نظم: چراغ: آصف ثاقب ۔ بوئی، ہزارہ، پاکستان
میں تم کو دیکھنے آیا تھا آج شام پڑے
یہ گہری شام تھی، میں شام کی خموشی میں
بنا بتائے درختوں کو آ گیا تھا اِدھر
مجھے ہے ڈر کہ ہوا کو خبر نہ ہو جائے
وہ جستجو میں اُڑا دے گی خشک پتوں کو
کہ بَن کے سارے مکینوں کو مجھ سے نسبت ہے
میں تم کو دیکھنے آیا ہوں اِس طرف ایسے
مرے وجود میں بے نام سی روانی تھی
تمہارے حُسن کی راحت مجھے نصیب ہوئی
تمہارے شہر کی رونق سے دِل نہال ہوا
خیال مجھ کو اچانک یہ آ گیا ہے ابھی
بِنا بتائے رفیقوں کو آ گیا تھا اِدھر
خبر ہے کیا کہ مجھے ڈھونڈتے پھریں جگنو
اِک اہتمام سے نکلا تھا میں بھی جنگل سے
کہ اِنتظار کی زحمت میں کوئی بھی نہ پڑے
مرا وہاں سے نکلنا کسی پہ کھُل نہ سکے
چراغ میں نے بجھایا نہیں ہے کُٹیا کا
اب آدھی رات ہے مجھ کو پلٹ کے جانا ہے


یہ نظم آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟