اردو کا عظیم سائنس فکشن نگار: ابن صفی ۔ خورشید اقبال، کانکی نارہ، مغربی بنگال، انڈیا


اردو ادب کا دامن بہت وسیع ہے۔ اس میں ادب عالیہ کے علاوہ رومانی، تاریخی، مہماتی، جاسوسی، ڈرائونی اور فنطاسی کہانیاںاور ناول لکھے جاتے رہے ہیں۔اردو کے رسائل اورڈائجسٹیں ان مختلف اقسام کی کہانیوں سے بھری رہتی ہیں ۔ لیکن ایک  صنفِ ادب ایسی ہے جو مغرب میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی دیگر کئی دوسری زبانوں میںبھی کافی مقبول و مرغوب ہوتے ہوئے ،اردو میں تقریباً ناپید ہے۔۔  ۔اور یہ صنف ہے۔۔۔۔ سائنس فکشن!  
یہ سچ ہے کہ حقیقی سائنس فکشن(True Science Fiction)   کا وجود اردو ادب میں تقریباً عنقا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ 
اردو کے مصنفین اور قارئین کو سائنس فکشن میں دلچسپی کیوں نہیںہے۔اس کے پیچھے کئی ثقافتی اور مذہبی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ہند وپاک میں اردو کی مقبول ترین صنف شاعری ہے اور بڑے شعراء مقبولیت میں روس کے مایاکووسکی یا وائیسوٹسکی سے کم نہیں ہیں۔ایک بڑے مشاعرے میں ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے جو کسی طرح کسی راک کنسرٹ سے کم نہیں ہوتا ہے۔ظاہر ہے اس کے بعد ادب کی دوسری اصناف کے پنپنے کے لئے بہت کم جگہ بچ پاتی ہے۔آج کے زمانے میں پاکستان میں پروفیشنل رائٹر کے طور پر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے بمقابلہ غزل کے شاعر کے۔ایسے میں کوئی بھی ادب کے اصل دھارے کو چھوڑ کر سائنس فکشن کو اپنانا نہیں چاہے گا جس کے شائقین تو ابھی مغرب میں بھی اقلیت میں ہیں۔دوسرے یہاں سائنس میں بھی لوگوں کی دلچسپی بے حد کم ہے۔ 
سائنس فکشن کی تخلیق عام ادبی تخلیق سے تھوڑ ی مختلف ہے۔عام ادبی تخلیق کے لئے مصنف میں تخلیقیت کا مادہ ہونا ہی کافی ہے۔اگر کسی کی زبان اچھی ہے اور ذہن میں تخلیقی صلاحیت موجود ہے تو وہ اپنی استعداد کے مطابق اچھامصنف یا شاعربن سکتا ہے۔لیکن سائنس فکشن لکھنے کے لئے ان خوبیوں کے علاوہ مصنف میں سائنسی قابلیت بھی ہونی چاہئے، اسے سائنس کا اچھا خاصا علم ہونا چاہئے،اس کے اندر اتنی صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ مستقبل کو visualize کر سکے۔ سائنس فکشن نگار کا ذہن کسی سائنسداں کی طرح ہی کام کرتا ہے۔وہ نت نئی ایجادات کا خاکہ اپنے ذہن میں تیار کرتا ہے پھر وہ ان ایجادات کے انسانی زندگی اور معاشرے پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیتا ہے۔
اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سائنس فکشن نگار بننا کتنا مشکل کام ہے ۔ادیب تو کوئی بھی وہ شخص بن سکتا ہے جس کے اندر تخلیقیت موجود ہو لیکن سائنس فکش نگار بننا ایک مشکل امرہے۔اس کے لئے سائنسی بصیرت لازمی شے ہے۔ہر سائنس فکشن نگار ادیب ہوتا ہے لیکن ہر ادیب سائنس فکشن نگار نہیں ہوسکتا۔
جس قوم میں سائنسی بصیرت کی ہی کمی ہو،سائنس فکشن کی تخلیق وہاں مشکل ہے۔یہی وجہ ہے پوری اسلامی دنیا میں اس صنف کا قحط ہے۔عرب دنیا میںتو تھوڑی بہت مثالیں مل بھی جاتی ہیں لیکن فارسی میں یہ تقریباً ناپید ہے۔
اردو میں سائنس فکشن کی ابتدا کا سہرا منشی ندیم صہبائی (فیروزپوری) کے سر ہے۔انہوں نے 1930 کے عشرے میں ایک جاسوسی ناول’’ نقلی رئیس‘‘ لکھاتھا  جس میں سائنس فکشن کے عناصرموجود تھے۔دوسرانام خان محبوب طرزی کا ہے جنہوں نے کئی سائنسی ناول لکھے ۔تیسرا نام اظہار اثر کا ہے جنہوں نے تقریباً 50سے زیادہ سائنسی ناول لکھے ہیں۔
لیکن اردو زبان میںسائنس فکشن کا سب سے درخشاں ستارہ ابن صفی ہیں۔
ابن صفی ان کا اصل نام اسرار احمد تھا ۔ وہ26 ؍ جولائی 1928 ء کو الہٰ آباد کے نارا نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام صفی اللہ اور ماں کا نام نذیرا بی بی تھا۔1948 ء میں انہوںنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی۔اے پاس کیا ۔ ملک کے بٹوارے کے بعد کے حالات نے انہیں اگست1952ء میں پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔1954ء میں جب کہ ان کی عمر صرف 26سال تھی، پورے بر صغیر میںان کے جاسوسی ناولوں کی دھوم تھی۔لوگ ان کے ناولوں کے انتظار میں رہا کرتے تھے اورناولوں کی عدم دستیابی کی صورت میں وہ انہیں بلیک سے خریدا کرتے تھے۔ان کی جاسوسی بصیرت کا ہر کوئی معترف تھا۔یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے جاسوسی ادارےISI   نے 1970 ء میں انہیں اپنا مشیر بنا لیاتھا اورمشکل کیسوں میں ان سے مشورہ لیا جاتا تھا۔اردو کا یہ مایہ ناز ادیب 28 برسوں تک اپنے قلم کا جادو جگاتا رہا ۔  ابن صفی کا کوئی بھی ہم عصر ان کے جیسی بلندی اور سرفرازی حاصل نہ کر سکا۔ان کے کردار ’کرنل فریدی‘ ،  ’کیپٹن حمید‘ ،  ’قاسم‘  اور ’عمران‘  وغیرہ اس قدر مقبول ہوئے کہ لوگ انہیں زندہ شخصیات سمجھنے لگے۔افسوس کہ اس عظیم شخصیت کو حیات کے دن بہت کم ملے تھے۔26؍جولائی1980ء کو ،عین اپنے 52 ویںسالگرہ کے دن ابن صفی کا انتقال ہو گیا۔انہیں لبلبہ کا کینسر تھا۔
ابن صفی نے 245   جاسوسی ناول لکھے جن میں 125 جاسوسی دنیا(فریدی حمید سیریز) کے ناول اور 120 عمران سیریزکے ناول تھے۔ان ناولوں میں سے 70 ناولوں کوسائنس فکشن کے ضمرے رکھا جاسکتا ہے۔ابن صفی کے ناول Pureسائنس فکشن نہیں ہوتے تھے بلکہ ان میں جاسوسی پلاٹ کے ساتھ سائنس فکشن کو اس طرح بن دیا جاتا تھا کہ پڑھنے والا سوچتا رہ جاتا تھا کہ انہیں جاسوسی ناول کہے یا سائنس فکشن۔ دراصل یہ ’’جاسوسی سائنس فکشن ‘‘ تھے جنہیں آج کے زمانے کی اصطلاح میں ہم Spy-Fi کہہ سکتے ہیں۔دراصل اردو میں ’’جاسوسی سائنس فکشن‘‘ کی بنیاد ابن صفی نے ہی رکھی۔بعد میں اکرم الٰہ آبادی ، ایچ اقبال اور مظہر کلیم ان کے نقش قدم پر چلے۔
ابن صفی کی کہانیا ں بھوت پریتوں اور توہمات کا مذاق اڑاتی ہوئی ہر شے کی سائنسی توضیح پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ان کہانیوں میںبے شمار انوکھے سائنسی تصورات دیکھنے کو ملتے ہیں۔
1953 ء میں شائع ہونے والا ابن صفی کا ناول ’’موت کی آندھی‘‘ اس نوعیت کا پہلا ناول تھا جس میں ایک ایسا فولادی انسان (آج کی اصطلاح میں روبوٹ) موجود ہے جو مشین سے کنٹرول ہوتا ہے اور انسانوں کی بُو پاکر انہیں چیر کر دو ٹکرے کر دیتا ہے۔اس فولادی انسان کی تخلیق دراصل کچھ سر پھرے سائنسدانوں نے کی تھی جو پوری دنیا پر قابض ہونا چاہتے تھے۔
ان کے شعلہ سیریز کے ناولوں (جن میں چار ناول شامل ہیں: پہلا شعلہ، دوسرا شعلہ، تیسرا شعلہ اور جہنم کا شعلہ) میں ایسی مہلک کرنوں کا ذکر ہے جن سے صرف چمڑے کا لبادہ پہن کر ہی بچا جا سکتا ہے۔ناول’’ طوفان کاا غوا ‘‘میں ایک فولادی آدمی کا تصور پیش کیا گیا ہے جسے ابن صفی نے ’’فولادمی‘‘ کا نام دیا ہے یعنی فولاد کا بنا ہوا آدمی۔فولادمی در اصل ایک فولاد کا بنا روبوٹ ہے جسے چند بدمعاش دور بیٹھے کنٹرول کرتے ہیں۔ 
’’خطرناک لاشیں‘‘ میں ایک یہودی سائنسداںحرکت قلب کے بند ہوجانے کی وجہ سے مرنے والے انسانوں کی مکمل برین واشنگ کر کے انہیں پھر سے زندہ کر دیتا ہے۔وہ اپنا ماضی بھول جاتے ہیں اور ایک بالکل نئی شخصیت کے طور پر ’’دوسرا جنم‘‘ لیتے ہیں۔وہ پاگل سائنسداں اس طرح دنیا کے تمام برے انسانوں کو اچھے اور نیک انسانوں میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
ان کے ناولوں میں عالمی مجرموں کی ایک تنظیم نے ’’زیرو لینڈ ‘‘ کے نام سے ایک نیا ملک بسارکھاہے۔ وہ لوگ دنیا بھر سے چیدہ چیدہ سائنسدانوں کو اغوا کے زیرو لینڈ لے جاتے ہیں اور ان سے نت نئی ایجادات کروا کر ان کااستعمال کر کے اپنی طاقت بڑھاتے ہیں۔
ناول ’’زمین کے بادل‘‘ میں زیرو لینڈ کا منظر دکھایا گیا ہے جس کے اوپر مصنوعی بادل چھائے رہتے ہیں جن کی وجہ سے وہاں پرواز کر نے والے طیارے اس علاقے کو نہیں دیکھ پاتے ہیں۔وہ لوگ اڑن طشتریوں کا استعمال کرتے ہیں جنہیں دوسرے ملکوں کے راڈار اسکرینوں پر نہیں دیکھا جا سکتااور دنیا والے انہیں دوسری دنیا کے لوگوں (Aliens)کے جہاز سمجھتے ہیں۔احکامات کی ترسیل کے لئے زیرو لینڈ والے ایک طرح کا اسپونج نما ٹرانسمیٹر استعمال کرتے ہیں۔ یہ دیکھنے میں بے کار سے اسپونج ہیں لیکن انہیں  ایک خاص طرح کے محلول میں ڈبوتے ہی یہ ٹرانسمیٹر میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور آوازوں کی ترسیل کرنے لگتے ہیں۔۔ یہاں کے لوگوں کے پاس گرز نما آلے ہیں جو گولیوں کے رخ تبدیل کردیتے ہیں۔وہاں ایسے پرندے پائے جاتے ہیں جن کی آنکھوں میں کیمرہ فٹ ہوتا ہے اور جو جاسوسی کا کام انجام دیتے ہیں۔زیرو لینڈ کی سربراہ ’تھریسیا بمبل بی آف بوہیمیا‘ نامی ایک بے حد خطرناک لیکن حسین عورت ہے جس کے پاس چنگاریاں اگلنے والی پستول، لیزر گن اور ایسی ہی دیگرلاتعداد gadgets   موجود ہوتے ہیں۔لیزر گن کا تصور ابن صفی نے اس زمانے میں پیش کیا تھا جب لیزرشعاعیں ابھی اپنے ابتدائی تحقیقی مراحل میں تھیں لیکن ابن صفی نے ان شعاعوں کی تباہکاریوں کا بالکل صحیح تصور پیش کردیا تھا۔
ابن صفی کے دیگر مشہور سائنسی ناول ’’پیاسا سمندر‘‘ ،  ’’نیلے پرندے‘‘،  ’’پرچھائیوں کے حملے‘‘،  ’’پاگل کتے‘‘،  ’’ریشوں کی یلغار‘‘،  ’’جنگل کی شہریت‘‘،  ’’تین سنکی‘‘،  ’’دلچسپ حادثہ‘‘ ،  ’بے آواز سیارہ‘‘  ،  ’’روشن ہیولیٰ‘‘،  ’’آتشی بادل‘‘،   ’’تاریک سائے‘‘،  ’’سہ رنگی موت‘‘  اور  ’’متحرک دھاریاں‘‘  وغیرہ ہیں۔
ابن صفی اپنے ناولوں میں نفسیات کا استعمال بھی بخوبی کیاکرتے تھے۔ ان کے ایک ناول ’’جہنم کا شعلہ ‘‘ کی کہانی دوہری شخصیت(Split personality) کے موضوع پر مبنی ہے جس میں ایک معصوم سی لڑکی اپنی دوسری شخصیت میں مجرموں کے خطرناک ٹولے کی سربراہ ہے۔ ایک مجرم جب ٹارچر کے باجود زبان نہیں کھولتا ہے تو اسے لٹا کر باندھ دیا جاتا ہے اور اس کی پیشانی پر پانی کی بوندیں دھیرے دھیرے ٹپکائیجاتی ہیں۔تھوڑی ہی دیر میں وہ مجرم چیخنے لگتا ہے اور زبان کھول دیتا ہے۔ یہ نفسیاتی حربہ ہے جو ابن صفی استعمال کرتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان ناولوں کےسبب ابن صفی نے اردو سائنسی ادب میں وہ مقام پایا ہے کہ رہتی دنیا تک جب بھی اردو سائنس فکشن کی بات کی جائے گی، ابن صفی کا نام سر فہرست رکھا جائے گا۔ 


یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟