غزل : وسیم فرحت کارنجوی، امراوتی، مہاراشٹر، انڈیا
تمہارا وعدئہ فردا کبھی وفا نہ ہوا
مزاج ِ جور بھی تدبیر آزما نہ ہوا

خوشا وہ آنکھ جسے تیری دید مل جائے
زہے وہ دل کہ جو درماندئہ وفا نہ ہوا

ہزار ساعت ِ خوش بخت کے مقابل،دل
بوجہء دولت ِ اندوہ ،بد مزہ نہ ہوا

وہ دیکھ سحر ِ رمیدہ کی پھر خبر آئی
وہ پھر چراغ ِ شب ِ غم ترا مرا نہ ہوا

اگر نکل ہی پڑے ہو تو پھر سفر کیسا
غبار ِ راہ کبھی عزم سے بڑا نہ ہوا

یہ کج  کلاہی تری خوب ہے ولے فرحتؔ
عیوب مند زمانے کو اک بہانہ ہوا


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟