ہوائوں کو مبارک ہو : طالب انصاری ۔ واہ کینٹ، پاکستان
ہواؤں کو مبارک ہو
نہیں منڈیر پر کوئی چراغِ ضو فشاں باقی
شعاعِ مہرباں معدوم ہے لیکن دھواں باقی
کہ جن کو روشنی سے عشق تھا وہ بھی
سیاہی کے مریدوں میں ہوئے شامل
کوئی ایسا نہیں جو ظلمتِ شب سے پریشاں ہو
کہ اب تو سب کے ہاتھوں میں
سیہ اعمال نامے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور
سب کے سب
عذابِ تیرگی میں مبتلا رہ کے بھی ہنستے ہیں
ہواؤں کو مبارک ہو
کہ اونچے پیڑ کی شاخوں پہ جو دو چار پتے ہیں
انہیں ذوقِ نمو کے ذکر سے بھی خوف آتا ہے
اگر بادِ صبا بھی سرسراتی ہے
تو ان دو چار پتوں میں سے کوئی ایک پتہ ٹوٹ جاتا ہے
نشاناتِ قدم جو ریگ ِ صحرا پہ ہیں وہ بیکار ہیں کیونکہ
مسافر اُن نقوشِ پا کی اب خواہش نہیں کرتے
ذرا سا سایۂ ابرِ گریزاں بھی جو مل جائے
تو پھر اپنی جگہ سے مدتوں جنبش نہیں کرتے
ہواؤں کو مبارک ہو
انہیں شمعیں  بجھانے کی
درختوں سے خزاں آلود پتوں کو گرانے کی
نقوشِ پا مٹانے کی ضرورت ہی نہیں ہے اب


یہ نظم آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟