غزل : صدیق فنکار، راولپنڈی، پاکستان
ہمارے روبرو کچھ موم ہو کر آئے ہیں پتھر
خلوصِ فن سے یارو ہم نے یہ پگھلائے ہیں پتھر

بھلے دن ہیں گلے ملنا بھی ان کا دیکھ لیں جن کو
برے دن تھے تو دیکھا تھا اٹھا کر لائے ہیں پتھر

میں اُن دشوار رستوں سے گزر کر آ ہی پہنچا ہوں
مری راہوں میں یاروں نے بہت اٹکائے ہیں پتھر

یہ ہے ٹوٹا ہوا یوں تو مگر بکھری نہیں کرچیں
اگرچہ شیشۂ دل سے کئی ٹکرائے ہیں پتھر

وہ جن کے واسطے ہم نے زمانہ ایک ٹھکرایا
اُنہی کے ہاتھ سے رہ رہ کے ہم نے کھائے ہیں پتھر

تراشوں اپنے ہاتھوں سے انہیں پھر میں خدا مانوں
دلِ فنکارؔ کو اتنے نہیں یہ بھائے ہیں پتھر


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟