سب کچھ اندر ہے : فیروز عابد ۔ کلکتہ، انڈیا
آنکھ کھلی تو دیکھا بیوی جائے نماز ٹھیک کر رہی تھی۔
’’کیا وقت ہوا ہے۔۔؟‘‘
’’بس اب اذاں ہو گی۔۔۔!‘‘
کل شام جب اسکول کی نو تعمیر شدہ عمارت دیکھ کر گھرواپس آیا تو بیٹے نے کہا تھا ’’ڈائریکٹر صاحب بھی تیسری منزل پر پہنچ کر کچھ تھک سے گئے تھے مگر آپ کی تو سانس ہی پھول گئی تھی۔ چلیے کل سے مارننگ واک کیجیے میں آپ کے ساتھ جاؤں گا۔۔۔۔۔‘‘
’’وہ مجھ سے دس سال چھوٹے ہیں۔۔۔۔‘‘ میں نے بیٹے سے کہا اور یہ کہہ کر دل ہی دل میں سوچنے لگا اس طرح ہانپ کر جینے میں جو مزہ ہے اور ایسی حالت میں کام کے مکمل کر لینے کا جو سکون ہے وہی تو قلبی سکون ہے ورنہ بغیر شمولیت قلب عبادت بھی بے کار ہے۔
اذاں ہو گئی ہے۔۔۔۔۔حسب معمول میری پڑوسی گوتم کی ماں کا نسے کا برتن بجا رہی تھیں اور گوتم کی بیوی ناقوس پھونک رہی تھی۔۔۔۔۔۔!
قبل اس کے کہ بیوی نماز کے لیے تیار ہوتی ،  میں نے کہا ذرا دروازہ بند کر لو۔
’کہاں چلے۔۔۔۔۔؟‘‘
’’جب صبح خیزی ہوئی ہے تو صبح خرامی بھی کر لوں۔۔۔۔۔!‘‘
’’بیٹے کو جگا دیتی ہوں ‘  وہ ساتھ ساتھ رہے گا۔۔۔‘‘
محترمہ وہ اُٹھے گا،  غسل کرے گا اور بچوں کو لے کر اسکول جائے گا۔۔۔!
’’ٹھہر ئیے۔۔۔۔۔!‘‘
’’اب کیا ہو۔۔۔۔؟‘‘
’’باہر ہوا میں خنکی بہت ہے۔۔۔‘‘
’’محترمہ قوت ارادی بہت مضبوط ہے۔۔۔۔!‘‘
’’بات قوت اور طاقت کی نہیں۔۔۔بات ہے ماہ فروری کی رخصت ہوتی ہوئی سردی کی۔۔۔۔!‘‘
’’واپسی میں گرمی لگنے لگے گی۔۔۔۔!‘‘
’’پانچ سال پرانی شال ہے۔۔۔۔اس کی گرمی بھی کم ہو گئی ہو گی۔‘‘
قبل اس کے کہ میں کچھ کہتا، وہ زینوں سے اتر نے لگی، میں صرف مسکرا کر رہ گیا۔اس نے جب کمرے کا دروازہ بند کر لیا تو میں نچلی منزل کی طرف جانے کے لیے زینے طے کرنے لگا۔ میں جانتا تھا کہ صدر دروازہ کھلا ہی ہو گا اس لیے کہ میرے بھتیجے فجر کی نماز کے لیے نکل پڑے ہوں گے۔
واقعی سردی تھی۔۔۔شال لپیٹ کر کھولا مسجد کے قریب کھڑے کھڑے سوچنے لگا مغرب کی طرف کالج اسکوائر جاؤں یا پھر مشرق کی طرف نیتا جی گراؤنڈ۔۔۔۔!
میں نے اپنا رخ مشرق کی طرف کیا اور اے پی سی روڈ کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔ابھی دو قدم ہی چلا تھا کہ پشت سے آواز آئی ’’کہا ں جا رہے ہو دوست ؟‘‘
دیکھا تو میرا بہت دیرینہ دوست مسکرا رہا تھا۔
’’کب آئے ؟‘‘
’’کل شب ۹ بجے !‘‘
’’تم کہاں چلے ؟‘‘
’’مارننگ واک کے لیے۔۔۔۔۔‘‘
’’چلو میں بھی چلتا ہوں۔۔۔۔چلو نا کالج اسکوائر۔۔۔۔یونیورسیٹی کی پرانی یادیں تازہ کر لیں۔۔۔’’اس نے کہا 
مشرق کی طرف چلو یا مغرب کی طرف، مجھے تو صبح قدمی سے مطلب ہے۔۔۔۔’’میں نے کہا
ہم دونوں پرانی یادوں کو کریدتے امہرسٹ اسٹریٹ کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔۔یہ کیا۔۔۔۔امہرسٹ اسٹریٹ کے موڑ پر تو پولیس والوں کا مکمل قبضہ تھا۔
’’کیا ہوا۔۔۔۔۔۔؟‘‘ میں نے ایک شخص سے پوچھا
’’دو آدمی۔۔۔۔۔ختم ہو گئے۔۔۔۔۔بہت اندھیرا تھا۔۔۔۔۔تیز لاری نے کچل دیا۔۔۔۔‘‘اس کی لرزتی آواز کہیں دور سے آ رہی تھی۔
’’یار کیا ہو گا۔۔میں گھر چلا۔۔۔پڑوسی ملک سے آیا ہوں۔۔۔۔کسی مصیبت میں نہ پھنس جاؤں۔۔‘‘میرے دیرینہ دوست نے کہا جو  اب مہاجر بن چکا تھا۔
’’ٹھیک ہے۔۔۔۔!‘‘
سیتارام گھوش اسٹریٹ سے مہاتما گاندھی روڈ تک داخلہ ممنوع تھا۔ بادل نخواستہ میں شمال کی طرف بڑھنے لگا۔۔کالج اسکوائر جاؤں گا بھلے سے لمبا چکڑ لگا نا پڑے۔۔
سینٹ پال کیتھدڑل کالجیٹ اسکول کا مین گیٹ کھلا ہوا تھا۔۔۔۔لڑکے فٹ بال کھیلنے اندر گراؤنڈ میں جا رہے تھے۔
میں آگے بڑھتا چلا گیا۔۔کیشب چندر سین اسٹریٹ سے پھر مغرب کی طرف چل پڑا۔۔۔مٹھائی ناشتہ، چائے ،سگریٹ  پان اور کھینی کی دکانیں تھیں۔ 
کالج اسٹریٹ باٹا سے بائیں مڑ کر کالج اسکوائر تھا مگر یہاں بھی پولیس والوں نے راستہ بند کر رکھا تھا۔اصل میں کالج اسٹریٹ مارکیٹ کو منہدم کر کے نیا شاپنگ کمپلکس بن رہا تھا۔
بڑے بڑے ٹرکوں سے لوہے کی لمبی لمبی سلاخیں اتاری جا رہی تھیں۔
میں چلتا رہا۔۔۔بیت المال گرلس اسکول کیلا بگان سے آگے بڑھا تو بدبو کے شدید جھونکے نے چودہ طبق روشن کر دیے۔۔۔یہ کیا۔۔۔؟ داہنے کونے پر کوڑے کا پہاڑ کھڑا تھا۔
آدھے سے زیادہ راستہ کوڑے کے پہاڑ نے گھیر رکھا تھا۔۔۔آٹو والے جہاں تہاں سے گاڑی نکال رہے تھے۔
اتنا کوڑا کہاں سے آیا۔۔۔۔آس پڑوس کے دوسرے وارڈوں کے کوڑے شاید اب یہاں ہی جمع ہوتے ہوں۔۔۔ایسا کیوں۔۔۔؟ اس سے قبل تو ایسا نہیں ہو تا تھا۔
سوچا مہاتما گاندھی اسٹیشن سے میڑو ریل  پر سوار ہو کر دھرمتلہ چلا جاؤں۔۔۔آج وہیں میدان میں ٹہل لیں گے۔۔۔۔۔مگر یہ کیا۔۔۔۔۔؟
کیلا بگان کی طرف کھلنے والا میٹرو اسٹیشن کے سب وے کا گیٹ بند تھا۔۔۔۔میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ گیٹ پر پہرہ دینے والے سپاہیوں میں سے ایک نے کہا۔۔۔۔ـ’’
آپ میٹرو سے جائیں گے ؟  مہا جاتی سدن کی طرف کھلنے والے گیٹ سے جائیں۔۔۔یہ گیٹ اب بند کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ـ‘‘
’’ایسا کب ہوا اور کیوں ہوا؟‘‘ میں نے دل میں سوچا اور جنوب کی طرف بڑھنے لگا۔۔میرے سامنے کئی برقع پوش خواتین کیلا بگان سے نکل کر جنوب کی طرف جا رہی تھیں۔۔۔
بہت سارے دیر تک وظیفہ پڑھنے والے نمازی چولیا مسجد سے نکل کر بہشتی پاڑہ رجا رہے تھے۔
میں نے مہاتما گاندھی روڈ کو لال سنگل کے سہارے کراس کیا اور پھر فائر برگیڈ سے ہوتا محمد علی پارک کی داہنی گلی میں مڑ گیا۔۔۔راستے سے گزرتا ہندو ہوسٹل جہاں آنجہانی صدر جمہوریہ راجندر پرساد اپنے طالب علمی کے زمانے میں رہتے تھے اس کے فٹ پاتھ کے آس پاس پولیس کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔۔۔چلتے چلتے پوچھنے پر معلوم ہوا ہوسٹل میں قیام پذیر جونیر طلبا نے اپنے سنئیر طلبا کی پٹائی کر دی تھی۔۔۔
کلکتہ یونیورسیٹی کے پچھلے گیٹ کے اندر بند منظروں کو محسوس کرتا کالج اسکوائر آ گیا۔۔۔۔۔کالج اسکوائر میں راجہ رام موہن رائے کے مجسمے کے داہنی طرف سے گزرا تو قرآن مجید کی تلاوت نے چونکا دیا۔۔۔کالج اسکوائر میں تلاوتِ کلام  پاک۔۔۔۔۔۔؟  دیکھا تو وہ جو گول گومتی ہے جس میں عورتیں اور مرد چہل قدمی سے پہلے یا چہل قدمی کے بعد بیٹھتے ہیں وہاں ایک ادھیڑ عمر خاتون تلاوت کر رہی تھیں اور آس پاس بیٹھے مرد وزن خاموشی سے گوش بر تلاوت تھے۔۔۔۔’’حیرت کا بھی دھڑکے ہے دل کچھ کچھ دیکھ کر ایسا سماں۔۔۔۔‘‘
قرآن سننے والے شاید سب ہی غیر مسلم تھے۔ میں نے کالج اسکوائر گول تالاب کا دو چکر لگایا۔ دوسرے چکر کے بعد مجھے وہ خاتون نظر نہیں آئیں ، شاید جا چکی تھی اور سن رسیدہ بوڑھے اور بوڑھیاں اس کے تلاوت کی تعریف کرتے اور اس کی مہلک بلڈ کینسر کی بیماری سے غم زدہ اپنی اپنی منزل کو روانہ ہو رہے تھے۔۔۔چلیے ان لوگوں کو قرآن کی تلاوت سننے کا شرف حاصل ہو رہا تھا۔
میں مرزا پور اسٹریٹ سے گزرتا اے پی سی روڈ کی شاہی سڑک پر آ گیا۔۔۔اور سیدھے قیصر اسٹریٹ کی راہ نکل پڑا۔۔۔بو علی ہوسٹل سے گزرتا ریلوے کوارٹر کی گلی میں داخل ہو گیا۔
قریشی قبرستان کے گیٹ پر غیر مسلم عورتیں پانی لیے کھڑی تھیں اور قبرستان کا مجاور ان پانیوں پر دم کر رہا تھا۔ آگے بائیں طرف منشی تالاب کے  شیعی قبرستان کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔میں تھوڑی دیر کے لیے رکا سید آغا رضوی مرحوم کی یاد آئی ، دعا کے لیے ہاتھ اُٹھے۔۔۔دعا پڑھ کر مڑا تو اختر قریشی نے سلام کیا۔۔۔اس کے ہونٹوں پر سیدزادے کی مسکراہٹ تھی۔۔۔‘‘ آپ بہت اچھے ہیں سر۔۔۔!‘ ‘ وہ اتنا کہہ کر آگے بڑھ گیا اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اس لیے کے پڑوسی ملک کی افراتفری دھواں ، دھماکے اور گولیاں شیعی اور قریشی قبرستانوں کے درمیان منجمد ہو گئیں۔ 
میں حاجی پاڑہ اور جناتی مسجد کی گلی سے گذرتا۔۔۔ای آر گراؤنڈ سے ہوتا۔۔۔۔ اس کے بغلی گلی کمہار ٹولی سے گزرتا فٹ پاتھ پر  شمال کی طرف بڑھنے لگا۔۔ قاسم بازار کوٹھی کا آہنی بلند دروازہ ادھ کھلا تھا۔ نیم کا مسواک فروخت کرنے والا اسی طرح مسواک فروخت کر رہا تھا۔ میں نے بھی اسے تین مسواک دینے کے لیے کہا اور قاسم بازار کوٹھی کے موجودہ آہنی دروازے کو دیکھنے لگا جہاں چھتیس۳۶، بتیس۳۲ اور اٹھائیس۲۸ منزلہ تین عمارت مکمل کمپلکس کے درمیاں کھڑی تھیں۔۔۔ میں ماضی کے دروازوں سے گذرتا چلا گیا۔ ۱۹۴۱ ،میں نے بموں کی آوازوں کے درمیان جنم لیا۔۔۔۱۹۴۶ اور ۱۹۴۷یاد نہیں۔۔۔ سنا ہے انسان کا خون بہت بہا۔۔۔۔۔۱۹۵۰کا فرقہ وارانہ فساد ، ۱۹۶۲،۱۹۶۵ میں پڑوسی ملکوں سے جنگ اور پھر ۱۹۷۱ میں ایک ملک کے دو حصے ہو گئے۔ کس نے کس کو مارا۔۔۔ کس کا خون بہایا۔۔۔شاید میں ہی مرا تھا اور شاید میں نے ہی خود کو مارا تھا۔۔۔ہاں اسی خون خرابے ، موت و زیست ، بلندی و پستی، درندگی اور پھر امن و اشتی و بھائی چارگی کے حلف نامے کے بعد ایک نیا ملک وجود میں آ گیا۔۔دنیا کے نقشے پر ایک نئی قوم اپنوں کے درمیان سے ابھری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچانک چلانے کی آواز نے ماضی کے دروازے بند کر دئیے۔
’’نہیں یہاں تمہارے لیے کوئی کام نہیں ہے۔۔۔اس کمپلکس میں باہر کے لوگوں سے کوئی کام نہیں لیا جاتا۔۔۔۔سوئمنگ پُولس، اسپتال، اسکول، کلب، کھیل کا میدان، شاپنگ مال، بیوٹی کمپلکس، ڈاکٹر ، الیکٹرک مستری، بڑھئی ، معمار،جاروب کش ،ڈوم اور موچی سب کے سب اندر ہی رہتے ہیں۔۔۔۔باہر سے کوئی نہیں آتا۔۔۔۔۔!‘‘
’’کیا شمشان گھاٹ بھی اندر ہے۔۔۔؟‘‘  پوچھنے والا شاید بڑھئی تھا اور صبح صبح کام کی تلاش میں نکلا تھا۔
’’کیا بکتے ہو‘‘۔۔۔۔ دربان نے چیخ کر کہا
’’نہیں ہے تو الیکٹرک چولہا ہی لگوا لو تاکہ مرنے کے بعد اندر کا آدمی اندر  ہی خاک ہو کر ہمیشہ کے لیے اندر ہی رہ جائے۔ اس کا جنازہ شمشان گھاٹ کیوڑہ تلہ اور نیم تلہ کیوں جائے۔۔۔۔!‘‘
میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور میں مسواک لیے ای ایس آئی اسپتال اور ٹاکی اسکول کے سامنے سے سڑک پار کرتے ہوئے اے کے پوائنٹ کے پاس آ گیا۔۔۔
اے کے پوئنٹ کے فٹ پاتھ کے منظر نے ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا۔
ایک بچی یہی کوئی پانچ چھ سال کی سہمی سہمی سی بیٹھی تھی اور اس کے بغل میں اس کی ماں سسکیاں لے رہی تھی۔۔۔۔۔سر سے ٹخنے تک کوئی میلی سی چادر اوڑھے لیٹا تھا اور اس سے کچھ دوری پر چار پانچ آدمی کھڑے تھے۔
’’کیا ہوا۔۔۔؟‘‘
’’بے چارہ رکشا والا تپ دق کا مریض تھا۔۔۔کل را ت چل بسا۔۔۔۔۔‘‘
میں نے دیکھا اس کا سر تو چادر سے ڈھکا ہوا تھا لیکن پاؤں گھٹنے سے نیچے تلوے تک کھلے ہوئے تھے۔
’’آپ اس کو جانتے ہیں۔۔۔۔؟‘‘
’’ہاں ہمارے فٹ پاتھ کا ساتھی تھا۔۔۔۔۔!‘‘
غیر ارادی طور پر میں نے شال کو اپنے جسم سے الگ کیا اور اس چادر کے اوپر ہی اس کو پھیلا دیا تاکہ پاؤں تک ڈھک جائے۔
مرحوم کا رکشا اے کے پوئنٹ سے قریب ماشاء اللہ بلڈنگ کے نیچے لباس ٹیلرس کے پاس رکھا ہو تھا۔
کل شاید اسے کوئی اور چلائے گا۔۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے آج ہی سے کوئی اور اسے سڑکوں پر کھینچے۔۔۔۔۔۔
ابھی تو بہت سارے لوگوں کے لیے صبح ہوئی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!


یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟