مرزا خلیل احمد بیگ: اسلوبیاتی تنقید کے پیش رو : ڈاکٹر وحید الحق ۔کانکی نارہ،مغربی بنگال، انڈیا
زبان بذات خود ایک لسانی معجزہ ہے۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو خارق عادت ہے یعنی اس کی تخلیق کسی ایک انسان کی کوششوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کی تشکیل و فروغ میں معاشرے کے تمام انسانوں کا تعاون رہاہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ زبان کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں بلکہ تمام افراد کی ذہنی صلاحیت کا ثمرہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ زبان کسی بھی لسانی معاشرے میں لاشعوری طور پر پروان چڑھتی ہے۔ معاشرے کے تمام افراد کا اس کے اجزاء پر اتفاق رائے ہوتا ہے۔ اس تناظر میں یہ کہنا ناحق نہیں کہ کسی ایک انسان کی کوئی زبان نہیں ہوتی، چوں کہ زبان معاشرے کے تمام افرد کے تعاون سے آگے بڑھتی اور ترقی کرتی ہے اس لیے یہ ایک سماجی حیثیت کی حامل ہے۔ اس کے بغیر دنیا آج بھی ترقی کی منزلیں طے کرنے سے قاصر رہتی۔ اگر زبان نہ ہوتی تو شاید ہم اپنے ماضی کی حقائق سے اب تک نابلد رہتے۔ زبان مثل عجائب گھر ہے جو ماضی کے واقعات و حوادث ، اہم شخصیات اور دنیا کی ترقی کی داستان کو محفوظ رکھتی ہے۔ایجادات ، سائنس و تکنالوجی کی حصولیابیاں ، محیرالعقل دریافتیں ، ہر نوع کے علوم و فنون کی باتیں اور ادبی کارناموں کو تاریخی صداقت سمجھ کر انھیں محفوظ رکھنے کا کام زبان ہی انجام دیتی ہے۔دنیا کے تمام ماہر لسانیات اس بات پر متفق ہیں کہ زبان ہی ایک ایسا ذریعۂ ترسیل ہے جو دنیا کے مختلف خطوں میں بود وباش اختیار کرنے والوں کو سیاسی، تجارتی، علمی، سماجی، اخلاقی اور قلبی سطح پر ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔انسان کو روحانی تسکین اور مذہبی عقائد کی خوشگوار روشنی زبان ہی عطا کرتی ہے۔ 
زبان محض ایک دن یا ایک مہینے کا حاصل نہیں ، اس کی تشکیل و ترتیب اور ترویج و اشاعت میں صدیاں گزرگئیں ، لیکن ہنوز معنی کے تقاضے برقرار ہیں اور لسانی جستجوو الفاظ کی ایجادات کا سلسلہ پیہم تیز رفتاری سے بڑھتا جا رہا ہے۔ زبان مشاہدے سے تجربے کی جانب لے جاتی ہے۔ مجاز کے توسط سے حقیقت تک پہنچاتی ہے۔ مفروضے سے معروضے کا پتا ملتا ہے۔ فکر سے اظہار، اور اظہار سے تحریر تک کے سفر میں زبان ہی معاون ہوتی ہے۔ ’فکر‘ کم و بیش سب کی یکساں ہوتی ہے لیکن اظہار کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ گویا طریقہ ٔ اظہار کی بنیاد پر دولوگوں میں فرق و امتیاز کا پایا جانا فطری امرہے۔ کسی خیال کو اگر کوئی شخص اپنے انداز میں بیان کرتا ہے، تو اسی خیال کا اظہار دوسرا شخص کسی نئے طریقے سے کرتا ہے اور اس کے لیے وہ آزادانہ طور پر مختلف الفاظ کی مدد لیتا ہے۔ لہٰذا، اب یہ ضروری سمجھاجانے لگا ہے کہ ادب کی تفہیم جس قدر ہئیتی، نفسیاتی، جمالیاتی، سماجیاتی، اور تاثراتی نظریات کی روشنی میں ہوتی رہی ہے ،اسی قدر زبان کے حوالے سے بھی اب کا جائزہ لیا جائے۔ یعنی ادب کی زبان کو لسانیات کے اصول و نظریات کی کسوٹی پر بھی پرکھا اور دیکھاجائے۔ تنقید کوئی جامد طریق کار نہیں ، اس میں امتداد زمانہ کے ساتھ ترقی کرنے کی صلاحیت حددرجہ موجود ہے۔ ہر نئے عہد میں یہ نئے علوم سے ہم آہنگ ہوکر، تنقیدی تقاضوں کو پورا کرنے میں، تنقید نگاروں کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ آج ادبی زبان کو اگر لسانیات کی روشنی میں جانچنے پر اتفاق رائے قائم ہو پایا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ادب کا خام مواد زبان ہے اور زبان کے ذریعہ تشکیل پانے والے کارناموں کا جائزہ اگر لسانی اصولوں کی مدد کے بغیر لیا جائے تو یہ ہماری تنگ نظری ہوگی۔آج ادبی تنقید میں متعدد علوم اور نئے نظریات سے مدد لی جانے لگی ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہیں کہ ہمارے زمانے کی تنقیدیں بین العمومی حیثیت کی حامل ہیں۔ آج کا نقاد، کل کے مقابلے زیادہ رواداری سے کام لے رہا ہے۔تنقید لکھتے ہوئے دیگر علوم سے استفادہ کرنے میں کراہت کی بجائے خوشی محسوس کرتا ہے۔ گویا آج علم و ادب کو کسی ایک مکتب فکر کے حصار میں قید کرنے کی بجائے ، آزادی عطا کی جارہی ہے۔ آج ایک علم کی مدد سے دوسرے علم کی تفہیم کا عام رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔ مرزا خلیل احمد بیگ کہتے ہیں کہ بیسویں صدی کے نصف دوم میں جس نئے شعبۂ علم نے ادبی تنقید کو حددرجہ متاثر کیا ، وہ لسانیات ہے۔ اس نے زبان کے نئے مفکرین ، مثلا ً ساسیور، دریدا، بلوم فیلڈ، سپیوک، آرکی بالڈ اے ہل، ڈیل ایچ، ہائمز، ہائمز، سال سپورٹا، جان ہولینڈر، اور رولاں ویلزوغیرہ کے تنقیدی نظریات کی مدد سے زبان کے توضیحی مطالعے کا آغاز کیا۔ اسی علم سے ایک نئی شاخ پھوٹی جسے اسلوبیات/ ادبی اسلوبیات/ لسانیاتی اسلوبیات کہا گیا۔ اس نے سائنسی بنیادوں پر تخلیقی ادب کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اس علم نے متن کے تجزیے کو بڑی اہمیت دی ، نیز تخلیق کار کے اسلوب بیان کی شناخت میں بہت کارگر ثابت ہوئی۔  
اظہار کے مختلف طریقوں کو لسانیات کی اصطلاح میں اسلوب کہتے ہیں ۔یہاں اسلوب سے مراد یہ بھی کہ کوئی شاعر یا انشاپرداز، افسانہ نگار، ناول نگار یا نقاد اپنی تحریروں کو مؤثر و جامع بنانے کے لیے کس نوع کی لفظیات کا انتخاب کرتا ہے اور انھیں معنی کا کون سا رنگ عطا کرتا ہے؟ کس حد تک الفاظ کو مجازی رنگ دے کر حقیقت کی دریافت کی جا سکتی ہے۔ اکثر ادب پاروں میں کلیدی الفاظ اپنے لغوی معنی سے تجاوز کرجاتے ہیں اور کسی نئے معنی کی تخلیق کرتے محسوس ہوتے ہیں۔الفاظ کو ادبی رنگ اسی وقت عطا ہوتا ہے جب وہ مجازی معنی بلکہ لغوی معنی سے الگ کسی نئے اور دل پزیر معنی کی تخلیق کرتے ہیں۔ اس طریق کار کو تخلیقی زبان کی اصطلاح میں زبان کا ناراست استعمال کہا جاتا ہے۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ ہر شاعر و ادیب اپنے اپنے اندز بیان اور انوکھی طرز گفتگو سے پہچانا جاتا ہے۔ اس انوکھے بیان ا ور مؤثر طرز گفتگو کو جو علم اپنے مطالعے کا مطمح نظر بناتا ہے اسے اسلوبیات کہتے ہیں۔ اسلوبیات دراصل لسانیات ہی کی ایک شاخ ہے جو ادبی شہ پاروں کے اسلوب بیان کا تجزیہ کرتی ہے۔ یہ امر حقیقت ہے کہ اردو میں اسلوبیاتی مطالعات نے فی الوقت کوئی طویل سفر طے نہیں کیا ہے ۔ تاہم گزشتہ چار پانچ دہائیوں سے اس کا سفر جاری ہے۔ بالخصوص اسلوبیات کا آغاز Bloom Field کی ایما سے ہوتا ہے جب اس نے زبان کے توضیحی مطالعات پر اصرار کیا ،نیز معنیاتی سطح پر اسلوب بیان کے توضیحی مطالعات کی افادیت سے باور کیا۔ اسی طرح اسلوبیات کو علاحدہ علم کی حیثیت سے مطالعے کی تحریک ٹامس اے۔سیبیوک (Thomas A. Sebook) کی کتاب 'Style in Language'  سے ملی ۔ یہ کتاب 1960 میں شائع ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ بالعموم یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اسلوبیات کا آغاز بیسویں صدی کی چھٹی دہائی سے ہوتا ہے۔اردو میں ادب پاروں کے اسلوبیاتی مطالعات کا آغاز 1960 کے بعد ہوتا ہے۔ اس کے آغاز کا سہرا ممتاز ماہر لسانیات پروفیسر مسعود حسین خان کے سر جاتا ہے جنھوں نے یوروپ اور امریکہ سے واپسی کے بعد اردو میں اسلوبیاتی تنقیدکی بنا ڈالی۔ انھوں نے اردو میں چند ایسے مضامین لکھے جو اسلوبیات کے حوالے سے مشعل راہ ثابت ہوئے۔ ان کے عزیز شاگر د بلکہ سچے شاگرد مرزا خلیل احمد بیگ ہیں جنھوں نے مسعود صاحب کے ادھورے کام کو آگے بڑھایا، یعنی لسانیات کی روشنی میں اردو زبان و ادب کے مطالعات کو فروغ دیا اور تنقید کی بعض نئی راہوں کا تعین کیا۔ بیگ صاحب کو مسعود صاحب نے علم و ادب کی جو راہ دکھائی تھی اس پر وہ آج بھی گامزن ہیں۔ اس رہ کے کئی سنگ میل طے کر چکے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید ان کی منزل ابھی باقی ہے۔  اردو زبان میں لسانیات (صرف و نحو، ٹوضیحی لسانیات، معنیات، نشانیات، کلامیہ، اسلوبیات وغیرہ) کے حوالے سے پیہم مضامین لکھتے رہے ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ گویا گزشتہ چالیس برسوں سے وہ اردو لسانیات کی خدمت کر رہے ہیں ۔ اگر انھیں پروفیسر مسعود حسین خاں صاحب کا سچا جانشیں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انھوں نے مسعود صاحب کی ایک ایک تحریر کا مطالعہ بڑی باریک بینی سے کیا ہے، اور اسلوبیات کا وہ علم جس کا آغاز اردو زبان میں مسعود صاحب کی مرہون منت ہے ، اس علم کو فروغ دینے میں مرزا خلیل احمد بیگ نے اپنی عمر کا خاصہ بڑا اور اہم حصہ صرف کیا ہے۔ آج اردو میں اسلوبیات کے حوالے سے ان کے مضامین اس قدر ہمارے پاس ہیں کہ اس علم کی تفہیم، اور ادب پر اس کے اطلاق میں کسی قسم کی کوئی دشواری محسوس نہیں ہو تی۔راقم الحروف نے انھی کی کتابوں سے لسانیات اور اسلوبیات کے علم کو سیکھا ہے۔ اسلوبیات کے حوالے سے ان کے مضامین اس قدر سہل اور آسان زبان میں ہیں کہ پڑھنے والے کو علم اسلوب سے دلچسپی پیداہونے لگتی ہے۔ چوں کہ اردو میں لسانیات پر لکھنے والے اور بھی ہیں جو مرزا خلیل احمد بیگ کے معاصرین میں ہیں، مثلا ً مغنی تبسم یا غفار شکیل وغیرہ ۔ یہ سبھی مسعود صاحب کے حلقہ ٔ تلامذہ کے وہ روشن ستارے ہیں جو مسعود صاحب کی علمی بصیروتوں کی روشنی پاکر چمک اُٹھے اور لسانیات کے میدان میں اپنی جداگانہ شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان تینوں ماہر لسانیات نے اردو میں لسانیاتی علوم کو وقار بخشا اور ا پنی کاوشوں سے اردو لسانیات و تنقید کے دامن کو بہت حدتک وسیع کیا ۔ میں پورے وثوق و یقین کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتا لیکن یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ مسعود صاحب کے تمام شاگردوں میں مرزا خلیل احمد بیگ نے جس دلجمعی اور انہماک کے ساتھ لسانیات کے مختلف مسائل کو حل کرنے کوشش کی ہے ایسی مثال کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ان کی ذاتی دلچسپی ، کڑی محنت اور لسانی کاوشوں کے سبب ہی اردو میں اسلوبیات یا اسلوبیاتی تنقید ایک مستقل شعبۂ علم کی حیثیت اختیار کر پائی ہے۔اسلوبیات پر ان کا کام نہایت سنجیدہ اور معتبر ہے۔ اسی موضوع کے حوالے سے ان کی تازہ کتاب بعنوان ’’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنادیں اور تجزیے‘‘ چند روز قبل منظر عام پر آئی ہے۔ اگرچہ اسلوبیات کے موضوع پر وہ پہلے ہی دو کتابیں اول ’’زبان، اسلوب اور اسلوبیات‘‘ دوم ’’تنقید اور اسلوبیاتی تنقید‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر آکر دادو تحسین حاصل کر چکی ہیں۔اب آپ کے ذہن یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ یہ تیسری کتاب کس نوعیت کی ہے۔دراصل امتداد زمانہ کے ساتھ جس طرح معاشرے میں نئے سماجی مسائل کھڑے ہوتے ہیں عین اسی طرح لسانی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ لسانیات کے نئے اصول بھی سامنے آتے ہیں اور کوئی ماہر لسانیات ایک جوش کے ساتھ اٹھتا ہے اور نئے اصولوں کی روشنی میں اپنی زبان کے لسانی مسائل کو حل کر نے پر کمر بستہ ہو تا ہے۔ مرزا خلیل احمد بیگ نے اس کتاب میں نئے لسانی مسائل بالخصوص اسلوبیات کے حوالے بعض اہم مباحث پر روشنی ڈالی ہے۔ بیگ صاحب لسانیات کے ایسے ماہرین میں ہیں جو ہمہ وقت زبان اردو کے لسانی مسائل کا ازالہ کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ گویا’ یہ دل ہے کہ مانتا نہیں‘ جیسی کیفیت ان کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے۔ اکثر کسی نئے لسانی مسئلے کو سلجھانے میں منہمک رہنا ان کا جنون معلوم ہوتا ہے۔ تنقید کی رو سے اگر بات کی جائے تو وہ اکثر اردو کے تخلیقی ادب کا تجزیہ اسلوبیاتی اصولوں کی روشنی میں کر تے ہیں۔بہتر نتائج برآمد کرتے ہیں۔ جو کہتے ہیں لسانی اصولوں کی کسوٹی پر جانچ پرکھ کر کہتے ہیں۔ اب تک انھوں نے تخلیقی ادب کے جس قدر تجزیے پیش کیے ہیں، وہ تما م اسلوبیاتی تنقید کے دائرے میں آتے ہیں۔ لہٰذا ، اس اعتبار سے انھیں اردو میں اسلوبیاتی نقاد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسلوبیات پر ان کی اولین کتاب ’زبان اسلوب اور اسلوبیات‘ 1983 میں شائع ہوئی۔ اس سے قبل اردو میں اسلوبیات کے حوالے سے کوئی کتاب موجود نہ تھی۔ یہ اعزاز بھی انھیں کے حصے میں آیا کہ انھوں نے سب سے پہلے اہل اردو کو ایک جامع کتاب اسلوبیات کے حوالے سے پیش کی۔ اسلوبیات کے موضوع سے انھیں اس قدر گہری دلچسپی کیوں ہے، اس کا سبب وہ ازخود بیان کرتے ہیں:
’’میرے لیے یہ باعث صد افتخار ہے کہ ایم۔ اے (لسانیات) میں ’اسلوبیات‘ (Stylistics) کا پرچہ مجھے مسعود صاحب نے پڑھایا۔ انھوں نے دورانِ تدریس مجھے اس طرح Motivate کیا کہ اسلوبیات میرا پسندیدہ موضوع بن گیا‘‘
(’زبان ، اسلوب اور اسلوبیات‘ ، پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، طباعت دوم، 2011، ص:11 )  

پھر بائس برس بعد لسانیاتی تجزیوں کا ایک بھر پور کارنامہ اسلوبیات کی روشنی بکھیرتا ہوا ’تنقید اور اسلوبیاتی تنقید ‘ کے عنوان سے 2005 میں اہل علم و نظر کی خد مت میں پہنچا۔ اس کتاب نے اردو تنقید کی دنیا میں اسلوبیات سے دلچسپی رکھنے والوں کو حددرجہ متاثر کیا۔ اب اسلوبیات کے موضوع پر ان کی تیسری کتاب ’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنادیں اور تجزیے‘ کو دیکھ کر ایک نوع کا سرور ان معنوں میں حاصل ہو تا ہے کہ اس میں اسلوبیات کے ان نئے مسائل کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے جو بعد کے دنوں میں پیدا ہوئے۔ بیگ صاحب نے اس کتاب میں حددرجہ کوشش کی ہے کہ اسلوبیات کے تما م پہلو، تمام باریکیاں اور اس کے جملہ جہات و ابعاد یکجا ہو جائیں۔ گزشتہ چالیس برسوں میں ادبی زبان کے اسالیب سے متعلق جس قدر مضامیں لکھے ہیں ، نیز اسلوبیات کی روشنی میں تخلیقی متن کے تجزیے جس قدر ان سے منسوب ہیں، ان کی یکجائی اس کتاب (اسلوبیاتی تنقید : نظری بنادیں اور تجزیے )کا اصل مقصد ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کا ذمہ’ قومی اردو کاؤنسل برائے فروغ اردو زبان ‘ کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے لے کر ہم اہل اردو پر احسان کیا ۔ میں معید رشیدی کا بھی اسی درجہ ممنون ہوں کہ انھوں اپنی ذاتی دلچسپی سے کتاب کی تزئین و ترتیب میں اپنا تعاون دے کر اسے اشاعت کے قابل بنایا۔ اب چوں کہ لسانیات کا علم دن بہ دن عام ہوتا جارہا ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ یہ کتاب اردو شعرو ادب اور لسانیات میں دلچسپی رکھنے والے طلبا اور اساتذہ دونوں کے لیے یکساں طور پر سود مند ہے۔ اب اسلوبیاتی تنقید کے مسائل کو حل کرنے لیے ہمیں ستر ، ستر کویں جھانکنے کی قطعی ضرورت نہیں ۔ اسلوبیات کے مسائل کی تفہیم کا مقصد محض اس ایک کتاب (اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے) سے پو را ہو سکتا ہے۔ اس کتاب میں بیگ صاحب نے اس قدر مواد اکٹھا کردیا ہے کہ قاری اگر اس کتاب محض پر اکتفا کرنا چاہے تو بھی اس کی علمی تشنگی باقی نہیں رہے گی۔ اس میں اسلوبیات کے بیش تر مسائل کا حل موجود ہے۔ اسلوبیاتی تنقید کے طریق کار اور اصولوں کی وضاحت کتاب کے آغاز میں موجود ہے ۔ شروع کے بیشتر مضامین زبان ، اسلو ب اور اسلوبیات کے نظری مباحث کا احاطہ کرتے ہیں۔ تمام مضامین بیحد سنجیدگی و متانت سے لکھے گئے ہیں۔ اسلوبیات سے متعلق ہر مسئلے کو نہایت غور و خوذ کے بعد سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بیگ صاحب اپنی تنقیدی بصیرت اور لسانیات پر مظبوط گرفت کے سبب اسلوبیات جیسے دشوار کن موضوع کے مسائل پر اظہار خیال میں اس قدر کامیاب نظر آتے ہیں کہ ان کی ہر بات دل میں گھر کر جاتی ہے۔ انھوں نے اپنی منطق سے جو دلائل پیش کیے ہیں، وہ قاری کے ذہن کو آگے کا راستہ دکھاتے ہیں۔ اور قاری یہ سوچنے پر مجبور نظر آتا ہے کہ ادبی زبان کا مطالعہ زبان کے اصولوں کی روشنی میں بھی ممکن ہے؟ کیا لسانیات کی مدد سے بھی بہتر نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں؟ وغیرہ۔ طویل زمانے تک اردو ادب کے تنقید نگاروں کے ذہن میں یہ بات کھٹکتی رہی کہ ادبی زبان کا جائزہ لسانیات کے حوالے سے کر نا کس حد تک سود مند ہے؟ اگرچہ یہ بات نا قابل اعتراف نہیں کہ اسلوبیات ادبی نمونوں کے لسانی نظام میں موجود داخلی مفاہیم و معنی کو دریافت نہیں کرتی، لیکن یہ کیا کم ہے کہ اسلوبیات کسی شاعر و ادیب کی طرز گفتگو کو نشان زد کرتی ہے۔ ادبی زبان میں شامل اجزائے کلام کا باریک بینی سے مطالعہ کرتی ہے ،نیز اس جستجو میں رہتی ہے کہ تخلیق کار نے الفاظ کو جس نئے انداز میں استعمال کیا ہے اس کا سبب کیا ہے۔ گویا اسلوبیات تخلیق کار کے لسانی مزاج کا پتا لگاتی ہے۔ یہ بھی دیکھتی ہے کہ کون کون سے الفاظ روایتی در پہ ہیں اور کن الفاظ کو غیر روایتی انداز میں برتا گیا ہے۔ اسلوبیات داخلی معنی تو اخذ نہیں کرتی، نہ کوئی نئی تعبیر پیش کرتی ہے ، تاہم یہ ان مخارج کا پتا ضرور بتاتی ہے جہاں سے معنی کے سوتے پھوٹتے ہیں ۔ بیگ صاحب نے اپنی تازہ کتاب ’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے‘ میں ان نمام نکات پر سیر صاصل گفتگو کی ہے۔اس کتاب میں نثری اور شعری شہ پاروں کے جو تجزیے شامل ہیں،وہ بیگ صاحب کی دقت نظر، جستجو و تجسس، تنقیدی صلاحیت، لسانی بصیرت اور عرق ریزی کا پتا دیتے ہیں۔ 
دنیا کا ہر فن کار خواہ وہ رنگ سازہو یا بڑھئی؛ معمار ہو یا موسیقار؛ مصور ہو یا سنگ تراش، سب اپنے مخصوص انداز میں اپنے کام کو انجام دیتے ہیں۔ شاعر و ادیب بھی اپنی ادبی تخلیقات میں اپنا جداگانہ طرز اظہار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ زبان، تخلیقی ادب کا مسالحہ ہے ،لیکن یہ مسالحہ لفظیات کے انتخاب سے تیار ہوتا ہے۔ یہ لسانی انتخاب بہت حد تک تخلیق کار کے لسانی امتیاز و اسلوب کا تعین کرتا ہے ۔ تخلیق کار کے نزدیک افکار و خیالات کی ترسیل ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ اظہار کے لیے کوئی نیا لسانی سانچہ / لسان تنظیم اور لفظوں کے استعمال کا نیا طریقہ بھی تلاش کرتا ہے۔ لفظوں کے انتخاب میں وہ اپنے لسانی مزاج سے کام لیتا ہے، اور ان کے استعمال میں اس کی ادبی و فنی بصیرتیں کارفرما رہتی ہیں۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ تخلیقی ادب کی لسانی تنظیم اور اس کی مخصوص لفظیات، نیز الفاظ کا باہمی ربط ہی دراصل اسلوب کو جنم دیتا ہے۔ مرزا خلیل بیگ کہتے ہیں کہ اسلوب کی تعریف ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو سلجھانے کی کو شش بہت سے ماہر لسانیات ، نقاد ا ور دانشوروں نے کی ہے۔ لیکن اب تک اسلوب کی کوئی ایسی جامع تعریف و تعبیر ہمیں دستیاب نہ ہو سکی ہے جس کا اطلاق ،علم و ادب کے میدان میں نظری و عملی کے اعتبار سے یکساں طور پر درست ہو۔ انھوں نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اب تک جو بھی تعریفیں پیش کی گئی ہیں وہ انفرادی سطح پر تاثراتی و داخلی ردعمل کا نتیجہ ہیں۔خالص لسانیاتی نقطۂ نظر سے اسلوب کی تعریف بہت کم ملتی ہے۔ اور جو تعریفیں ملتی ہیں وہ غیر لسانیاتی نقادوں کی پیش کش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب تک جتنی تعریفیں بیان کی گئی ہیں انھی معروضی انداز میں تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یعنی اسلوب کی وہ تعریف جو تخلیق کار کی انفرادیت کے حوالے سے کی گئیں ہیں۔ دوسرے وہ تعریف جو عام انسانی رویوں کی رو سے کی گئی ہیں۔ تیسرے وہ تعریفیں جو خیالات و افکار کے مؤثر اظہار کے حوالے کی گئی ہیں۔ ان تینوں کا دائرہ کار جداگانہ ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تینوں کا محور زبان ہے۔ اسلوب کا ادب کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ ہے ۔ ہر تحریر کا اپنا اسلوب ہوتا ہے ، لہٰذا اسلوب کو کسی بھی تحریر ، تقریر یا ادبی اظہار کی نمایاں خصوصیت تسلیم کرنی چاہیے۔ بیگ صاحب نے اپنے مضمون ’اسلوب: تعریف، تشکیل، توضیح‘، مشمولہ : ’اسلوبیاتی تنقید: نظری بنیادیں اور تجزیے‘ میں اسلوب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے:
’’اسلوب کا ادب کے ساتھ بہت گہرا رشتہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علمائے ادب آج بھی اسلوب سے ادبی زبان مراد لیتے ہیں اور اسلوب کو ’اچھی‘ ، ’مؤثر‘ ، اور ’خوبصورت‘ تحریر کی خصوصیت سمجھتے ہیں..... اسلوب سے کسی مصنف کے یہاں زبان کا انفرادی استعمال بھی مراد لیا جاتا ہے۔ مثلا ً میر تقی میرؔ کے یہاں زبان کا جو مخصوص استعمال ملتا ہے اسے میر کا اسلوب بھی کہہ سکتے ہیں.... ادبی تنقید میں اچھے اور برے اسلوب کی تخصیص بھی پائی جاتی ہے، نیز کامیاب اور ناکام اسلوب کی اصطلاحیں بھی ملتی ہیں، اور اسلوب کو اس کی خوبی یا خامی کے نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ ادبی تنقید میں اس طرح کی اصطلاحیں بھی بہت عام ہیں ، مثلا ً : ’سادہ‘ ، ’بے تکلف‘ ، ’موزوں‘ ، ’خوش آہنگ‘ ، ’شگفتہ‘ ، ’خوبصورت‘ یا ’مرصع ‘ اسلوب۔‘‘
(’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے‘: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی، 2014، ص:79-80)

اچھے اور برے اسلوب کا تماشا ان نقادوں کی من گھڑت باتیں ہیں جو تاثراتی نقطہ ٔ نظر سے متن کو آنکتے ہیں اور مرصع جملوں و فقروں پر سر دھنتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اسلوبیات کی سمجھ نہیں ہوتی اور نہ اسلوب کی لسانیاتی خصائص (Features) سے واقف ہوتے ہیں۔ مرزا خلیل بیگ کے نزدیک اسلوبیات/ اسلوبیاتی تنقید کی بنیاد ذاتی پسند و ناپسند کے حوالے سے قائم نہیں ہوتی۔یہ خالص لسانیاتی و سائنسی طریق کار ہے، اس لیے ذوق و وجدان کی اساس پر کسی بھی قسم کے اقداری فیصلے نہیں کرتی۔ یہ معروضی تنقید ہے ، جبکہ ادبی تنقید داخلی و موضوعی نوعیت کی ہوتی ہے۔متن کا تجزیہ ، اسلوبیاتی تنقید کا جزو لازم ہے۔ لیکن اسلوبیاتی نقاد یہ تجزیہ زبان کے حوالے سے کرتا ہے۔ یعنی متن کے تجزیے کے دوران لسانیاتی اصول / لسانیات جدیدیعنی توضیحی لسانیات کی اصطلاحوں کو بروئے کار لایا جاتاہے۔اسلوبیاتی تنقید کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ مشاہداتی (Observational) ہوتی ہے، جبکہ دیگر ادبی تنقید میں تخئیل آمیزی ہوتی ہے ۔ اسلوبیاتی تنقید میں تخلیقی زبان کے لسانی خصائص پر بحث ہوتی ہے اور اظہار کی سطح پر زبان کے لسانی امکانات کو دریافت کیا جاتا ہے۔ بیگ صاحب اسلوبیاتی تنقید کی زبان کا دائرۂ کار متعین کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلوبیات کے حوالے سے جو کچھ لکھا جائے اس کی زبان سادہ، راست اور توضیحی ہونی چاہیے۔ مبالغہ آرائی، تخلیقی تراکیب، خوبصورت و دل پزیر جملے اور دلچسپ فقروں سے پرہیز کیا جائے کہ یہ چیزیں لسانیاتی مطالعے کی معروضیت پر حرف لگاتی ہیں۔اسلوبیاتی تنقید ان تمام لسانی پہلوؤں پر بحث کرتی ہے جو کسی شاعر یا ادیب کے اسلوب کا تعین کرتے ہیں۔ اسلوبیاتی تنقید کسی اسلوب کو اچھا یا بُرا نہیں کہتی، اور نہ اسے تخلیقی متن کا زیور تصور کرتی ہے۔ اسلوبیات محض تحریری زبان پر توجہ مرکوز رکھتی ہے اور زبان کے تمام پہلوؤں کی روشنی میں کسی تحریر کا جائزہ لیتی ہے۔
اسلوب کو ہر تخلیق کار کی ذاتی ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تخلیق کار اپنی پسند و ناپسند کی بنا پر ہی ادبی تخلیقات کے لسانی نظام کی تشکیل کرتا ہے۔ادیب بھی دیگر فنکاروں کی مانند ہے، وہ بھی ایک مصور، سنگ تراش اور بڑھئی کی طرح خام مواد کا استعمال کرتا ہے ۔ ایک ادیب یا شاعر کے اظہار کے لیے زبان ہی خام مواد فراہم کرتی ہے۔  شاعر یا ادیب اپنے میلان طبع، اور ادبی تقاضوں کے تحت روزمرہ کی زبان کو تراش خراش کر ترتیب دیتا ہے ۔زبان کا انوکھا استعمال ادبیت کو جنم دیتا ہے۔ اور ادبیت ہی خیال کی گہرائی اور اثر انگیزی کا ضامن ہوتی ہے۔ لہٰذا، جس وقت شاعر یا ادیب اپنے خیالات کو ادبی رنگ عطا کر رہا ہوتا ہے اسی دوران اس کا ایک نیا سلوب بھی تشکیل پارہا ہوتا ہے، البتہ امکان غالب ہے کہ وہ اس حقیقت سے کسی حد تک  ناواقف ہو۔  اسلوب کی تشکیل کے حوالے سے مرزا خلیل بیگ کے درج ذیل خیالات غور طلب ہیں:
’’ہر ادبی تخلیق زبان کے سانچے میں ڈھل کر قاری یا سامع تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ زبان کا یہ سانچہ ادیب خود تیار کرتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ سانچے کو تیار کرنے کے لیے خام مواد اس کے پاس پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ یہ خام مواد زبان کی وہ مروج شکل ہوتی ہے جسے ادیب تہذیبی ورثے کے طور پر حاصل کرتا ہے اور سماجی سطح پر اسے برتتا اور بروے کار لاتا ہے۔ زبان کی اس سادہ اور سپاٹ شکل کو وہ ترسیلی مقصد کے لیے دوسروں کے ساتھ share کرتا ہے۔ اس کی حیثیت محض ایک کوڈ (Code) کی ہوتی ہے۔ یہ غیر حرکی ، غیر تخلیقی اور افادی (Utilitarian) اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ زبان کے اس خام مواد کو جب ادیب اپنے تصرف میں لاتا ہے اور اسے اپنے ادبی اظہار کا ذریعہ بناتا ہے تو گویا وہ اسے تخلیقی طور پر بروئے کار لاتا ہے۔ اسے وہ Actualize کرتا ہے۔ اسے جمود سے نکال کر حرکی یعنی Dynamic بناتا ہے۔ اسے انفرادی رنگ بخشتا ہے۔ اس کی Rigidity کو ختم کر کے اسے Flexible بناتا ہے اور بسا اوقات اس کے مروج نارم سے انحراف کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد زبان ادیب کی اپنی زبان بن جاتی ہے کیونکہ اسے وہ خود تخلیق کرتا ہے۔ زبان کے خام مواد سے(جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے) یہ زبان بالکل مختلف ہوتی ہے۔ زبان کو برتے جانے کے اسی انداز اور ادیب کے اسی لسانی اور اظہاری رویے سے اس کے اسلوب کی تشکیل عمل میں آتی ہے اور اپنے اسلوب ہی کی وجہ سے وہ ادیب پہچانا جاتا ہے اور اس کی شناخت قائم ہوتی ہے۔‘‘
  (’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے‘: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی، 2014، ص:105-106)

ادبی اظہار میں اسلوب کی تشکیل سے متعلق بیگ صاحب زبان کے تخلیقی کردار اور استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں:
’’ادب میں زبان کے تخلیقی استعمال کی بے حد اہمیت ہے۔ زبان کے تخلیقی اور انفرادی استعمال ہی سے اسلوب معرض وجود میں آتا ہے اور تخلیقیت زبان کے انوکھے، منفرد اور مخصوص استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔ زبان میں کسی بھی طرح کا تصرف، ندرت، جدت، انوکھاپن یا لسانی انحراف زبان کو تخلیقی بنا سکتا ہے۔’’
 (’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے‘: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی، 2014، ص:110) 
جب تک زبان میں ردوبدل ،مقررہ اصولوں سے انحراف ، اظہار کے نئے پیرایہ ہائے کی دریافت ، اور نئی لسانی تراکیب تشکیل پاتی رہیں گی زبان میں تازگی ، ندرت ، اور نئے آہنگ کا حساس ہوتا رہے گا، نیز نئے اسالیب کے امکانات باقی رہیں گے ۔یہی وجہ ہے کہ جہاں دو مختلف عہد کے شعراء کے اشعار خیال و تصور کی سطح پر یکساں معلوم ہوتے ہیں ، وہیں اسلوب اور خارجی ہئیت کے حوالے سے ان میں مغائرت پائی جاتی ہے۔نثری ادب کا بھی یہی حال ہے، ایک جملے کی لسانی ساخت دوسرے جملے سے یک قلم ممیز و ممتاز نظر آتی ہے ، اگرچہ یہ دوں جملے خیال کی سطح پر یکساں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، یعنی دونوں ہی کسی ایک خیال کی ترسیل کے مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ مرزاخلیل بیگ نے ایسے جملوں کی متعدد مثالیں اپنی کتاب ’اسلوبیاتی تنقید: نظری بنیادیں اور تجزیے‘ میں درج کی ہیں۔ دو جملے اس کتاب سے پیش کیے جاتے ہیں:
1۔ سورج ڈوبتے ہی ہر طرف اندھیرا چھاگیا۔
2 ۔ آفتاب غروب ہوتے ہی ہر سو تاریکی پھیل گئی۔
ان جملوں کو دیکھیں ! دونوں ہی جملوں سے یکساں مفہوم کی ترسیل ہو رہی ہے۔ لیکن ان کی ظاہری ساخت، الفاظ کا درمیانی ربط، لسانی ترتیب و تنظیم بالکل مختلف ہے۔ پیش کش کا یہی مختلف انداز اسلوب کہلاتا ہے۔گو یا کسی ایک خیال یا فکر کے متبادل اظہارات کا امکان ہی اسلوب کو جنم دیتا ہے ، نیز اسی کی بدولت زبان میں ادائے معنی یا ترسیل کی لسانی سطح پر تغیرات کے نئے مظاہر سامنے آتے ہیں ۔ ادبی زبان میں کسی ایک بات یا مفہوم کو مختلف پیرائے میں ادا کرنے کے امکانات کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تخلیقی زبان کا انتخاب تخلیق کارکے اسلوب کا پتا دیتا ہے ، لیکن یہ اسلوب تخلیق کار کے لسانی انتخاب کے نتیجے میں تشکیل پاتا ہے، اس لیے ہم اسے انتخابی اسلوب کہہ سکتے ہیں ۔ اگر زبان کا انتخاب کیے بغیر کسی خیال کو محض سیدھے سادے انداز میں یا راست زبان میں بیان کیا جائے تو کہا جائے گا یہ زبان کا غیر انتخابی اسلوب ہے۔ بیگ صاحب نے یہاں پتے کی بات کہی ہے:
’’انتخاب[زبان کا انتخاب] اسلوبیاتی بھی ہو سکتا ہے اور غیر اسلوبیاتی بھی۔ لیکن انتخاب خواہ اسلوبیاتی ہو یا غیر اسلوبیاتی ، اس کا قواعدی ہونا ، یعنی قواعد کے اصولوں پر پورا اترنا لازمی ہے۔ ‘‘
  (’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے‘: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی، 2014، ص:86)

  چوں کہ تخلیقی زبان اپنے لسانی نظام میں تخلیقی قوت پیدا کرنے لیے اپنے معاشرے کی زبان کے مروجہ لسانی معائر (Linguistic Norms) سے انحراف کرتی ہے، یعنی تخلیقی زبان کی لفظیات اپنے لغوی یا مروجہ معنی سے رشتہ توڑ لیتی ہے اور مجازی معنی کا چولا اوڑھ کر مفہوم کے حدود و دائرۂ کار کو امکان کی حد سے بھی آگے لے جاتی ہے۔ گویا تخلیقی ادب کے حوالے سے حقیقت تک رسائی کے لیے تخلیق کار لفظوں کی قلب ماہیت سے کام لیتا ہے، یا پھر وہ الفاظ کو غیر روایتی انداز میں برتتا ہے۔ یعنی شعری زبان میں حسن پیدا کرنے کے لیے وہ مروج لسانی روایت (Linguistic Tradition) اور لسانی معیارات (Linguistic Norms) سے شعوری طور پر گریز کرتا ہے۔ الفاظ کا نا راست اور غیر روایتی استعمال تخلیق کار کی سب سے بڑی مجبوری ہے، اور ادب کا تقاضا بھی یہی ہے۔ بیگ صاحب اسے لسانی انحراف (Lingustic Deviation) سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہاں Linguistic Norm سے مراد زبان کے طے شدہ اصول و ضوابط، قواعدی روپ، اور زبان کی لسانی روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لسانی انحراف ’  (Lingustic Deviation)نئے لسانی تجربوں ، اسلوبیاتی جدتوں، نیز پیرایۂ بیان یا طرز اظہار کے نئے سانچوں کی تلاش یا تشکیل میں پیدا ہوتا ہے ‘۔اسلوبیاتی تنقید اسی لسانی انحراف کو اپنے مطالعے کا ہدف بناتی ہے۔ اپنی تازہ کتاب ’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے ‘ میں لسانی انحراف کی افہام و تفہیم کے دوران انھوں نے شہر یار ؔ کا ایک شعر نقل کیا ہے جس میں لسانی انحراف کی مثال موجود ہے: 
چلو آنکھوں میں پھر سے نیند بوئیں
کہ مدت سے اسے دیکھا نہیں ہے  
متذکرہ شعر کے مصرعہ اول میں ’نیند بوئیں ‘ کی ترکیب ایک نوع کے لسانی انحراف کی مثال ہے۔ بیگ صاحب کہتے ہیں کہ اردو زبان کے مروجہ اصول و ضوابط کے مطابق بونے کا تعلق بیج سے ہوتا ہے۔ اردو کی لسانی روایت میں بیج زمین میں بویا جاتا ہے۔ لیکن آنکھوں میں نیند کا بونا ایک نوع کا لسانی انحراف ہے۔ بیگ صاحب اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ لسانی انحراف اظہار میں حسن پیدا کرتا ہے لیکن وہ کسی طور قواعدی اصولوں سے انحراف نہیں کرتا۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لسانی انحرافات کے بہت اچھے اچھے نمونے پیش کیے ہیں۔ 
ادبی اظہار میں اسلوب کی تشکیل اور اس کے امتیازات کے مطالعے کو اسلوبیات کا نام دیا گیا ہے۔ گو یا دبی تنقید کی اصطلاح میں لسانی اصولوں کی روشنی میں اسالیب کے مطالعے کو اسلوبیاتی تنقید کہتے ہیں۔ یہ تنقید بیحد معروضی انداز فکر کو تقویت بخشتی ہے۔ بالعموم یہ بھی کہا جاتا ہے اس قسم کی تنقید متن کی خارجی ساخت سے انتہا پسندی کی حد تک سروکار رکھتی ہے۔ متن کی داخلی ساخت کا مطالعہ اسلوبیاتی تنقید کی ذمہ داری نہیں۔ متن کی ظاہری سطح پر الفاظ کی ترتیب اور ان کے ارتباط کا سائنسی بنیادوں پر جواز تلاش کرنا ہی اسلوبیاتی تنقید کا خاصہ ہے۔ یہ تنقید نہ کسی فن پارے کو برا کہتی ہے اور نہ اچھا۔ یہ ادبی تخلیقات کا معنی و مفہوم کی سطح پر تعین قدر بھی نہیں کرتی۔ یہ قطعی طور پر ادبی متن کی لسانی ساخت کو اپنی توجہ کا مرکز بنا تی ہے اور اصولِ زبان کی روشنی میں طرز اظہار کا جائزہ لیتی ہے۔ مصنف یا شاعر کی ذاتی زندگی میں تاک جھانک کرنا اسلوبیات کی اخلاقیات کے منافی ہے۔ البتہ متن یا فن پارے کے حوالے سے تخلیق کار کے لسانی رویوں کا پتا لگا نا اور ان کا جواز قائم کرنا لسانیاتی تنقید/ اسلوبیاتی تنقید کی ذمہ داری ہے۔ یہ تنقید جو بھی فیصلہ کرتی ہے متن اور اس کے لسانی نظام/ ڈھانچے کے حوالے سے کر تی ہے۔ گویا متن میں شامل لسانی خصائص کو نشان زد کرنا ہی اسلوباتی تنقید کا اہم مقصد ہے۔ چوں کہ اسلوبیات کا دخل ہر کارگزاری و عمل میں ہے۔ ہر فعل وفن کاا سلوبیاتی مطالعہ ممکن ہے۔لیکن فرق یہ ہے دیگر فنون و افعال یا کارگزاریوں کا اسلوبیاتی مطالعہ مختلف نہج پر ہوتا ہے۔ جبکہ تحریر یا تخلیقی ادب کے اسلوبیاتی مطالعے کی جملہ اساس زبان اور اس کا طرز اظہار ہے۔لہٰذا تخلیقی ادب یا تحریر کے اسلوبیاتی مطالعے کو دیگر مطالعات سے ممیز کرنے کے لیے بیگ صاحب کہتے ہیں کہ اسے ’لسانیاتی اسلوبات‘ کہنا زیادہ اچھا ہے۔ اگرچہ بعض لوگ ادب کے اسلوبیاتی مطالعے کو ’ادبی اسلوبیات‘ کا نام دیتے ہیں ، لیکن بیگ صاحب اس اصطلاح سے خود بھی گریز کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایساکرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ادبی اسلوبیات‘ عام ادبی تنقید سے قریب تر معلوم ہوتی ہے جس میں ادب کا روایتی انداز سے مطالعہ کیا جاتا ہے ، صنائع و بدائع پر زور دیا جاتا ہے اور اسلوب کو محض اضافی شئے تصور کیاجاتا ہے۔ جبکہ ’لسانیاتی اسلوبیات‘ بہر طور لسانیات سے قریب ہے اور اس میں ادب کا مطالعہ لسانیات کے اصولوں کی روشنی میں ہوتا ہے۔لہٰذا، وہ ادب کے لسانیاتی مطالعے کو ’لسانیاتی اسلوبیات‘ یا ’اسلوبیاتی تنقید‘ ہی کہتے ہیں اور اس بات پر شد و مد سے اصرار کرتے ہیں کہ یہ تنقید تخیل آمیزی، وجدانی و داخلی کیفیت، تاثرات، مزاج اور میلان طبع سے صرف نظر کر کے معروضی انداز میں، متن کو خود مکتفی مان کر محض متن کے لسانی ارتباط اور اظہار کے طرز وجود کا مطالعہ کرتی ہے۔’ ادبی اسلوبیات‘ پر ’لسانیاتی اسلوبیات‘ کو ترجیح دینے کی تحریک غالبا ً انھیں اپنے استاد پروفیسر مسعود خاں صاحب ہی سے ملی ہے۔ اپنی کتاب ’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے‘ میں اسلوبیات کے دائرۂ کار پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’لسانیاتی اسلوبیات کا تعلق براہ راست لسانیات سے ہے جس میں ادبی متن یا فن پارے کی لسانیاتی خصوصیات و امتیازات یعنی اسلوبی خصائص کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ اسلوبی خصائص (Style Features) زبان کی صوتی، صرفی، لغوی، نحوی، اور معنیاتی سطحوں پر نشان زد کیے جاتے ہیں۔ مسعود حسین خان جو اردو میں اسلوبیاتی تنقید کے بنیاد گزار ہیں ’اسلوبیات‘ پر ’لسانیاتی اسلوبیات‘ کی اصطلاح کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ 
  (’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے‘: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی، 2014، ص:120)

  متذکرہ اقتباس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اسلوبیات کے حوالے سے لکھنے والوں میں مسعود صاحب پہلے تقاد ہیں جنھوں نے اسلوبیاتی تنقید کا نمونہ پیش کیا۔ مسعود صاحب اور بیگ صاحب کا یہ کہنا حق بجانب ہے کہ’ لسانیاتی اسلوبیات‘ کی اصطلاح اسلوبیاتی نقادکو ان لوگوں سے ممتاز کرتی ہے جو لسانیات کے علم سے یکسر ناواقف ہیں اور’ محض دوسروں کے فقروں اور قولِ محال کو اسلوب کی بنیاد تصور کرکے وجد کرتے ہیں‘۔اس ضمن میں بیگ صاحب کی مزید رائے یہ ہے کہ اسلوبیاتی تنقید کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جس نے لسانیات کے علم سے کسب فیض کیا ہو اور اسی میدان میں اس نے تربیت حاصل کی ہو۔ ان کے مطابق ایسی تنقید کو اسلوبیاتی تنقید کہا جائے گا جس میں لسانیات جدید یعنی توضیحی لسانیات کے اصولوں کا اطلاق شعر و ادب کی افہام و تفہیم پر کیا گیا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی تنقیدی طریق کار مطالعۂ ادب کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔ سب کے اپنے اپنے ڈھنگ اور اپنی راہیں ہیں۔ سبھی کے مقاصد جداگانہ ہیں۔ اسلوبیاتی تنقید ، ادب کے ہمہ جہت مطالعے کا دعویٰ نہیں کرتی ، یہ اپنے حدود اور دائرۂ کار میں رہ کر ہی تلاش و جستجو کرتی ہے۔ گویا اسلوبیاتی تنقید لسانیات کے سائنسی اصولوں کو روبہ عمل لاکر نقد و تجزیے کاکام انجام دیتی ہے۔ بیگ صاحب کہتے ہیں کہ اسلوبیاتی تنقید کا کام یہ دیکھنا ہے کہ ادیب یا شاعر کا طرز اظہار کیا ہے ، یعنی وہ کیسے لکھتا ہے؟ اس کا کام یہ بتانا ہر گز نہیں کہ تخلیق کار کو کیسے لکھنا چاہیے، اور کیا لکھنا چاہیے۔ایسی تنقیدیں معلمانہ یا ہدایتی تنقید کا درجہ رکھتی ہیں۔ 
 اکثر علما ئے ادب ، دانشور اور ماہر لسانیات وغیرہ ، اسلوبیاتی اصولوں کا اطلاق ادبی تخلیقات میں مضمر اسالیب کی دریافت کے لیے کرتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ روز مرہ کی گفتگو کا کوئی اسلوب نہیں ہوتا ۔ اسلوب تو ہر گفتگو اور ہر جملے میں مضمر ہوتا ہے، لیکن اسلوبیاتی مطالعے کے لیے ہم ادبی فن پارے کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کہ قدیم و جدید شعرا و ادباء کے طرز اظہار و اسالیب کے فرق کو دریافت کر سکیں۔ انھیں اسلوب کی سطح پر ممیز و ممتاز قرار ددیا جا سکے۔  تنقید کایہ طریق کار تخلیقی ادب کے تنقیدی اسفار کا ایک نیا موڑ ہے جو تنقید کو فلسفہ ٔ لسان کی طرف مائل کرتا ہے اور اسلوب کے امکانات و ابعاد کو روشن کرتا ہے۔ اسلوبیاتی تنقید کے ذریعہ ہی تخلیق کار کی انفرادیت، اسلوب کے حوالے سے قائم کی جا سکتی ہے۔بیگ صاحب کی کتاب ’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنادیں اور تجزیے‘ میں ایسے کئی مضامین شامل ہیں جن میں اسلوب کے حوالے سے تخلیق کار کی انفرادی شناخت کو دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آخر کے تین ابواب میں اردو کے ممتاز شعراء و انشاپرداز کے اسلوبی خصائص کو ان کی تخلیقات کی روشنی میں نشان زد کیا گیا ہے۔ 
    بیگ صاحب کی متذکرہ کتاب میںجگہ جگہ مسعود حسین خاں صاحب کے اقتبات سات درج ہیں۔ شاید وہ مسعود صاحب کی ہر بات کو سند مانتے ہیں۔ اسے میں ایک شاگرد کا اپنے استاد کے تئیں سچی عقیدت ، خود سپردگی، انہماک اور استاد کی تعلیمات و نظریات و خیالات کوتازہ رکھنے کا ایک طریقہ ، نیز استاد کی شخصیت کو بعد از مرگ بھی زندہ رکھنے کاایک پاک جذبہ تسلیم کرتا ہوں۔ اس کتاب کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اسلوبیات پر لکھنے والوں کی کاوشوں کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے۔ اردو ، انگریزی اور دیگر زبانوں کے بیشتر دانشوروں کی تحاریر و نظریات سے استفادہ کیا ہے۔ اسلوبیات کے بعض اہم ماہرین کی آراء اور ان کے حوالے اس کتاب میں موجود ہیں، جن سے بیگ صاحب کی کہی باتوں کو تقویت ملتی ہے۔ جملہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ حصہ اول اسلوبیات کی نظری بنیادوں کی تفصیل پیش کرتا ہے ، اور حصہ دوئم اسلوبیاتی مطالعے کے اطلاقی و عملی نمونوں کا احاطہ کرتا ہے۔ تمام مضامین کچھ اس طرح ترتیب دیے گئے کہ ایک کا ربط دوسرے سے نامعلوم طریقے سے قائم ہوتا چلاگیا ہے ۔ یہ ربط زمانی نہیں ہے ؛ نہ اختصار و تفصیل کا ہے؛ نہ قدیم و جدید کا ہے ؛ دراصل یہ ربط منطقی ہے۔ گو یا پہلے فلسفہ و نظریۂ اسلوب ، پھر نظریہ سازوں کا تعارف اور آخر میں اطلاقی/ عملی نمونے شامل کیے گئے ہیں۔ جمہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے : (۱)’ ادبی تنقید اور لسانیات و اسلوبیات‘ --- اس باب میں چار ذیلی ابواب شامل ہیں ۔ اس باب کے تحت زبان، تخلیقی زبان، تنقید اور لسانیات کے رشتوں کے اہم مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ (۲) ’نظریۂ اسلوب اور اسلوبیاتی تنقید‘ --- اس باب کے تحت پانچ عنوانات ہیں جو صرف فلسفہ ٔ اسلوب ، اسلوب کی تشکیل، اور اسلوبیاتی تنقید کے نظریات کا احاطہ کرتے ہیں۔(۳)’اسلوبیاتی نظریہ ساز‘ --- یہ باب چار مختلف عنوانات پر مشتمل ہے۔ اس میں اسلوب اور لسانیاتی اسلوبیات سے متعلق مغربی مفکرین اور ماہر لسانیات کی آراء کا اجمالی جائزہ لیتے ہوئے اردو میں اسلوبیات کے مفہوم و نظریات کو منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس تیسرے باب میں بیگ صاحب نے مسعود حسین خان، گوپی چند نارنگ، اور مغنی تبسم پر خصوصی توجہ صرف کی ہے، نیز ان کے لسانی نظریات اور اسلوبیاتی طریق ہائے کار کو الگ ذیلی عنوان کے تحت پیش کیا ہے ۔ اردو میں اسلوبیاتی تنقید کے بنیاد گزار کی حیثیت ان کے کارناموں کی افادیت کا اعتراف پوری سچائی اور فراخ دلی سے کیا ہے ۔ گویا شروع کے تین ابواب اسلوبیاتی تنقید کی نظری اساس و امتیازات کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔ باقی کے تین ابواب اسلوبیاتی تنقید کے عملی نمونوں پر مشتمل ہیں۔ نثری ادب کے اسلوبیاتی تجزیوں کو چوتھے باب میں شامل رکھا گیا ہے ۔ اس میں ابوالکلام کی نثر کی لسانی خوبی و خصائص کا جائزہ ہے۔ نیاز فتح پوری کے لسانی مزاج اور تشکیل اسلوب کی دریافت ان کی نثری تخلیقات کی روشنی میں کی گئی ہے۔ رشید احمد صدیقی اور ذاکر حسین وغیرہ اردو کے بلند بایہ نثرنگار ہیں، ان کے نثر پاروں کے لسانی تجزیوں سے اسلوبیاتی تنقید کے اچھے نمونے پیش کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔ پانچویں باب میں شعری متن کے اسلوبیاتی تجزیے ہیں۔ اس میں اکبر الہ آبادی، فیض احمد فیضؔ، اختر انصاری ، اقبال ؔ وغیرہ کے شعری متون کی صوتی و لسانی آہنگ کی دریافت لسانیاتی اصولوں کی روشنی میں کی گئی ہے۔ اس باب میں دکنی شاعری کے اسلوب و آہنگ پر بھی خاص توجہ صرف کی گئی ہے۔ چھٹے باب میں غالب ؔ کی سادہ بیانی ، شبلیؔ کے فلسفہ ٔ  لفظ و معنی ، اور فراق کی ’روپ‘ (رباعیات کامجموعہ) میں سنگار رس کے حوالے سے طرزِ اظہار و اسلوب کو اسلوبیاتی تنقید کا محور بنایا گیا ہے۔ گویا اس کتاب میں ابوالکلام آزاد، ذاکر حسین، رشید احمد صدیقی، نیاز فتح پوری، غالبؔ ، اقبال ؔ ، فیض ؔ ، اکبر الہ آبادی اور اختر انصاری وغیرہ کے انفرادی اسلوب کا تعین کیا گیا ہے۔ 
اس کتاب کی زبان جس قد علمی ہے اسی قدر بیان میں سادگی و روانی بھی ہے۔ بیگ صاحب کی تنقید جس نوع کی زبان کا تقاضا کرتی ہے اس سے بخوبی واقف ہیں۔ ، کتاب کی جملہ عبارتوں میں اصطلاحوں کا بر محل استعمال ادائے مطلب کو آسان بنا دیتا ہے۔ بیگ صاحب بذات خود ایک اچھے دانشور ، نقاد اور ماہر لسانیات ہیں انھیں اپنی بات کو رکھنے کا سلیقہ معلوم ہے۔ ہر بات کو حوالے کے ساتھ پیش کرنا ، منطق و استدلال کی کسوٹی پر فیصلے کرنا ایک سلجھے ہوئے نقاد کی پہچان ہوتی ہے۔ بیگ صاحب کے ہاں ایک جید نقاد کے تمام اوصاف موجود ہیں۔چوں کہ اس کتاب میں شامل تمام مضامین الگ الگ اوقات میں حسب ضرورت لکھے گئے ہیں اس لیے بہت سی باتوں کی تکرار ملتی ہے، تاہم اس میں ایک نوع کی تازگی، انوکھا پن اور شگفتگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ بھی دیگر صاحب طرز نثر نگاروں کی مانند ایک بات کو مختلف پیرائے میںبیان کر نے کا ہنر جانتے ہیں۔ گفتگو کرنے کا ان کا اپنا جداگانہ انداز ہے ۔ انھوں نے لسانیات کی دنیا میں رہ کر ایک ایسی راہ اختیار کی جس کی ایک منزل توضیحی لسانیات ہے تو دوسری تخلیقی ادب۔ ہم اسی راہ کو اسلوبیات کہتے ہیں۔ مرزا خلیل بیگ نے اردو زبان کے حوالے سے اس علمی و لسانی میدان (اسلوبیات) کے ہر معرکے کو سر کیا ہے۔ اردو میں ماہر لسانیات اور اسلوبیاتی تنقید نگار کی حیثیت سے ان کا مقام کافی بلند اور شناخت مسلم ہے۔ اردو زبان کے حوالے سے انتھک محنت ، لسانی خصائص کی جستجو، اور نظریہ ٔ اسلوب و اسلوبیات کو اردو میں عام کرکے اردو کے تنقیدی مطالعات کے دائرے کو بہت حد تک وسیع کیا ہے۔ ہم سبھی اس امر خاص کا اعتراف کرتے ہیں کہ اسلوبیات میں ان کی فہم و ادراک دوسروں سے قدرے بہتر ہے، کیوں کہ ان میں ادبی ڈوق بلا کا ہے۔ وہ ادب کے تقاضوں کو بخوبی جانتے ہیں ۔ادب تشکیل و روایات سے وہ یکسر بے بہرہ نہیں۔وہ اردو اور انگریزی پر یکساں مہارت رکھتے ہیں۔ لسانیات کے تمام پہلوؤں پر ان کی گرفت مضبوط ہے، کیوں کہ انھوں نے لسانیات کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے، اور اسی میدان میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی سرفراز ہوئے۔ لسانیات میں ڈاکٹریٹ کی سند لینے سے قبل وہ انگریزی میں ایم ۔اے، کر چکے تھے۔ علم زبان/ لسانیات/ توضیحی لسانیات سے کسب فیض کرنے کے بعد انھوں نے ان علوم کا اپنی زبان (اردو) پر اطلاق کیا اور اسلوبیاتی تنقید کے عملی نمونے پیش کیے ۔ اس سے زبان اردو کی استناد ، معتبریت، اور مرتبت عالیہ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ 
مرزا خلیل احمد بیگ جیسی شخصیت کی کاوشوں کے سبب ہی اردو میں ’لسانیاتی اسلوبیات‘ یا ’اسلوبیاتی تنقید‘حالت طفولیت سے نکل کر عنفوان شباب میں داخل ہو پائی ہے ، بلکہ کافی حد تک جوان ہو پائی ہے۔ اس قدر تند رست و توانا ہو پائی ہے ،کہ کسی بھی نوع کے ادب پارے کا تجزیہ کرتے وقت  یہ غچا نہیں کھاتی۔لہٰذا، اگر کسی کو نظریۂ اسلوب، فلسفہ ٔ اسلوب، یا اسلوبیاتی تنقید کے نظری و عملی پہلوؤں کو جاننا ہے یا اسلوبیات کے امکانات سے واقفیت حاصل کرنی ہے تو بیگ صاحب کی کتاب ’اسلوبیاتی تنقید : نظری بنیادیں اور تجزیے‘ کا مطالعہ پیش نظر رکھنا لازمی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے کے بغیر اردو میں اسلوبیات کے امتیازات و ابعاد کی تفہیم قدرے مشکل ہے۔ اسلوبیات کے حوالے سے یہ اردو میں پہلی کتاب ہے جو یک موضوعی ہے، یعنی جس میں زبان و اسلوب سے متعلق خاصہ مواد موجود ہے، اور جس کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے۔  

یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟