غزل : دانش فراہی، اعظم گڑھ، یوپی،انڈیا
شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا
مت پوچھو کہ مجھ پر کیا گذری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیا

تاریکیٔ محفل کا شکوہ تم کرتے ہو اے دیوانو کیوں
خود شمع بجھا دی ہے تم نے خود بخت تمہارا پھوٹ گیا

ساقی کی نظر اٹھتی ہی نہیں کیوں بادہ و ساغر کی جانب
سرمایۂ مے خانہ آ کر کیا کوئی لٹیرا لوٹ گیا

محرومیٔ قسمت کا عالم کیا پوچھ رہے ہو تم مجھ سے
منزل تو ابھی ہے دور بہت اور اک اک ساتھی چھوٹ گیا

اٹھتا ہے دانشؔ دل سے دھواں آنکھوں سے ٹپکتے ہیں آنسو
کیا آتشِ غم دینے لگی لَو کیا دل کا پھپھولا پھوٹ گیا

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟