منی کہانیاں : جوگندر پال

بچہ ہے بیچارہ

’مفلوک الحال والدین کے پاس بیٹھا بچہ اپنے اسکول کورس کی کتاب پڑھ رہا ہے۔‘‘
’’اچھے لوگ ہمیشہ اچھی خوراک کھاتے ہیں۔ اجلے کپڑے پہنتے ہیں۔ ہوا دار مکانات میں رہتے ہیں۔ ‘‘
’’بکواس بند کرو‘‘ اس کے مفلس باپ سے نہ رہا گیا۔
’’بگڑتے کیوں ہو؟‘‘ لڑکے کی ماں نے اپنے شوہر کو سمجھایا ’’بچہ ہے بیچارہ‘‘

بھوکا

’جب میری جیب پیسوں سے بھری ہوتی ہے تو میں مزے سے ہوٹل امپریل میں جا کر نہایت تہذیب سے کھانا کھاتا ہوں۔ ‘‘
’’اور جب خالی ہوتی ہے تو متمدن لوگوں سے چھین جھپٹ کر ان کی تہذیب کھا لیتا ہوں۔ ‘‘

فاصلے

میں ان دنوں کئی بار اپنے راکٹ میں بیٹھ کر چاند تک ہو آیا ہوں ، لیکن ایک مدت ہو گئی دس قدم چل کر اپنے بھائی سے ملنے نہیں گیا۔

نقطۂ نظر

میں اندھا تھا۔
لیکن جب ایک برٹش آئی بنک سے حاصل کی ہوئی آنکھیں میرے ساکٹس میں فٹ کر دی گئیں تو مجھے دکھائی دینے لگا اور میں سوچنے لگا کہ غیروں کا نقطء نظر اپنا لینے میں بھی اندھا پن دور ہو جاتا ہے۔

اصل و نقل

’’میری ماں کو مرے پندرہ برس ہو لئے تھے۔
آج میں نے اس کی تصویر دیکھی اور رنجیدہ ہو کر سوچنے لگا۔
تصویریں ہی اصل ہوتی ہیں جو رہ جاتی ہے۔ ماں تو محض ایک گمان تھی جو گزر گئی۔‘‘

محمد غوری

’’اس نے ہندوستان پر کئی حملے کئے اور ہر بار اپنی منہ توڑ ناکامی کے باوجود ہمت نہ ہاری اور بالآخر اپنے تازہ حملے میں دہلی سر کر لی اور یہاں سکریٹریٹ میں کلرک پکی نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔‘‘


یہ منی کہانیاں آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟