غزل : خداداد خالد، ملتان، پاکستان
مجھے سلیقہ نہ آیا اُسے منانے کا
میں سوچتا رہا دستِ طلب بڑھانے کا

وہ میری روح پہ لکھی ہوئی عبارت ہے
میں سوچ بھی نہیں سکتا اُسے مٹانے کا

وصالِ یار سرِ رہ مرا نصیب کہاں
میں انتظار کروں گا کسی بہانے کا

ہوا کے تخت پہ سندیسے آتے جاتے ہیں
یہ سلسلہ بھی سہانا ہے آنے جانے کا 

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟