غزل : محمد اسفر آفاقی، ایبٹ آباد، پاکستان
آپ جب بھی سنورنے لگتے ہیں
چاند تارے نکھرنے لگتے ہیں

شب کی دِیوار پر خموشی میں
ہونٹ اُن کے اُبھرنے لگتے ہیں

نیند سنگین کیسے ہوتی ہے
خواب کیسے بکھرنے لگتے ہیں

ایک صورت کے یاد آنے پر
شعر دِل میں اُترنے لگتے ہیں

تلخ لمحوں میں دوستوں کے بیچ
اپنے لہجے سے ڈرنے لگتے ہیں

جانے کیوں دل میں درد رہتا ہے
جب کبھی زخم بھرنے لگتے ہیں

اب یہاں بات بات پر اسفرؔ
لوگ حد سے گزرنے لگتے ہیں


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟