ماہئیے : حیدر قریشی ۔ جرمنی
میں   اک   ازلی   راہی
ساتھ نہ ہو یونہی
پھر  سوچ  لے  چن ماہی
----------
بے کار  کے  رونے سے
کچھ بھی نہیں ملتا
پانی   کو  بلونے  سے
-------------
تھے  دیس  میں پردیسی
     آکے ولایت میں          
 اب ہو  گئے ہیں  دیسی
--------------
صرف ایک ہی پل تھا وہ
خود ہی ابد بھی تھا
اور خود  ہی  ا زل تھا وہ
--------------
صحرا میں چناب ایسی
سائبر کی دنیا
بیداری میں خواب ایسی
-------------
لیپ ٹاپ تک  آ پہنچے
اپنے ہی کمرے میں
ہم  آپ  تک  آپہنچے
-------------

یہ ماہیئے آپ کو کیسے لگے؟ انہیں کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟