غزل : شہپر رسول، نئی دہلی، انڈیا

چپ گزر جاتا ہوں، حیران بھی ہوجاتا ہوں
اور کسی دن تو پریشان بھی ہوجاتا ہوں

سیدھا رستہ ہوں مگر مجھ سے گزرنا مشکل
گمرہوں کے لیے آسان بھی ہوجاتا ہوں

فائدہ مجھ کو شرافت کا بھی مل جاتا ہے
پر کبھی باعث نقصان بھی ہوجاتا ہوں

اپنے ہی ذکر کو سنتا ہوں حریفوں کی طرح
اپنے ہی نام سے انجان بھی ہوجاتا ہوں

رونقیں شہر بسا لیتی ہیں مجھ میں اپنا
آن کی آن میں سنسان بھی ہوجاتا ہوں

زندگی ہے تو بدل لیتی ہے کروٹ شہپر
آدمی ہوں کبھی حیوان بھی ہوجاتا ہوں


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟