امِ عمارہ… افسانہ کا معتبر حوالہ : ساجد خان ، حویلیاں، پاکستان
امِ عمارہ ۹۰-۱۹۸۰ء کی دہائی میں ابھرنے والی ایک ایسی افسانہ نویس ہے جس نے سانحہٗ مشرقی پاکستان کے محرکات اور بنگالی معاشرے میں ہونے والی شکست و ریخت اور مسلم معاشرے میںخاندانی نظام کے مضبوط بندھن کی ٹوٹ پھوٹ کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ۔ اس کے ایک مطبوعہ ناول’’روشنی قید ہے‘‘ اور دو افسانوی مجموعوں’’آگہی کے ویرانے‘‘ اور ’’درد روشن ہے‘‘ کے مطالعہ کے بعد یہ بات تو پایہ ثبوت کو پہنج جاتی ہے کہ اس نے اپنی سرزمین اور وطن کی محبت سے سرشار ہو کر یہ افسانے اور ناول تخلیق کیا ہے ۔ جہاں تک اس کے افسانوں کے تجزیے اور نفیساتی مطالعے کا تعلق ہے اس بارے میں کئی رائیں ہو سکتی ہیں۔ زیر نظر مضمون میں امِ عمارہ کے دونوں افسانوی مجموعوں کے مطالعے کے بعد، کچھ اہم افسانوں کی روشنی میں، بطور افسانہ نگار اس کے فکرو فن اور اسلوب کے بارے میں اظہارِ خیال کیا جاتا ہے۔
ہم جس دنیا کے باسی ہیں اور جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں یہاں لمحہ بہ لمحہ المیے اورسانحات جنم لیتے ہیں اور ہم اپنی بے خبری، کم علمی، کم فہمی یا لاچارگی کے باعث ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ ہمارے پاس علم ہو بھی تو اس سانحے کو روکنے کی طاقت نہیں ہوتی مگر محسوسات اور احساسات پر تو کوئی بھی قبضہ نہیں کر سکتا۔ ہمارا معاشرہ سماجی، معاشرتی اورمعاشی ناانصافیوں کا شاخسانہ بن کر سامنے آتا ہے۔ امِ عمارہ کی اکثر کہانیاں انہی المیوں پہ لکھی گئی ہیں اوراسے زبان و بیان پہ کمال کی دسترس حاصل ہے۔ فقروں کی دروبست بھی خوب ہے۔ہر کہانی میں منطقی انجام سے قطع نظر کئی جملے اس درجہ خوبصورتی سے پروئے گئے ہیں کہ جنہیں پڑھ کر قاری عش عش کر اٹھتا ہے۔
زیادہ تر افسانے بنگال کے پس منظر میں لکھے گئے ہیں اور ایک ہی معاشرے کے اندر رونما ہونے والے مختلف مسائل پر صورت بدل بدل کر اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ زبان کا معاشرے پر اثر اور زبان کی وجہ سے تقسیم بھی موضوع سخن ہے۔ معاشرے میں بدلتے رویوں اور انسانی سوچ میں وقت کے ساتھ ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیاں بھی امِ عمارہ نے کمال مہارت سے پیش کی ہیں۔اس کے بیشتر افسانوں میںانسانی نفسیات کا بھی بہترین تجزیہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ساتھ زندگی کے مسائل اور ان مسائل کے ساتھ جینے کا عزم ان کی تحریروں میں جھلکتا نظر آتا ہے۔ ہرزندہ انسان کو خوراک کی ضرورت پڑتی ہے خواہ وہ خوراک جسم کی نشوونما کے لئے ہو یا روح کی غذا کے لئے۔ کئی افسانوں میں جسم کی خوراک کے تحت جسمانی خواہشات پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے۔ عورت ہونے کے باوجود امِ امارہ نے جس دلیری اور اخلاقی جرأت سے جنسیات پر قلم اٹھایا ہے وہ بہت کم خواتین کے حصے میں آئی ہے۔
جب انقلابِ بنگال کا سانحہ ترتیب پا رہا تھا تو اس وقت اچانک اپنے پرائے ہوئے اور بیگانے جان کے دشمن بن گئے تھے۔ ایسے میں کئی دوست نما منافق بھی دشمن بن کر سامنے آئے۔ اس پس منظر میں لکھا گیا افسانہ’ زندگی کا زہر‘‘ اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ہے۔۔ جہاں محبت جنسی تسکین کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے اور کچھ عرصہ قبل شادی کا خواہش مند ، اسی لڑکی کے ساتھ اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ مل کر گینگ ریب اور بدکاری کا ارتکاب کرتا ہے۔یہ ذہنی تبدیلی اور اخلاقی پستی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
معاشی اور اخلاقی قدروں کے زوال کے بعد ہمارے معاشرے میں اخلاقی پسماندگی اپنے عروج پر ہے جس سے انسانیت داغ دار اور روبہ زوال ہے۔ معاشی و اقتصادی ناہمواری ، سیاسی کشمکش ، مفادات کی تقسیم نے بلندیٔ فکر و کردار کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ احساسِ ذمہ داری اور قانون کی پاسداری قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ جس معاشرے میں اصول وضوابط نہیں ہوتے وہاں انتشار، قتل وغارت گری، بے چینی، نفسیاتی کشمکش، دھوکہ اورفریب عام ہو جاتا ہے اور لکھاری اس کرب کو سمیٹے ہوئے مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کرتاہے۔ اس کا قلم معاشرے کے چہرے سے نقاب الٹتا ہے تو نیچے گندگی کے ڈھیر کے تعفن سے لبالب نظر آتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر ہی طبیعت متلانے لگتی ہے اور ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اندر سے سب کچھ آناً فاناً باہر امڈ آئے گا۔امِ عمارہ نے بھی ایسی ہی تلخ مگر ننگی حقیقتوں کا پردہ چاک کیا ہے۔غربت و افلاس ہو یا پیسے کی ریل پیل دونوں کا ضرورت سے زیادہ ہو جانا تباہی کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ اسی طرح جب معاشرے تقسیم ہوتے ہیں تو تباہی اپنا سر اٹھاتی ہے۔ افسانہ ’’ کروٹ‘‘ ایسی ہی روداد ہے جس میں ایک معلمہ کے کردار کے اردگرد تمثیل کا تانا بانا پھیلا کر خوب صورت کہانی ترتیب دی گئی جو حق پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے کیا ہم آج بھی ایسے ہی حالات کاشکارتو نہیں ہونے جا رہے۔کہیںوہی کہانی جو ۱۹۷۱ء میں ترتیب دی گئی تھی آج سندھ، بلوچستان، پنجاب، ہزارہ اور خیبر پختونخواہ میں بھی دہرائی تو نہیں جا رہی؟؟؟ 
جو قومیں تاریخ سے سبق حاصل کرلیںانہی کا جغرافیہ سلامت رہتا ہے۔ امِ عمارہ کے تمام افسانے زندگی اور زندگی کو درپیش مسائل کو سامنے رکھ کر لکھے ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میںکردارں کو اردگرد کے ماحول کی مطابقت سے کمال ہنر مندی سے سامنے لاتی ہیں۔سماجی اور معاشرتی اونچ نیچ انسانی نفسیات پر جو اثرات مرتب کرتی ہیں انہیںدلکش انداز میں ادبی زبان چاشنی کے ساتھ پیش کرنے کا فن امِ عمارہ کے قلم میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔ انقلابِ زمانہ کے اثرات سے بچ جانا ناممکنات میں سے ہے۔ یہ دنیا کئی رنگوں سے ترتیب پاتی ہے ، کہیں دلآویز مسکراہٹیں ہیں ، خوشیا ں اور آنے ولے وقتوں کے حسیں خواب انسانی مسرت کا سامان کرتے ہیں تو کہیں آنسورواں ہیں۔ دکھ اور درد نے انسانی وجودوں کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ مگر وقت کا پہیہ رواں دواں ہے۔ زندگی انہی لمحات میں محوِ سفر ہے:
’’ سالہا سال سے سوچ رہی ہوں کہ مجھے ایسی کہانی لکھنی ہے جو آگے چل کے ایک تاریخی دستاویز بن جائے‘‘(افسانہ: روشن اندھیرا)۔
امِ عمارہ کے بعض افسانے تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں جن میں سچائیاں ، خوشی اور غم ایک ساتھ موجود ہیں۔ امِ عمارہ نے اپنے افسانوں میں تشبیہہ و استعارہ کا استعمال خوب کیا ہے:
’’ اب چپ بھی ہو جاؤ پیاری…کیا تم نے ان نرگسی کٹوروں کی ساری شراب ضائع کر دینے کی قسم کھائی ہے‘‘۔
 ایسے جملے جا بہ جا دیکھنے کو ملتے ہیں ساتھ ساتھ محاوروں کا استعمال بھی زبان و بیان کو خوبصورت بنادیتا ہے۔
امِ عمارہ نے انسانی جذبات کی خوب ترجمانی ہے خواہ وہ محبت کے زیر اثر پروان چڑھنے والے ہوں یا سامنے کھڑی نسوانیت سے بھری دوشیزہ کو چھیڑ چھار کرنے جیسے ہی کیوں نہ ہوں، اتنی بے باکی سے نفسیاتی تجزیہ ان کے وسیع المطالعہ ہونے کی دلیل ہے۔ افسانہ ’’ کوئلہ بھئی نہ راکھ‘‘ ایک ایسا دلخراش افسانہ ہے جس میں قربانی دینے والوں کو بھول جانا اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے دوسروں کے روپے پیسے کو بے دریخ استعمال میں لا کر اپنی منزل اور اپنا مقصد حاصل کرکے بھول جانا شامل ہے۔نئے دور کی تقاضے بھی نئے ہیں۔ جب سے انسان مادہ پرستی کی جانب گیا ہے رشتوں اور خاندانوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ مادیت پرستی نے محبتوں کو ختم کر دیا ہے۔ مادی اشیاء میں روزافزوں اضافے اور بے جا استعمال نے ترقی کا نام پا لیا ہے اور اس ترقی کے حصول کے لئے جو بھی سامنے آئے کچلا جا رہا ہے۔’’ کوئلہ بھئی نہ راکھ‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس میں والدہ اپنا سب کچھ نچھاور کرکے آخر اکیلی رہ جاتی ہے:
’’ آپا بی! میں انہیں ایک ہی پیٹ میں رکھا تھا اور ایک ہی انداز سے جنم دیا تھا۔ پر مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ ایک ہی کوکھ میں پاؤںپھیلا کے ایک ہی گود میں پل کے یہ سب کے سب ایک دوسرے کی ضد ہوں گے‘‘۔
 ان جملوں میں ایک پوری تاریخ  بھری پڑی ہے ۔اس افسانے میں ایک عورت کا جذباتی اور رومانی رشتہ بھی کمال ہنرمندی اور سلیقے سے نبھایا گیا ہے۔ جب خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ :
’ نوابوں کی داشتاؤں سے جو اولاد ہو وہ کٹی کہلاتی ہے نواب گنج چلی جاؤ بھرے پڑے ہیں‘‘۔
’’پھر ایسی بات کہتے ہوئے شرم تو نہیں آتی آپ کو؟میں بھی کوئی… اماں کا چہرہ غصے سے سیاہ پڑ گیا‘‘۔
’’ارے عورت عورت ہوتی ہے۔ مرد کی ضرورت بیوی سے پوری ہو یا داشتہ سے…طریقہ کار تو ایک ہی ہوتا ہے…پھر کیا فرق پڑتا ہے؟ ابا بے حیائی سے ہنسے‘‘
اس بحث کے بعد بیوی خاوند سے الگ ہو جاتی ہے۔ افسانہ نگار نے بیوی کے خاوند کے ساتھ جذباتی، جسمانی اور روحانی لگاؤ کو پیش کیا ہے کہ بیوی خاوند سے صرف جسمانی بندھن میں ہی نہیں بندھتی بلکہ اس میں جذباتی لگاؤ اور روحانی تسکین بھی شامل ہوتی ہے جو جسمانی لگاوٹ سے بہرحال اعلیٰ اور ارفع ہے۔ معاشرے میںمرد صرف جسمانیت کا قائل دیکھا گیا ہے اور عورت اس بات سے ناراض ہو کر ساری زندگی گزارنے لگتی ہے۔ بچوں کی نگہداشت اور ان کی کامیاب زندگیوں کی جدوجہد میں کلیدی کردار اس افسانے کا بنیادی موضوع ہے جسے انتہائی خوبصورتی سے نبھایا گیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں مرد کی بالا دستی مقدم ہے اور عورت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اسی سلسلے کا ایک افسانہ ’’ سفید و سیاہ‘‘ ہے جس میں مصنفہ نے کمال مہارت سے کہانی کا تانا بابا بنتے ہوئے ایک کردارجامدانی کا تخلیق کیا ہے۔ جو ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ بھوک اور افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ وہ جس گھر میں پیٹ کی آگ بجھاتی ہے اس گھر سے اس کا رشتہ بھی ہوجانے کی امید ہے مگر انسانی عزتِ نفس جامدانی سے ایسا فیصلہ کرواتی ہے جس کے سامنے سارے ہی بونے نظر آنے لگتے ہیں۔ جامدانی صاف انکار کر دیتی ہے کہ میں جس بستی سے تعلق رکھتی ہوں وہی بستی پیاری ہے…:
’’ میں کاجل کی کوٹھڑی میں رہتی ہوں جہاں غربت کی سیاہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو وہاں داخل ہونے کی کوشش میں آپ کا سفید دامن داغدار ہو جائے… آپ تو جی اس سفید محل ہی میں اچھے لگتے ہیں جہاں سیاہی بھی سفیدی ہے اور پھر مجھے آپ سے کوئی خاص دلچسپی بھی نہیں…‘‘
امِ عمارہ نے ایک افسانہ ’’ روشن اندھیرا ‘‘ کے نام سے بھی ضبطِ تحریر میں لایا ہے ۔ جس میں ایک کہانی کار اس سے بنگال کی خوبصورتی کے بارے میں کہانی کی فرمائش کرتا ہے مگر وہ اس سے اس بات پر الجھ پڑتی ہے کہ کہانی میں حقیقت نگاری بھی ہونی چاہئیے۔صرف لفاظی اور خواب پڑھ کر سر دھننے کا فائدہ …؟ اس افسانے کا مرکزی کردارایک قلم کار عطیہ ہے جو نیاز نامی شخص کے لئے کہانی لکھنے کی حامی بھرتا ہے۔ نیاز اس سے ایک خوبصورت کہانی کا تقاضا کرتا ہے ۔ اسی دوران ان میں سوال و جواب اور نوک جھوک بھی چلنے لگتی ہے۔ عطیہ اسے حقائق دکھانا چاہتی ہے جب کہ اسے حقیقتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ صرف کتاب شائع کرکے پیسے کمانا چاہتا ہے۔ پیسہ عطیہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی کئی خواب بنتی ہے ۔ نیاز ایسی کہانی چاہتا ہے جہاں خوشیاں ہوں اور دکھ کا دُور دُور تک ذکر نہ ہو اور عطیہ جو کہانی لکھتی ہے وہ دکھوں، غموں اور سچائیوں سے لبریز ایک دستاویز ہوتی ہے۔ کہانی کے ساتھ ہی عطیہ کی وہ خواہش جو روپیہ حاصل کرنے کی ہوتی ہے پوری نہیں ہوتی یوں عطیہ اپنے خواب ٹوٹتے مرتے دیکھتی ہے ۔
امِ عمارہ کا افسانہ ’’ آگہی کے ویرانے‘‘ معاشرے میں ہر شخص کے دوغلے پن اور بہروپ کی کہانی ہے۔ یہاں ہر شخص نے اپنے چہرے پر ایک اور نقلی چہرہ سجا رکھا ہے ۔ اصل چہرہ تمام عمر اوجھل ہی رہتا ہے۔ بعض لوگ اپنے ظاہر و باطن میں ایک جیسے ہیں لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سوسائٹی میںبظاہرشرافت اور نجابت کے اعلیٰ مقامات اور مراتب پر فائز ہو جاتے ہیں لیکن اندر سے وہ اتنے مکروہ اور بدکردار ہوتے ہیں کہ گھن آتی ہے۔ ’’ آگہی کے ویرانے‘‘ میں بھی ایسی ہی روداد بیان کی گئی ہے۔ جس میں ایک شخص گھر اور خاندان کی نظروں میں گرا پڑا زندگی گزار رہا ہوتا ہے جب کہ کردار کی اعلیٰ مسند پر براجمان اپنے گناہ کو بھائی کے سپرد کرکے دنیا سے چلا جاتا ہے۔ جب اس کی بیٹی پر یہ سچائی آشکار ہوتی ہے تو وہ خود کو اندر ہی اندر توٹتا محسوس کرتی ہے اور وہ چچا جو اس کی نظروں میں ایک گرے پڑے کردار کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے اس کا قد دیکھتے ہی دیکھتے آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے۔یہ افسانہ ایک مضبوط پلاٹ اورجاندار کرداروں کے ساتھ بہترین زبان و بیان اور نفسیات کا آئینہ دار ہے۔
جب قومیں زوال پذیرہوتی ہیں تو ان کے وہ اصل مقاصد اور اہداف ان کی نظروں اوجھل ہو جاتے ہیںجن کی تکمیل کے لئے وہ ظہور میں آتی ہیں۔ایسی ہی ایک کہانی ’’ یہ گناہِ بے گناہی‘‘ ہے جس میں امِ عمارہ نے بدلتے رویوں پر خوبصورتی سے کہانی لکھی ہے۔ بنگلہ دیش کی تقسیم اور الگ مملکت بن جانے کے پس منظر میں کارفرما کئی تحریکیں اور قوتیں مصروفِ عمل تھیں۔ان میں ایک بنگلہ زبان کا احیاء بھی تھا اور اردوسے نفرت اور بنگلہ زبان سے محبت ، زبان کے نام پر قتل غارت گری جیسے پس منظر میں ایک خوبصورت کہانی تخلیق کی گئی ہے۔ جس سے تاریخ کے کئی ایک تاریک گوشے وا ہوتے ہیں:
’’ خود اس نے اپنے یونیورسٹی کے آخری دنوں میں یہ محسوس کیا تھا کہ خلیج گھٹنے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔ شرجو ہے وہ خیر کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔چھوٹے بھیا جن کی شخصیت ، جن کی کارکردگی لوگوں کے لئے روشنی کا سرچشمہ تھی اندر سے بجھتے جا رہے تھے اور ان کے تمام تر خلوص کے باوجود رشتے ٹوٹتے جارہے ہیں، لوگ بکھر رہے ہیں۔اعتماد اور یقین میں شک اور شبے کی دراڑیں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس دوران کئی معصوم لڑکیوں سے بدکاری اور گینگ ریپ …‘‘
 جس سے انسانیت شرما اٹھتی ہے ایسا ہی ایک کردار پاکھی کی صورت میں سب کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ 
ام ِامارہ کے دیگر افسانوں میں زندگی کا زہر، کروٹ اور پتھر کا آدمی بہترین افسانے ہیں جو بنگلہ دیش کے پس منظرمیں تحریر کئے گئے ہیں۔ ان افسانوں میں رشتوں کے تقدس کی پائمالی بھی ہے اور اس عہد کی زبوں حالی بھی۔ امِ عمارہ کا اپنے گردوپیش کا مطالعہ انتہائی عمیق اور ہر ایک واقعہ کے پس منظر اور پیش منظر کا بھرپورتجزیہ ان کے پختہ شعور کا عکاس ہے۔وہ اپنی تحریر وں میں ٹوٹ پھوٹ کے شکار معاشرے، ختم ہوتی روایات، مطلب پرستی اور مفاد پرستی کے سیاہ چہرے سے پردے ہٹاتی چلی جاتی ہیں۔ ان کی تحریرکی کاٹ معاشرے کو ننگا کرکے سامنے لے آتی ہے۔ جہاں ہر ایک اپنے کردار سے شناسا ہو جاتا ہے۔ اس معاشرے میں سب ننگے ہیں ۔ام عمارہ بغیر لگی لپٹی کے خوب صورت جملوں کی تہہ داری میں سب کہہ جاتی ہیں۔ جو شاید سپاٹ لہجے میں کہنا عامیانہ تصور ہو وہ اس بات کو استعارے اور تشبیہات کے لبادے میںقاری تک پہنچا دیتی ہیں جو ان کے کمالِ فن کا عمدہ ثبوت ہے۔


یہ انٹرویو آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟