غزل : اصغر شمیم، کلکتہ، انڈیا
زمیں کی حدوں سے گذر کر تو دیکھو
کبھی آسماں سے اتر کر تو دیکھو

کہیں نہ کہیں مل ہی جائے گی منزل
کسی رہ گذر پر ٹھہر کر تو دیکھو

یونہی اک نظر سے سمجھ نہ سکوگے
کبھی تو مجھے آنکھ بھر کر تو دیکھو

ترے ہاتھ بھی کوئی موتی لگے گا
سمندر میں اک دن اتر کر تو دیکھو

بسا لیں گے تجھکو نگاہوں میں اصغرؔ
سرِ بزم اک دن سنور کر تو دیکھو

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟