نعت پاک : مشتاق احمد نوری ۔ پٹنہ، بہار، انڈیا
سبز گنبد کا نظارہ یہ حرم کے سائے
ان کی دہلیز سے اب کون پلٹ کر آئے
زندگی بھر اُنہیں سینے سے لگا رکھوں گا
اُن کی قربت کے جو لمحات میسر آئے
دولتِ کون و مکاں ہے شہ لولاک کی یاد
کاسۂ دل میں یہ ہم توشۂ عقبیٰ لائے
مجھ کو حاصل رہا سرکار دوعالم کا کرم
میرے سر پر کبھی آئے نہیں غم کے سائے
یہ مدینے کی گلی یہ حرمِ پاک کا نور
ہر جگہ جیسے فرشتے ہوں مرے ہمسائے
جن کو اللہ کی قربت کا شرف حاصل ہو
ان کو پھر صحبت نیرنگ جہاں کیوں بھائے
گرم بستر رہا، زنجیر بھی ہلتی ہی رہی
لامکاں سے جو پلٹ کر شہ لولاک آئے
پھر نہ لوٹوں گا کبھی اپنی طرف میں نوریؔ
مجھ پہ دوبارہ جو اللہ کرم فرمائے

یہ نعت پاک آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟