غزل : ایم نصراللہ نصر، شب پور، ہوڑہ، مغربی بنگال،انڈیا
غم کی سوغات سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں
زخم کی بات سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں

بھوک ‘ افلاس ‘ تشدد یہ تظلم ہر سو
تلخ حالات سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں

حسن اخلاق میں ‘ کردار میں پھولوں کی مہک
آپ کی ذات سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں

پیرہن میں کئی پیوند ‘ شکم پر پتھر
صبر کی بات سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں

روز ملنا سرِ بازار ‘ جدا ہو جانا
یوں ملاقات سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں

اتنے آنسو تو مرے روز نکل جاتے ہیں
ایسی برسات سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں

قتل انسان کا اے نصرؔ کہاں جائز ہے
ایسے جذبات سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟