ایسا کہ خدا کچھ بھی نہیں

اک عجب کشمکش صوت و صدا ہے مجھ میں
میں نے آواز بھی دی اور کہا کچھ بھی نہیں

وقت پتھر تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے کہیں
آتی جاتی ہوئی لہروں کا پتا کچھ بھی نہیں

پا بہ زنجیر کوئی ہے جو صدا دیتا ہے
زندگی جرم ہے اور اس کی سزا کچھ بھی نہیں

کوئی آتا ہے دبے پاؤں گزر جاتا ہے
اور محسوس یہ ہوتا ہے ہُوا کچھ بھی نہیں


(5)
اب اعتبار نہیں ، میری جاں کسی کا نہیں
چراغ سب کے لیے ہے دھواں کسی کا نہیں

لکیریں کھینچتے رہتے ہیں ہم زمینوں پر
یہ جانتے ہوئے کہ آسماں کسی کا نہیں

اب اختیار زمانے پہ ہے نہ اس دل پر
کمال یہ ہے کہ کوئی یہاں کسی کا نہیں

وہ جس کے نام سے ہے بس اسی کے نام سے ہے
یہاں کسی کا نہیں ہے وہاں کسی کا نہیں

بس ایک سلسلۂ نور ہے ، خموشی ہے
حدود وقت سے آگے نشاں کسی کا نہیں


(6)
خوف ہے ، دھند بھری رات ہے ، تنہائی ہے
میرے کمرے میں ابھی رات ہے ، تنہائی ہے 

ذہن میں تیرا تصور ہے نظر میں ہے چراغ
میں مسافر ہوں ، کڑی رات ہے ، تنہائی ہے 

پھر خیالوں میں وہی دوڑتی پاگل سی ہوا 
پھر وہی تم ہو ، وہی رات ہے ، تنہائی ہے 

اک نئے خواب کی سرحد میں چلی آئی تھکن 
اک نیا شہر ، نئی رات ہے ، تنہائی ہے 

اب یہی ترکِ تعلق کی سزا ٹھہری ہے
اب یہی درد ، یہی رات ہے ، تنہائی ہے 

خامشی پھیل چکی ہے مرے اندر باہر
اب تو بس میں ہوں، مری رات ہے ، تنہائی ہے 


(7)
میری آنکھوں میں سوالوں کے سوا کچھ بھی نہیں
یہ جو دنیا ہے تماشوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جتنی تعبیریں محبت کی ، وہ سب ان کی ہیں
میری تقدیر میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

رات ان کی، یہ ہوائیں، یہ دھواں ان کا ہے
میرے حصے میں چراغوں کے سوا کچھ بھی نہیں

زندگی ان کی، یہ دنیا، یہ تماشے ان کے 
میرے حصے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ہم سمجھتے ہیں زمانے کی بدلتی ہوئی چال
وہ سمجھتے ہیں ستاروں کے سوا کچھ بھی نہیں

میرے سب حرف، مرے لفظ، فسانے ان کے
میرے حصے میں خیالوں کے سوا کچھ بھی نہیں


(8)
ہزار صورتیں پھر بھی کمی سی لگتی ہے 
نہ جانے کون ہے جس کی کمی سی لگتی ہے 

نہ جانے کس کو یہ آنکھیں تلاش کرتی ہیں 
کہیں بھی جاؤں کسی کی کمی سی لگتی ہے 

میں اپنے آپ کو جب بھی اداس پاتا ہوں
مرے وجود میں کوئی کمی سی لگتی ہے 

ترے بغیر تو دن بھی اداس ، راتیں بھی 
میں ٹوٹ جاتا ہوں ایسی کمی سی لگتی ہے 

تمھارے شہر میں اب کیوں یہ دل نہیں لگتا 
تمھارے شہر میں کس کی کمی سی لگتی ہے 


(9)
دل میں کسی کی یاد بہانے سے رہ گئی
خوشبو سی کوئی چیز تھی آنے سے رہ گئی

چھوٹی سی ایک بات کا افسانہ ہوگیا
چھوٹی سی ایک بات چھپانے سے رہ گئی

اک حادثے میں کھو سا گیا ہے مرا وجود
لیکن یہ زندگی جو بھلانے سے رہ گئی

پھر یوں ہوا کہ نور بکھرتا چلا گیا
پھر یوں ہوا کہ رات فسانے سے رہ گئی

اک ماہتاب تھا جو مکمل نہیں ہوا
اک روشنی تھی آئینہ خانے سے رہ گئی

تہذیب خاک ہی میں الجھتا رہا بدن
اک تشنگی تھی خاک اڑانے سے رہ گئی


(10)
میں ہوں کہ میری بے خودی ،  تو ہے کہ تیری یاد ہے
میں ہوں کہ میری تشنگی، تو ہے کہ تیری یاد ہے

یہ جو ابھی نہاں سا تھا، یہ جو ابھی دھواں سا تھا
یہ جو ابھی ہوا چلی ، تو ہے کہ تیری یاد ہے

میں ہوں کہ میرا حوصلہ ، تو ہے کہ تیرا سلسلہ
میں ہوں کہ میری خامشی ،  تو ہے کہ تیری یاد ہے

آنکھوں میں کچھ چمک اٹھا، دل میں چراغ جل گئے
یہ جو ہوئی ہے روشنی ، تو ہے کہ تیری یاد ہے

خاموشیوں میں دفن تھا سرگوشیوں کا قافلہ
کس نے کہا کہ زندگی ، تو ہے کہ تیری یاد ہے

تو نے کہا کہ عاشقی ، میں نے کہا جنون ہے
دل نے کہا کہ دل لگی ،  تو ہے کہ تیری یاد ہے

پہلو میں میرے تو ہے یہ تو کیسی جستجو ہے یہ
لگتا ہے اب کبھی کبھی ، تو ہے کہ تیری یاد ہے

یہ جو مرے حروف ہیں ، یہ جو مرا کلام ہے
یہ جو مری ہے شاعری ، تو ہے کہ تیری یاد ہے


(11)
کچھ کسی کو یہاں پتا ہی نہیں 
ایسا لگتا ہے کچھ ہوا ہی نہیں

کتنا آسان ہو گیا ہے فساد
جیسے اس جرم کی سزا ہی نہیں

عشق کرنے کے بعد بھی کچھ لوگ
یہ سمجھتے ہیں کچھ کیا ہی نہیں

دیکھنا، دیکھ کر پلٹ جانا
جیسے وہ مجھ کو جانتا ہی نہیں

جیسے ہر شخص ہو گیا پتھر
اب تو یہ شہر بولتا ہی نہیں

سب ہیں اپنے خدا کے سایے میں
جیسے میرا کوئی خدا ہی نہیں

کتنے خانوں میں بٹ گئی ہے زمیں
آسماں تیری انتہا ہی نہیں


(12)
قطرہ قطرہ مری آنکھوں میں لہو اترا ہے
یہ ترا درد ہے سینے میں کہ تو اترا ہے

ہجر کا شور بھی ہلکا ہوا لمحہ لمحہ
رفتہ رفتہ مرے زخموں کا رفو اترا ہے

خانۂ دل میں نہاں خانۂ ویرانی ہے
ایسا لگتا ہے کوئی عالم ہو اترا ہے

سر پٹکتی رہیں موجیں پہ تسلی نہ ہوئی
اب سمندر میں کوئی تشنہ گلو اترا ہے

پھر تصور میں وہی موسم گل کا منظر
پھر طبیعت میں وہی رقص نمو اترا ہے


یہ غزلیں آپ کو کیسی لگیں؟ انہیں کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟