ابن صفی کے ناول، میرا شوق ، میرا جنون۔ ڈاکٹر سید احمد قادری، گیا،بہار، انڈیا


ابن صفی ایک ایسا نام ہے‘ جِسے بچپن سے سُنا اور پڑھا اور آج تک بھُلا نہیں پایا ۔ ابن صفی اور ان کے ناولوں کو ہمارے نقاد اردو ادب میں کوئی مقام دینے کو تیار نہیں ہیں‘ لیکن میرا دعویٰ ہے کہ مقام نہیں دینے کے باوجود ابن صفی نے اپنے ناولوں کے حوالے سے اردو ادب میں اپنی اتنی اہم مستحکم اور اعلٰی مقام بنا لیا ہے جو اردو ادب میں اچھّے اچھوں کو نصیب نہیں ہے۔
     ابن صفی کی پیدائش اور وفات اتفاق سے 26 ؍ جولائی ہے ۔ اس لحاظ آج کا دن انھیں یاد کئے جانے کا سب سے بہتر دن ہے ۔
 ان کا پہلا جاسوسی ناول ’’ دلیر مجرم‘‘مارچ 1952 ء  میں منظر عام پر آیا تھا اور آخری ناول جسے انھوں نے جولائی میں ہی مکمل کر لیا تھا ، وہ ’’ صحرائی دیوانہ‘‘  کے نام سے اکتوبر 1980 ء میں ان کے لاکھوں چاہنے والوں کے درمیان سامنے آیا تھا ۔ ان کی پیدائش بھارت کے الہ آباد کے ایک قصبہ ’’ نارہ ‘‘ ہوئی تھی اور ان کا انتقال پاکستان کے شہر کراچی میں ہوا تھا ۔ ان کے کل 249 ناول شائع ہوئے ۔ جنھیں لوگ آج بھی تلاش کرتے ہیں ، اور ان کے مطالعہ وہی سحر اور نشہ لوگ محسوس کرتے ہیں ، یعنی جو پہلے تھا سو اب بھی ہے ۔ان کے ناولوں کے شیدائی جغرافیائی حدود توڑ کر پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے ۔ اوسلو یونیورسٹی کے شعبئہ اردو کے صدر پروفیسر فین تھیسس ابن صفی کے زبردست مداحوں میں تھے ۔ انھوں نے ابن صفی کے ناولوں کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا موازنہ اگاتھا کرسٹی سے کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’ ابن صفی کی کتابوں میں دو ایک پہلو ایسے ہیں ، جو اگاتھا کرسٹی میں نہیں ہیں ۔ ایک تو طنز و مزاح ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو ان کی زبان رواں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ انھوں نے ایسا کارنامہ انجام دیا ، جو شائد کسی اور نے انجام نہیں دیا ۔ یاد رہے کہ انھوں نے مزاح اور سسپنس کو یکجا کیا ہے‘‘ ۔
 حقیقت یہ ہے کہ ابن صفی کی تحریر میں وہ نشہ تھا جوبہت سارے افسانے ‘ ناول اور اشعار کو یکجا کرنے کے بعد بھی نہیں ملا۔ کیا جادو تھا کہ جس نے بھی ایک بار ابن صفی کو پڑھ لیا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی تحریرکے سحر میں کھو گیا اور نشہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اِسے جتنا پیا جائے ‘ اس کی طلب بڑھتی جاتی ہے اور یہی خوبی تھی ‘ ابن صفی کی تحریروں کی ’کہ ایک ناول پڑھ کر ختم کیا اورفوراً، دوسرے ناول کی طلب ہوتی ‘ پوری پوری رات بجلی نہیں رہنے پر ‘ لالٹین کی روشنی میں ابن صفی کا ناول پڑھتا اور نیند کوسوں دور بھاگ جاتی۔
ابن صفی کے ناولوں کوپڑھنا،میراجنون تھا،اوریہ جنون میرے اندر کس طرح پیداہوا‘اس کا دلچسپ واقعہ میں نے عرصہ قبل یعنی ۱۹۸۵ء میں شائع ہونے والے اپنے پہلے افسانوی مجموعہ ’’ریزہ ریزہ خواب‘‘میں اس طرح بیان کیاہے۔
’’ان ہی دنوں میری باجی کو کہانیوں کاشوق پیداہوا اوروہ ابّاجان سے بچوں کارسالہ’’کھلونا‘‘منگانے لگیں۔باجی کارعب ایساغالب تھاکہ میں ان سے’’کھلونا‘‘لے کرپڑھ نہیں سکتاتھا۔اسی لئے میں ان کے سونے انتظارکرتارہتااورجب وہ سوجاتیں تومیں چپکے سے ان کے سرہانے سے کھلونا،اٹھاتااورپڑھتا۔اسی طرح گرمی کی ایک دوپہرکوبھی میں’’کھلونا‘‘لے کرپڑھ رہاتھا کہ اتنے میں ان کی نیندٹوٹ گئی اوروہ مجھ سے’’ کھلونا‘‘مانگنے لگیں‘اس وقت میں ایک کہانی میں منہمک تھا،میں نے کہا،میں ذرایہ کہانی پڑھ لوں تودیتاہوں ،لیکن وہ واپس لینے کو بضد ہوگئیں‘ نتیجہ میں ہم دونوں میں لڑائی ہوگئی‘ لڑائی کیا ہوئی ‘ باجی نے اپنی عادت کے مطابق میری پٹائی کردی ۔ میں رونے لگا۔ بات ابّا تک پہنچی ‘  انھوں نے باجی کو ڈانٹ پلائی اور مجھے چپ کرانے اور بہلانے کے خیال سے اپنے بُک شِلف سے ابن صفی کے دو ناول دئے اور کہا ‘‘ لو‘ تم انھیں پڑھو۔‘‘
ظاہر ہے اس عمر میں یہ کتابیں میرے پلّے کیا پڑتیں‘ لیکن میں نے باجی کو مرعوب کرنے کے لئے کہ دیکھو‘ میں ایسی کتابیں پڑھ رہا ہوں‘ جو ابّا پڑھتے ہیں ۔ پڑھنا شروع کیا‘ پڑھنا کیا شروع کیا‘ بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ورق گردانی شروع کی اور اس ورق گردانی میں کبھی کبھاردو چار ورق پڑھ بھی لیتا‘ اور انھیں دو چار اوراق نے گویا مجھ پر جادو کر دیا ۔
قاسم کی غوں غاں ‘ اس کی حماقتیں ‘ عمران کا کھلنڈراپن‘ اس کی بے حد دلچسپ اور ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑ جانے والی باتیں ، حمید کا اسمارٹنس ،اس کی حرکتوں پرکرنل فریدی کی ڈانٹ پھٹکار ،رشیدہ اورانورکی نوک جھوک…ابتداء میں یہ سب مجھے بڑااچھالگا…ان کرداروں سے میری اتنی زیادہ دلچسپی بڑھ گئی کہ میں نے پوراناول پڑھنا شروع کردیا،باتیں کچھ سمجھ میں آتیں اورکچھ سرکے اوپرسے گزر جاتیں ،لیکن دلچسپی میں کمی نہیں آئی ،بلکہ بڑھتی  چلی گئی اوردھیرے دھیرے مجھے کرنل فریدی کی آہنی اورمقناطیسی شخصیت میں دلچسپی پیداہونے لگی۔اس کی شخصیت نے مجھے سب سے زیادہ متاثرکیا۔اس کی بے پناہ صلاحیتیں،اس کی ذہانت،اس کاعلم،اس کاوقار،اس کی دوستی،اس کی دشمنی ……ان ساری خوبیوںنے مجھے کرنل فریدی کافین بنادیا اورشعوری ولاشعوری طورپر میں خود کواس کی شخصیت میں ڈھالنے لگا۔اس کے نئے نئے کیس ابّاجان کے خوف سے نصابی کتابوں میں چھپاچھپا کرپڑھتااورسوچاکرتاکہ میں بھی بڑاہوکرکرنل فریدی بنوں گااورملک وقوم اورسوسائیٹی کے کوڑھ کوان کے کیفرکردارتک پہونچاؤں گا۔لیکن ناول کی دنیااورحقیقی دنیامیں بڑافرق ہوتا ہے… یہاں ہرشخص کئی چہرے رکھتاہے، کبھی کچھ اورکبھی کچھ‘ جو نہیں رکھتے وہ مجبورہوکررکھنے لگتے ہیں اور جومجبور ہوکربھی نہیں رکھتے،ان کی قسمت میں دکھ ،مصیبتیں دردرکی ٹھوکریں ہوتی ہیں ۔شروع میں،میں نے ایسے کئی چہرے دیکھے تومجھے حیرت ہوئی،بہت افسوس ہوا اورپھرمیں عادی ہوتاگیا۔میرے اندرکاکرنل فریدی آہستہ آہستہ مرتاچلاگیا۔‘‘
ابن صفی نے ہزاروں ،لاکھوں قارئین کوجھوٹ، فریب، دھوکہ، استحصا ل، ظلم، تشدد ، جبر، اذیت، ا نتشار ، ا فراتفری ، درد و کر ب، گھٹن، مایوسی  اوربدعنوانیوں سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ دیاہے۔زندگی کی بہت ساری سچائیوں اورتلخ حقیقتوں سے روشناس کرایاہے،اتنی روشناسی اورحوصلہ دینے والاکردار میرے خیال میں اب تک اردوادب میں کوئی پیدانہیں ہواہے۔
میں اس بات کابھی اعتراف کرتاہوں کہ میں سائنس کاطالب علم رہاہوں اورآج جس حدتک اردوزبان کومیں جان سکاہوں اورسمجھ سکاہوں وہ ابن صفی کی دین ہے۔ایسی خوبصورت اورسادہ زبان وہ استعمال کرتے تھے کہ بہ آسانی سمجھ میں آجائے اور جس کی سمجھ میں آجائے وہ اس زبان کی سحر میں کھوجاتا۔
ابن صفی کواس دارفانی سے کوچ کئے کئی دہائیاں گزرچکی ہیں، لیکن اب تک کوئی دوسرا ابن صفی پیدا نہیں ہو سکا ۔ ایسا لگتا ہے کہ ابن صفی جن خصوصیات کاخزانہ لے کرپیداہوئے تھے وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ 'جاسوسی دنیا'آج اتنے سارے وسائل ہونے کے باوجوداپناوجودقائم نہیں رکھ سکا ۔یہ ابن صفی کے علم و فن کا ہی کمال تھاکہ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی زبان میں بھی کوئی ابن صفی نظرنہیں آتا اورلوگ آج بھی کرنل ونود کو ڈھونڈتے ہیں۔ابن صفی نے جتنے جیتے جاگتے کردار پیداکردیئے، ویسے کردار اتنے برسوں بعد بھی سامنے نہیں آسکے۔ابن صفی اردوزبان و ادب میں ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہین گے ، اس کا مجھے یقین ہے۔پاکستان میں راشد اشرف اور ہندوستان میں محمد عارف اقبال لگاتار ابن صفی پر کام کر رہے ہیں جو لائق تحسین ہے ۔ کئی زبانوں میں ان کے ناولوں کے ترجمے ہو رہے ہیں۔ 


یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟