غزل : اشرف یعقوبی، کلکتہ، انڈیا
یہ کیسا ترا کھیل تماشا ہے مداری
ہر آدمی جینے کو ترستا ہے مداری

آجاتا ہے غیرت کی جبینوں پہ پسینہ
بازار میں جب اس کو نچاتا ہے مداری

کیوں اچھی کمائی کےلئے نیم برہنہ
جسموں کو سر راہ نچاتا ہے مداری

بھرپور تجھے داد کبھی ملتی نہیں ہے
ہر کھیل تر گرچہ انوکھا ہے مداری

وہ رزق تجھے رب سے بہر حال ملے گا
تقدیر میں جو کچھ تری لکھا ہے مداری

وہ روز مجھے خواب میں آتا ہے نچانے
ہمسایہ مرا تیرا ہی سایہ ہے مداری

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟