غزل : سید انوار الحق سید، ہری پور، پاکستان
کتابِ دہر میں حالات لکھ رہا ہے کوئی
شبِ وصال کے لمحات لکھ رہا ہے کوئی

کہیں پہ فاقہ کشی ہے کہیں پہ آہ و فغاں
دکھی دلوں کے یہ جذبات لکھ رہا ہے کوئی

بدل رہا ہے مؤرّخ حقیقتوں کے نصاب
تنزلی کو کمالات لکھ رہا ہے کوئی

لکھی کسی نے شکایت شبِ فراق کی تو
دلوں کے زخم کو سوغات لکھ رہا ہے کوئی

جہاں میں بیچ دی ناموس ہم نے آبا کی
ہماری ذات کی اوقات لکھ رہا ہے کوئی


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟