غزل : قیصر شمیم، کولکاتا، مغربی بنگال، انڈیا

ہم نے جو راہ منتخب کی ہے
یاد رکھنا بڑے غضب کی ہے

جان کی اپنی، فکر کب کی ہے
ہم نے کس سے اماں طلب کی ہے

جانتے ہیں سبب تباہی کا
کب ہمیں جستجو سبب کی ہے

عاشقوں کی شناخت ہے کچھ اور 
نسل کی ہے نہ وہ نسب کی ہے

بے ادب کیوں وہاں رہے کوئی
شرط اول جہاں ادب کی ہے

اک سہارا اسی کا ہے قیصرـؔ
یاد جو دل میں اپنے رب کی ہے

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟