غزل : افضل چوہان، مظفر گڑھ، پاکستان

کیا سمٹتے دوستو اتنے بڑے پھیلاؤ میں
ہم الجھ کر رہ گئے تھے عشق کے الجھاؤ میں

آگہی رب کی عطا تھی جو مسخر نہ ھوئ
طاق اہل جہل تھے سب اپنے اپنے داؤ میں

جب طبیب آیا تو ہچکی لے کے رخصت ھوگیا
ضبط سانسیں لے رھا تھادرد کے ٹھہراؤ میں

عشق تھا جیسے سمندر داستاں میں اور تم
میں بھنور کی قید میں تھااور تم تھے ناؤ میں

چل دئیے افضل نظرانداز کر کے کیوں ہمیں
ہم تو سب کچھ بھول بیٹھے تھے تمہارے چاؤ میں

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟