بطور خاص : اسلم بدر کی بارہ غزلیں



(1)
اتارنا ہے مجھے صدقۂ جبیں، کہیں اور
ہے آسمانوں سے آگے بھی کیا زمیں کہیں اور

بھڑک اُٹھی تو بجھے گی نہ انتقام کی آگ 
یہاں ہیں سب مرے اپنے، یہاں نہیں، کہیں اور

کبھی کبھی چلی آتی ہے موسمی خوشبو
مکان بوڑھا ہوا بس گئے مکیں کہیں اور

یہ میرے شعر ہیں ، یہ بزم فہم و دانش ہے
بھڑاس اپنی نکالیں یہ نکتہ چیں کہیں اور

ابھی تو جبہ و دستار میرے سامنے ہیں
اتار آئے ہیں تہہ دار آستیں کہیں اور

کجھور کی وہ چٹائی ، وہ ٹاٹ کا پردہ
اٹھا کے پھینک دیا تخت شہہ نشیں کہیں اور

زمین چل کہ جہاں حسب خواہ رنگ ملے
فلک کا رنگ تو کچھ اور ہے کہیں، کہیں اور
----------------

(2)
ہزاروں مشکلوں کے بعد آسانی نکلتی ہے
مگر اس خیمۂ گل سے بھی ویرانی نکلتی ہے

سنور جاتی تو ہے اک اجنبی مسکان ہونٹوں پر
مگر لوح جبیں سے کب پریشانی نکلتی ہے

بہت جھنکار سے مانوس ہوتا جا رہا تھا دل
مگر اب پائوں سے پازیب زندانی نکلتی ہے

پھر اس کے بعد تو احساس کے پر بھی شکستہ ہیں
تو چلتے ہیں جہاں تک راہ امکانی نکلتی ہے

ہماری فصل کٹ جاتی ہے بیج آنے سے پہلے ہی
مگر اس کھیت سے تو گرد بھی دھانی نکلتی ہے

فقیرانہ یہاں تک آ چکے اب لوٹ جاتے ہیں
کچھ آگے موڑ پر دیوار سلطانی نکلتی ہے

سلامت آئنہ ہے اور میں حیرت سرا اسلمؔ
مری آنکھوں سے آئینے کی حیرانی نکلتی ہے
-----------------

(3)
میرے ہونے سے بہت دور ہے امکان مرا
ڈھونڈتا ہے مجھے کھویا ہوا سامان مرا

میں زمانے کے تعاقب میں ہوں، میرے پیچھے
آنے والے کسی موسم میں ہے اعلان مرا

ایک جھونکا بھی مری خاک اُڑا دیتا ہے
میری تخلیق میں شامل ہے بیابان مرا

اب کے سیلاب میں ماتھے کا پسینہ بھی بہا
بیج تک بھی نہ بچا پایا ہے کھلیان مرا

ایک وحشت سی مجھے روز جکڑ لیتی ہے
مجھ کو ہر روز بچا لاتا ہے انسان مرا

غالبؔ و میرؔ کے دیوان مرے ہاتھوں میں
سر پہ دستار ادب، طاق پہ قرآن مرا؟
------------------

(4)
دیکھ فلک! میں اپنے گھر سنسار میں ہوں
اپنی چھت ہے ، اپنی ہی دیوار میں ہوں

بے قیمت سا دنیا کے بازار میں ہوں
دنیا تیری ہے ، تیرے شہکار میں ہوں

آنکھیں مجھ کو ننگا دیکھنا چاہتی ہیں
چاروں اور سے نظروں کی یلغار میں ہوں

جنگ کی آہٹ دروازے تک آ پہنچی
زنگ کی صورت میں اپنی تلوار میں ہوں

ڈوب چکی ہے نائو تو کیا، میں تو اب تک
مار رہا ہوں ہاتھ ابھی منجدھار میں ہوں

اپنی آگ میں جلتے رہنا، دھن اپنا
سورج جیسا دھوپ کے کاروبار میں ہوں
-------------------

(5)
چھت کے نیچے بھی آسماں کھل جائے
چھائوں دیوار کی ہے دھوپ سرائے

ہر نظر میں خراشِ منظر ہے
پھول چہرے بھی ہیں ببول اگائے

پھول کوئی کِھلے تو دیکھوں رنگ
رنگ کوئی کُھلے تو خوشبو آئے

پانی پانی پکارتی ہے صبا
دن چڑھے باندھ پیاس کا ڈھہ جائے

ایک ہے، خواب کیا، حقیقت کیا
آب سے بھی سراب دھوکا کھائے

دھوپ دن کی ہے آنکھ کا پردہ
رات مہتاب آئنہ چمکائے

ہے یہ سرگوشیوں کی رُت اسلمؔ
شاعری سے کہو نہ شور مچائے
--------------

(6)
چمک دمک مرے طائوسِ خود شناس اتار
بہت پہن لیا آنکھوں بھرا لباس، اتار

تجھے تو یاد ہے پانی سے پیاس کا رشتہ
تو تُو بھی اپنے لہو سے ندی کی پیاس اتار

چنبیلیاں ہیں لپکتی مہکتی، آنگن میں
منڈیر پر ترے اُگنے لگی ہے گھاس اتار

پھر اس کے بعد خدا نام کا دیا رکھ دے
ہوا کے طاق پہ روشن ہے جو ہراس اتار

یہ کشت تیری ہے، لفظوں کے پھول تیرے ہیں 
تو اپنے رنگ چڑھا ان پہ، اپنی باس اتار

تری بلند اڑانیں بہت ہیں آوارہ 
مجھے زمیں پہ مری فکر بدحواس اتار

مری غزل ، مرے احساس و لفظ کر دے بہم
بساط فکر پہ اک نقطۂ مماس اتار
----------------

(7)
خود اپنے آپ میں مصروف ہو گئے ہیں بہت
بہت قریب ہیں ، قربت میں فاصلے ہیں بہت

ہر ایک سمت وہ صورت دکھائی دیتی ہے
نظر کا مسئلہ یہ ہے کہ آئنے ہیں بہت

بنا ہوا ہے صنم خانہ میری مٹی کا
زمین، چاند ، ستارے ، مجسمے ہیں بہت

ہمارے جہل کو شاید تو جانتا ہی نہیں
تو جان، کچھ نہیں جانا کہ جانتے ہیں بہت

عجیب سوچ کے چہرے ہیں، میرے آنگن میں
دریچہ بند اگر ہو تو جھانکتے ہیں بہت

خوش آمدید کی سرگوشیاں سی گونجتی ہیں
کٹھن ہے راہگزر ، ہم بھی تھک چکے ہیں بہت
-------------------

(8)
لہر اٹھی دل سے ، سر میں ڈوب گئی
موج دریا ، بھنور میں ڈوب گئی

عیب بھی کچھ نہ تھا ، سوار بھی کم
نائو اپنے ہی ڈر میں ڈوب گئی

آج کچھ سوچ کر چلے تھے ہم
برہمی چشم تر میں ڈوب گئی

کیا خبر تھی، مہک اٹھا اخبار
وہ مہک کس خبر میں ڈوب گئی؟

حسرت کوئے یار بھی آخر
تخت و تاج ظفر میں ڈوب گئی

ایسا فن اور ایسی فنکاری
شاعری اس ہنر میں ڈوب گئی
---------------

(9)
ڈھہ جاتا ہے روز کوئی کونا مجھ میں
ایک کھنڈر سا کچھ ہے کچھ ملبہ مجھ میں

آہستہ آہستہ روشن ہوتی شام
دھوپ اترتی ہے سایہ سایہ مجھ میں

یادوں کے میلے سے کوئی چھپ چھپ کر
ملنے آ جاتا ہے تن تنہا مجھ میں

تب میں اپنوں، رشتوں ، ناطوں کی سوچوں
اپنا پن تو ہو جائے اپنا مجھ میں

دن بھر میرے ہاتھ اسی کو بُنتے ہیں
نیند سے باہر رہتا ہے سپنا مجھ میں

ٹوٹ نہ جائے دیکھو یہ مٹی کا باندھ
چھلکا چھلکا آنکھوں کا پیالہ مجھ میں

کھیلوں گا میں اپنے چاند کھلونے سے
ہٹ کرتا ہے ننھا سا بچہ مجھ میں
--------------

(10)
امید چارہ گری میں بچارے کاٹتے ہیں
کوئی ہو سانحہ، ڈر کے سہارے کاٹتے ہیں

لکیریں کاٹتی رہتی ہیں دھوپ دن بھر کی
سیاہ شب بھی، ہمارے ستارے کاٹتے ہیں

ندی ابال پہ ہو تو کنارے کاٹتی ہے
سبک خرام ندی کو کنارے کاٹتے ہیں

بس ایک آنچ ضروری ہے سر بلندی کو
ہوا کا بوجھ ، ہوائی غبارے کاٹتے ہیں

بس اس کی یاد کو پلکوں پہ رولتے رہنا
چٹان جیسی ہو پانی کے دھارے کاٹتے ہیں

دہکتی آگ میں جلتے ہیں جب چنار بدن
دریدہ برف کے تودے، شکارے کاٹتے ہیں

سنبھل! کہ ٹوٹ رہی ہے طناب سورج کی
زمیں کے سائے، فلک کے اشارے کاٹتے ہیں
---------------

(11)
کُل کی ہو تکمیل کیا، تمثیل کیا
آدمی مجبور ہے ، جبریلؑ کیا

ھُو کی ہلچل، ارتعاشِ خامشی
گونجتا ہے صور اسرافیلؑ کیا

ڈوبتی آنکھوں سی بزم کائنات
بجھ رہی ہے آخری قندیل کیا

ہے پگھلتی آگ موج آب میں
کیا ندی، کیسا سمندر، جھیل کیا

کینوس پر کچھ نہیں ، کچھ بھی نہیں
رنگ سارے ہو گئے تحلیل کیا

متن کی تفہیم کیا ہوگی نئی؟
استعاروں کو ملی تاویل کیا؟

باز کی نظروں میں سارے ایک ہیں
کیسی کوئل، کیا کبوتر، چیل کیا
--------------

(12)
قدم اگلا سفر آباد رکھے
سبق بھولا ہوا کیوں یاد رکھے

اٹھا کر لے گیا کوئی نشیمن 
خس و خاشاک ہی صیاد رکھے

چٹانوں میں تھا رم تو دست و پا میں
کبھی مجنوں کبھی فرہاد رکھے

نہ جانے بک رہا ہے کیا قلندر
عدم تیرا تجھے آباد رکھے

ہماری پیاس ، پانی کی نہیں ہے
وہ اپنا کوفہ و بغداد رکھے

انا قطرے کی فی البحر و انا البحر
گہر ہو جائے تو شداد رکھے

مسلسل ڈھہہ رہا ہوں، بن رہا ہوں
مرا ملبہ نئی بنیاد رکھے
--------------



یہ غزلیں آپ کو کیسی لگیں؟ انہیں کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟