غزل : تلک راج پارس، جبل پور، انڈیا
زمیں پر فلک سے زیادہ نہیں ہے 
یہاں پر اجالا کشادہ نہیں ہے

نمائش کرو استفادہ نہیں ہے 
تمہارا کوئی بھی اعادہ نہیں ہے

میں کیسے ادا اُن کی سنّت کروں گا 
لبوں پہ  جو حرفِ قتادہ نہیں ہے

ورق سارے میں نے پڑھے ہیں لغت کے 
یہ کس نے کہا حرفِ سادہ نہیں ہے

ہمارے عمل کی سزا ہم نے پائی 
خدا کی طرف سے فتادہ نہیں ہے

وہ کہتے ہیں باطل کے حق میں رہوں میں 
مرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے

یہاں اس کو عزّت نہیں ملنے والی 
کہ ریشم کا جس کا لبادہ نہیں ہے

ادب سے تعلق بُھلا دینا بہتر 
اگر تم کو مجھ سے افادہ نہیں ہے

میں کیسے لڑوں ان کے لشکر سے پارسؔ 
مرے پاس کوئی پیادہ نہیں ہے
-----------

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟