کتب نما : صدف رنگ از فاروق جائسی ۔ مبصر: عظیم انصاری، جگتدل، مغربی بنگال، انڈیا

کتاب کا نام : صدف رنگ
شاعر : فاروق جائسی
ضخامت:             ۲۰۸
قیمت : ۳۰۰ روپئے
مطبع : عفیف پرنٹرس
مبصر: عظیم انصاری
’’صدف رنگ ‘‘ فاورق جائسی کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ اس سے قبل ۲۰۰۱ میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’ شفق رنگ‘‘ شائع ہو کر اہلِ ادب سے داد و تحسین حاصل کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے دونثری کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ’مطمح نظر ‘ ان کی تنقیدی مضامیں کا مجموعہ ہے اور ’’ شاہ علی جائسی ‘ ‘ فن اور شخصیت ایک تحقیقی کارنامہ ہے۔ ان دونوں نثری کتابوں کی بھی کافی پذیرائی ہوئی۔ لہذا ادبی دنیا میں فاروق جائسی کا نام اظہر من الشمس ہے۔
زیرِ تبصرہ مجموعے میں ایک حمد ، تین حمدیہ رباعیات ، ایک نعت پاک ، ایک سو آٹھ غزلیں اور ستر رباعیات شامل ہیں۔ وہ نہ صرف ایک اچھے غزل گو شاعر ہیں بلکہ رباعیاں بھی بہت اچھی کہتے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل ستر رباعیات اس بات کی شاہد ہیں کہ اس فن سے بھی انھیں کافی پیار ہے ۔ محترم ناوک حمزہ پوری کا کہنا ہے کہ ’’ مجھے فاورق جائسی زیادہ عزیز اس لئے بھی ہیں کہ رباعی کی احیائی تحریک میں جو چند نفوس قدسیہ شامل ہیں ان میں موصوف کا اہم اور قابلِ ذکر مقام ہے۔‘‘
جہاں تک فاورق جائسی کی غزل گوئی کا تعلق ہے تو ان کے یہاں روایت کی پاسداری ہے۔ وہ غزل گوئی کے آداب سے مکمل طور سے واقف ہیں۔ آداب سے مراد صرف یہ نہیں کہ مروجہ عشقیہ اور اخلاقی مضامین کو خوبصورت ڈھنگ سے پیش کیا جائے بلکہ اس میں نئے مضامین بھی شامل ہوں اور ان کو ہنر مندی کے ساتھ برتا جائے۔ فاورق جائسی کے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاسداری کے ساتھ ساتھ تازگی ٔ مضمون اور ندرت الفاظ کو یکجا کرنے کی صرف کوشش ہی نہیں کرتے بلکہ آج کی بدلتی ہوئی دنیا ِاخلاقی قدروں کا زوال اور زندگی سے جڑے ہوئے مسائل سے کما حقہ واقف بھی ہیں اوراپنے تجربات و مشاہدات اور تجربات کو بروئے کار لا کر اپنے نکتہ نظر کو واضح طور پر اجاگر کرتے ہیں وہ زمانے کے نشیب و فراز سے پوری طرح واقف ہیں لہذا اپنے مطمح نظر کی تر جمانی بہت خوبصورت ڈھنگ سے کرتے ہیں۔ چند اشعار ملا حظہ ہوں
اب دعائوں کے سائے کو ترسیں گے ہم 
اب کہاں گھر میں کوئی بڑا رہ گیا
دعائیں کرتا ہوں پھر سے وہ دن پلٹ آئیں
جو یاد آتا ہے گزرا ہوا زمانہ مجھے
 جانے اس پار کے حالات ہوں کیسے اب کے
کشتیوں کو سرِ ساحل نہ جلایا جائے
جو اک ہی در پہ جھکتا ہے تو با توقیر لگتا ہے
جو ہر اک در پہ جھکتا ہے وہ سراچھا نہیں لگتا
فاورق جائسی کی شاعری میں کلاسیکی رچائو بہت زیادہ ہے انھوں نے حسن و عشق کے مضامین کو اتنی مہارت سے باندھا ہے کہ بلاغت کا حق ادا ہو گیا ہے اوراگر کہیں شوخی ابھرتی بھی ہے تو وہاں متانت برقرار ہے۔ ان کی غزلوں میں یہ ہنر مندی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ چند اشار ملا حظہ ہوں۔
نہ جانے کتنے مناظر دکھا گیا فاروق ؔ
کسی کی جھیل سی آنکھوں میں ڈوب جانا مجھے
کیف آور ہے بہت ان سے بچھڑ کر ملنا
اور اک بار بچھڑ کر انھیں پایا جائے
یک طرفہ تعلق کا مزہ خوب ہے فاورقؔ
فون اُن کو کیا جائے مگربات نہ کی جائے
بچھڑے رہے ہو تو ڈھونڈ کر بتا دینا
جو میرے جیسا کہیں کوئی جانثار ملے
 اسے پانے میں اک لذت غضب کی ہے
اسے پانے کو ، کھونا چاہتا ہوں
فاورق جائسی کو اپنی ملازمت کی وجہ سے کئی شہروں میں ٹرانسفر ہونا پڑا ۔اس لئے کہں نہ کہیں ان کے ذہن میں سفر ، مسافر ، راستہ ، غبار اور منزل جیسے الفاظ چپک کر رہ گئے ہیں جو اُن کی شاعری میں شعوری بالا شعوری طور پر در آتے ہیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ دوسرے شہروں میں رہنے کی وجہ سے اُن کی شخصیت میں رواداری بھی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ علم و اخلاص کسی بھی شخصیت کو قابلِ احترام بنا دیتی ہے۔ میں یہ باتیں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ مندرجہ بالا الفاظ فاورق جائسی کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے مزاج سے بھی گہری مناسبت اور مطابقت رکھتے ہیں۔ اس قبیل کے چنداشعار ملاحظہ ہوں   ؎
سفر ہی باندھ لیا پائوں میں توڈرنا کیا
سلگتی دھوپ میں کوئی شجر ملے نہ ملے
ہم اندھیروں ہی میں صحراکا سفر کرلیں گے
روشنی کے لئے خیمہ نہ جلایا جائے
 غبار بن کے ہی ہمراہ چلنے لگتا ہوں 
میں دیکھتا نہیں حسرت سے کارواں کی طرف
چل پڑیں تو منزل خود پاس آنے لگتی ہے
جب قدم نہیں اُٹھتے ، راستہ نہیں ملتا
 نہ سائبانِ شجر میں ، نہ گھر میں رہناہے
تری تلاش ہے مجھکو ، سفر میں رہنا ہے
اس بات سے کوئی شاید ہی انکار کرے کہ اشاریت اور رمزیت غزل کے حسن کو نکھار نے میں کافی حد تک معاون ہیں۔ غزل کی ایک مخصوص زبان ہوا کرتی ہے اور اس زبان کو سلیقے سے برتنا بہت بڑی بات ہے۔ سادگی ، صفائی اور بر جستگی غزل کی جان ہوتی ہے۔ فاورق جائسی غزل کی اس زبان سے پوری طرح واقف ہیںاور اپنے مشاہدے و تجربات کو بروئے کار لا کر اس میں چار چاندلگا دیتے ہیں۔ چند اشعار ملا حظہ کریں۔
مری نظر میں ہے اب رہگذارِ مستقبل
تمازتِ غم ماضی پہ خاک ڈالتا ہوں
احساس کا آئینہ سلامت ہے ابھی تک
لوگوں نے اِدھر سنگ اُچھالے تو بہت ہیں
اب تو سارے شہر میں تاریکیاں آزاد ہیں
قید ہے چند آنگنوں میں روشنی کا سلسلہ
انداز ِ بیاں کی دلکشی ، شخصیت کی پختگی وذہنی متانت اور فکروفن کے شعورنے فاروق جائسی کی شاعرانہ انفرادیت کو مکمل طور سے برقرار رکھا ہے۔ وہ جہاں حسن وعشق کی کیفیات کو سلیقے سے پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ وہیں اس صدی کے درد کو بھی بہت پرُا ثر ڈھنگ سے اپنی شاعری میں پیش کرتے ہیں۔جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح اپنے عہد میں سانس لیتے ہیں ۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں۔ 
 کوئی ناانصافیوں کے آئینوں کو توڑ دے 
ہے انہیں سے منعکس دہشت گری کا سلسلہ
بجھ گیا کیوں چراغ طاق ِ وفا 
آج کے اس دورکی ہوا جانے
جب احتجاج کاکوئی اثر کسی پہ نہیں 
خموش رہ کے اسی شور و شر میں رہنا ہے
قتل تو ہوتے رہے لیکن کبھی ہجرت نہ کی
اے وطن ! کیا یہ نہیں ہے اپنی قربانی بہت 
اپنے دشمن کے مقابل میں جو یکجا رہتے 
سر خرو آج زمانے میں عرب سب ہوتے
فاروق جائسی کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ان کی سادہ بیانی ہے۔ وہ اپنے جذبات واحساسات کو بہت قرینے سے براہ راست قاری تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ غیر ضروری ابہام اور صناعی سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن تازگی و شگفتگی کو کم نہیں ہونے دیتے ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔بلکہ اس کے لیے فنکاری چاہئے تجربے اور عمر کے ساتھ ان کے کلام میں بلا کی پختگی آگئی ہے اور یہی انداز فاروق جائسی کو معروف بنانے میں بہت حد تک معاون ثابت ہوئی ہے۔ 
غیرممکن ہے کہ اب ملنانہ ہو تم سے کہیں
میں بھی اس دنیا میں ہوں، تم بھی اسی دنیامیں ہو
نگاہ بھر کے دروبام دیکھ لینے دو 
پلٹ کے آؤں تو پھر میرا گھر ملے نہ ملے
حسرت ہو تمناؤں کا سیلاب ہو کیا ہو
تم زندہ حقیقت ہو کوئی خواب ہو کیاہو
اسی کے ابر ِ کرم کا مجھے سہارا ہے 
نہ کوئی پیڑ، نہ سایہ ، نہ سائباں میرا
تجدید تعلق لاکھ سہی ، کیفیت ِ دل پہلی سی کہاں
جو ٹوٹ کے پھرسے جڑجائے، ایساتوکوئی شیشہ ہی نہیں
فاروق جائسی کا زیرتبصرہ شعری مجموعہ انکی شاعرانہ صلاحیت کا مکمل غمازہے۔وہ نہ صرف ایک اچھے غزل گو شاعر ہیں بلکہ رباعی گوئی میں بھی وہ مشتاق ہیں۔اس مجموعے میں ستر عمدہ رباعیات اس بات کی شاہد ہیں کہ انہیں اس فن میںبھی ملکہ حاصل ہے۔ان کی شاعری میں جہاں روایت کی پاسداری ہے وہاں تازہ کاری بھی ہے۔ ان کا یہ تازہ مجموعہ احساس کی تابندگی کے ساتھ فنکارانہ چابکدستی کا عمدہ مثال ہے۔امید ہے کہ سنجیدہ حلقوں میں ’صدف رنگ ‘کی خاص پذیرائی ہوگی۔ 

یہ تبصرہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟