افسانہ: ڈائن: پیغام آفاقی


جی، میں نے اپنے ڈاکٹری کے پیشے میں بہت سے لوگوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا ہے۔ جی۔ ان میں چند اموات سے میں کافی متاثر بھی ہوا ہوں۔ جی۔ ان میں سب سے زیادہ ایک ایسی موت سے ہوا کہ وہ شخص تب تک نہیں مرا جب تک بیمار تھا لیکن جیسے ہی میں اس کے اندر کے زہر کو نکال لینے میں کامیاب ہوا ویسے ہی وہ ایک پرسکون حالت میں جاکر سرد ہوگیا۔ 
یہ کیسے ؟ 
میڈیکل کے طلبا حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔
دھیان سے سنو کہ میں کہہ کیا رہا ہوں۔ کچھ واقعات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جب وہ ماضی میں گم ہوجاتے ہیں تو ان کے بطن سے کہانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ کہانیاں اپنے صدموں، اپنی عجیب عجیب سچائیوں اور انکشافات کی وجہ سے انسان کے علم اور اس کے فطری ارتقا میں اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں۔اور جب تک وہ اپنے کو منوا نہیں لیتیں کہ وہ سچ یوں کا حصہ ہیں تب تک وہ اپنے دم پر ہمارے اجتمائی شعور میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہتی ہیں۔ 
ایسی ہی ایک کہانی اس کے اندر اٹکی ہو ئی تھی۔کہانیاں دبانے سے ختم نہیں ہوجاتیں۔خبریں دب جاتی ہیں۔ کہانیاں نہیں۔ اسی لئے یہ اخباری رپورٹ ٹا ئپ کہانی دبی نہیں۔ یہ یہاں ،ڈاکٹر نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا، کانٹے کی طرح موجود رہتی ہیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ ان کو کھلے عام سنا جائے۔ وہ تہذیب یعنی دنیا کی سب سے بڑی عدالت کی وکیل ہوتی ہیں۔ اور انہیں کی قوکالت سے دنیا کے کئی بڑے مہذب ملکوں نے ماضی کی کئی کہانیوں پر افسوس اور شرمندگی ظاہر کرتے ہو ئے کھلے عام پوری دنیا کے سامنے معافی مانگی ہے۔ 
ڈاکٹر تلخی سے مسکرایا۔ اس مریض کی کہانی بھی ایسی ہی ایک کہانی تھی۔ اس مریض نے مجھے راتوں رات ایک ڈاکٹر سے فلسفی بنا دیا۔ مجھے لکھنا معلوم ہوتا تو میں کہانی کار ہوجاتا۔ اب تم لوگوں نے پوچھا ہے تو سنو کہ میں بھی سنانا چاہتا ہوں۔
میں یہ کہانی تم کو اسی ئے سنارہا ہوں کہ یہ کہانی منظر عام پر آئے اور اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ جو قومیں ، حکومتیں اور اشخاص اس پر بھی تیار نہ ہوں وہ انسانی نسل کے چہرے پر بد تہذیبی کا بہترین نمونہ ہیں۔ میں نے اس کا علاج کیا تھا۔ میں دوا اور انجکشنوں سے تو اس کو ٹھیک نہیں کرپایا تھا لیکن جیسے ہی میں نے اس کی زہر بھری کہانی چوس کر پی لی وہ ٹھیک ہوگیا تھا اور اسے پہلی بار بغیر کسی انجکشن کے گہری نیند آئی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ مرگیا اور تب سے اب تک میری نیند ڈسٹرب رہتی ہے۔
تم اپنے تخیل میں اس کہانی کا تصور کرو۔
یہ کولمبو سے شمال کی جانب واقع ایک پاگل خانے کا منظر ہے۔ یہ کہ یہ منظر کتنی وسعتوں تک پھیلا ہوا ہے یہ کہنا میرے لئے مشکل ہے۔لیکن اس منظر میں رفتہ رفتہ کئی ملک شامل ہو گئے ہیں۔ 
میں نے اس مریض پر ہر ممکن دوا استعمال کرچکا تھا لیکن کسی دوا نے کام نہیں کیا۔ البتہ دوائیں دیتے دیتے میں اپنی گفتگو اور ہمدردی کی وجہ سے اس عرصہ میں اس مریض کے دل کے قریب ضرور ہوگیا تھا۔ اور آخر میں اچانک یہی بات مریض پر اثر کر گئی۔
وہ لوگ فوج کے تھے، پولیس کے تھے یا قوم پرستوں کا کا کوئی دستہ تھا ؟ میں نے اس سے پوچھا۔
مریض کی گفتگو سے مجھے اتنا اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔ مریض خاموشی سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
میں جانتا ہوں کی تم کو کوئی بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ میں نے تم کو ہر طرح کی دوا دے کر دیکھ لیا۔ لیکن تم ٹھیک نہیں ہورہے ہو۔ میں پریشان ہورہا ہوں۔ اب میرا اپنے آپ پر سے، اپنی صلاحیتوں پر سے بھروسہ اٹھ رہا ہے۔ اور اس کی وجہ تم ہو۔ تم مجھے بتاؤ کہ آخر ہوا کیا تھا۔ میں صرف تم کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں۔ میں ڈاکٹر ہوں۔ اور صرف ڈاکٹر ہوں۔ میں انٹیلی جنس کا کوئی آدمی نہیں ہوں۔ میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گا۔ 
اور پھر وہ ادھیڑ عمر کبڑے جیسا آدمی اچانک اتنی سلجھی ہوئی باتیں کرنے لگا کہ مجھے حیرت ہوئی۔
مریض اب اس منظر کو بیان کر رہا تھا جس کی پرچھائیں میں کئی بار دیکھ چکا تھا۔ اس نے اس علاقے کا نام بتایا۔
چلو آگے کی باتیں بتاؤ۔ جگہ تو کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ 
میرا گھر وہیں ایک چوڑی سڑک سے منسلک گھنی آبادیوں کے بیچ تھا۔ اس دن میں ایک دوسرے شہر اپنی دکان کے لئے کچھ مال خریدنے گیا ہوا تھا۔ کچھ دنوں سے میں بیمار بھی تھا اور موسم خراب ہونے کی وجہ سے مری طبیعت بہت ملول سی ہورہی تھی پھر بھی مجبورا جانا پڑا تھا۔ دن دو پہر سے کچھ پہلے اچانک تین چار بکتر بند گاڑیاں اور ایک ٹرک آکر میرے گھر کے سامنے رکے۔ گاڑیوں کے رکنے کا منظر دیکھتے ہی چاروں طرف سنسنی پھیل گئی ، ایک سناٹا سا چھاگیا اور فضا میں موت کی آواز سنائی دینے لگی کیونک سب کو معلوم تھا کہ جب ایسی گاڑیاں آتی تھیں تو کیا ہوتا تھا۔ لوگ چھتوں اور کھڑکیوں سے جھانک کر دیکھنے لگے۔ 
گاڑیوں سے کچھ لوگ اترے اور سیدھے میرے گھر کے دروازے پر پہنچے اور دروازے کو کھٹکھٹاتے ہوئے دروازہ کھولنے کا حکم دیا۔ میرے گھر کے کسی فرد نے دروازہ کھولا تو وہ لوگ گھر کے اندر گھس آئے۔
پھر ایک ایک کرکے سب کو گھر سے باہر نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ بڑے بوڑھے سب کو باہر نکالا گیا۔ عورتیں دروازے تک آئیں تو ایک شخص نے جو گاڑی میں ہی بیٹھا تھا ان کو بھی بلاکر قطار میں کھڑا کرنے کا حکم دیا۔ چند لمحوں بعد دوتین نوجوان گھر کے تین چار چھوٹی عمر کے بچوں کو لے کر باہر آئے جس میں میرا ڈھیڑھ سال کا وہ بیٹا بھی تھاجس نے ابھی چند ہے روز پہلے اپنے قدموں ہر ہلتے ڈولتے چلنا سیکھا تھا۔انہوں نے بچوں کو لے کر آتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے شخص کیحکمکے لئے اس کی طرف دیکھا۔
ہاں، ہاں، انہیں بھی لاؤ۔ اس شخص نے نظر پڑتے ہی حکم دیا۔
ایک اشارے پر گھر کی دیوار کے پاس سب کو کھڑا کردیا گیا۔ 
اور دوسرے ہی لمحے گولیوں کی بوچھار سے سب کو ڈھیر کردیا گیا۔ 
گاڑی میں آئے لوگ گاڑیوں میں بیٹھ کر چلے گئے۔
میں اسٹیشن سے اترا ہی تھا کہ اپنے محلے میں ہو ئے اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بارے میں سنا۔ مجھے اپنے بھتیجے کی کارستانیوں کا خیال آیا اور دل میں خوف بھی پیدا ہو ا کہ ہونہ ہو یہ میرے کنبے کے بارے میں نہ ہو۔ باہر نکلا تو تیز ہواؤں کے جھکڑ سے دھول سی اڑ رہی تھی۔ کو ئی رکشا دکھائی نہیں دیا تو پیدل ہی تیز تیز چل پڑا۔ راستے میں یہ دیکھ کر میں اور بدحواس ہوا کہ وہی گاڑیاں کھڑی تھیں اور وہ سب کچھ کھاپی رہے تھے۔ ان میں ایک نے مجھے پہچان لیا اور وہ مجھے پکڑ کر لے گئے۔ گاڑی میں آگے بیٹھے آدمی سے پوچھا گیا کہ مجھے گاڑی میں ڈال لیا جائے کیونکہ وہاں دور تک کافی لوگ تھے اور سب کے سامنے مجھے ختم کرنا شاید انہیں مناسب نہیں لگا۔ لیکن اس آدمی نے ہنستے ہوئے کچھ سوچ کر کہا۔
نہیں اسے چھوڑ دو۔ بچ گیا توبچ گیا۔ یہ کہانیاں ڈھوئے گا۔ 
گھر پہنچ کر میں نے جو منظر دیکھا اس سے میرے ہوش اڑ گئے تھے اور میں بے ہوش ہوگیا تھا۔ میرے گھر کے سامنے پڑی میرے گھر والوں کی لاشوں پر محلے والوں نے چادریں ڈال دی تھیں۔ میں دوڑا قریب پہنچا۔ ایک چھوٹی سی ہلکی چادر میرے نونہال بیٹے کے اوپر بھی پڑی تھی۔ ہوا کے چلنے سے اس کے اوپر کی چادر ایسے ہلی کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ زندہ ہے۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے اس کی چادر ہٹائی تو جو دیکھا وہی میرے حافظے پر اب تک نقش ہے۔ اس کے جسم پر پیشانی، منھ، سینے اور ہاتھ پر گولیاں لگی تھیں۔ لوگوں نے بعد میں مجھے بتایا کہ میں کئی دنوں تک بے ہوش رہا تھا۔ اب میرے گھر کے افراد میں صرف ایک شخص زندہ بچ گیا تھا اور وہ تھا میرا بھتیجہ جو دہشت گردوں کے گروہ میں شامل تھا۔ اور گھر نہیں آتا تھا۔
لیکن انہیں تمہارے گھر کے اور لوگوں کو نہیں مارنا چاہئے تھا۔ میں نے ہمدردی کے لہجے میں کہا۔ 
جی ہاں۔ لیکن میں پوری بات بتاتا ہوں۔ 
اس نے سنجیدگی سے بتانا شروع کیا۔ واقعہ یہ تھا کہ اس بار دہشت گردوں کے ایک گروہ نے پولیس کالونی میں گھس کر گولیاں چلائی تھیں۔پولیس کالونی کی اس فائرنگ میں جو لوگ مرے تھے ان کی تصویریں بہت دلدوز تھیں۔ محکمہ پولیس میں کام کرنے والوں کے اہل کنبہ کو اس طرح سے گولیوں سے بھون ڈالنا۔ انتہائی درندگی تھی۔ نہیں۔ میں غلط کہ گیا۔ انتہائی انسانیت تھی۔ نہیں میں غلط کہ گیا۔ معاف کرنا ڈاکٹر مجھے لفظ نہیں مل رہا ہے۔ لیکن میں لفظ کی تلاش میں ہوں اور میں ضرور ڈھونڈ لوں گا۔ میں تب آپ کو بتاؤں گا۔ 
جی ہاں۔ میرا بھتیجہ بھی ان میں شامل تھا۔ 
ہاں ڈاکٹر وہ لفظ مل گیا۔ انتہائی درجہ کی حب الوطنی تھی۔ نہیں، وہ جو پولیس والوں کے گھر کے افراد کو مارا تھا وہ حب الوطنی نہیں تھی۔ وہ جو میرے گھر والوں کو مارا تھا وہ حب الوطنی تھی۔ دہشت گردوں کے گروہ میں شامل ہونے کے بعد میرا بھتیجہ کبھی گھر نہیں آیا۔ گھر والے اس کی وجہ سے پہلے سے ہی خوفزدہ تھے اور ہم سب کو پہلے سے ہی اس کا اندیشہ تھا کیونکہ اب ہر طرف ایسا ہی سننے کو مل رہا تھا۔ پولس کئی بار ہمارے گھر پر چھاپہ مار چکی تھی۔پولس ایک بار مجھے بھی لے گئی تھی۔ لیکن تب وہ دہشت گردی کے شروع کے دن تھے اور لڑائی دہشت گردوں اور پولیس و فوج کے درمیان ہوتی تھی۔
اس کے بعد پولیس کی گاڑیوں اور ٹھکانوں پرحملے ہونے لگے تھے۔ اور اس کے بعد پولس والوں کی سرکاری رہائش گاہوں پر حملے ہونے لگے۔ 
اور اس طرح ہوا گرم تر ہونے لگی۔
اب کسی کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اتنی پیچیدہ لڑائیوں کا حل کیا ہوسکتا تھا۔ لوگ یہی سوچتے تھے کہ اگر وہ خود پولیس یا فوج میں ہوتے یا سرکار چلارہے ہوتے تو کیا کرتے۔ 
یہ جنگ سنگین اور پیچیدہ ہوتی چلی گئی۔ ہوا تیز ہوتے ہوتے بگولوں کی شکل لینے لگی۔ اور ان بگولوں کے رقص میں ایک دن قانون کا دوپٹہ ایک جھونکے سے اڑ کر گرد و غبار میں تہس نہس ہوگیا۔ 
ہوا اتنی تیز ہوئی کہ یہ پہچاننا مشکل ہوگیا کی سڑک یا گلی میں چلتا ہوا کون سا شخص دہشت گر د تنظیموں سے وابستہ ہے اور کون پولیس کا آدمی ہے۔ کہ جابجا دہشت گرد پولیس کے یونیفارم میں اور پولس کے لوگ دہشت گردوں کے حلیوں میں گھوم رہے تھے۔
میرے خاندان کے ساتھ ہوئے اس سانحہ کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پولیس کی انتقامی کاروائی تھی۔ کچھ دوسرے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ دہشت گرد ہی تھے جنہوں نے پولیس کے خلاف عوام میں نفرت اور غصہ پیدا کرنے کے لئے یہ حرکت کی تھی۔ 
سچ پوچھئے تو کافی دنوں تک میں تذبذب میں تھا۔ 
میں اپنی اسی ذہنی حالت میں ایک دن بھٹکتا بھٹکتا اپنے اس گھر کو دیکھنے چلا گیا تھا جو اب کھنڈر سا ویران ہوگیا تھا۔ میں وہاں دالان میں لکڑی کے تخت پر اپنے گھٹنوں پر سر ٹیکے اپنے پیاروں کو یاد کر رہا تھا کہ میرے دوتین پڑوسی آئے اور انہوں نے مجھے تنبیہ کی کہ میں فورا وہاں سے غائب ہوجاؤں۔ انہوں نے بہت اداس لہجے میں مجھے بتایا کہ پولیس مجھے ڈھونڈ رہی تھی کیونکہ ان کا خیا ل تھاکہ چونکہ میرے اندر انتقام کا زہر بھرا ہوا ہے اس لئے میں حقیقتاً ایک خطرناک دہشت گرد بن گیا ہوں۔
جب واقعہ تازہ تھا تب مجھے اتنی تکلیف نہیں تھی جتنی اب اس واقعے کے زہر بن جانے کی وجہ سے ہے۔ وہاں تو سب کچھ برابر ہوگیا لیکن یہاں سب کچھ باقی ہے۔وہ قہر کا دن میری زندگی کے لمحوں میں تحلیل ہوگیا۔ 
ڈاکٹر، مجھے چلتے، پھرتے، بیٹھتے ایسا لگتا ہے کہ میرے پاؤں کے نیچے زمین نہیں ہے۔
میں ڈر جاتا ہوں۔
میں نے کئی بار خواب میں دیکھا ہے کہ جیسے زمین اچانک قہقہ لگا کر مجھے نگل جانا چاہتی ہے۔لیکن میں ہوا میں پرواز کرکے بچ جاتا ہوں۔ کئی بار تو جب میں اڑتے اڑتے تھک گیا تو مجھے کسی پرندے نے بچالیا۔ 
ایک بار میں بادلوں پر جا بیٹھا۔
میں نے محسوس کیا کہ مریض پھر بے قابو ہو رہا تھا۔ 
ڈاکٹر مجھے بار بار لگتا ہے کہ میری زمین مجھے پکڑ کر نیچے کھینچ رہی ہے اور مجھے جان سے مار دے گی۔ 
مریض پھر ہوش میں آنے لگا تھا۔
اس پورے عرصے میں میں ٹھیک سے سو نہیں پایا ہوں۔ میں سوؤں کہاں ؟ زمین مجھے سوتے میں نگل لے گی۔ جھٹکے سے۔ اچانک۔ میں جانتا ہوں کہ وہ نگل لے گی۔ وہ میری جان کی بھوکی ہے۔ ڈاکٹر، تم کو پتہ ہے۔ ڈائنیں سب سے پہلے اپنے بچوں کی جان لیتی ہیں۔
میں شاید پاگل نہیں ہوں بلکہ نیند نہیں آنے کی وجہ سے میری یہ حالت ہوگئی ہے۔ تم کیسے میرا علاج کر پاؤگے۔ 
اس نے مجھ سے ایسے بات کی جیسے وہ پوری طرح ہوش میں ہو لیکن پھر فوراً ہی اس کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے اور وہ اس طرح بات کرنے لگا جیسے وہ ہوش و حواس میں نہیں ہو۔ وہ رک رک کر وقفوں کے بعد مجھ سے تخاطب کے انداز میں ہی کہتا رہا۔
ایک دن میں نے اڑتے ہوئے اچانک دیکھا کہ میری ماں کا منھ کھلا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ میری طرف بڑھ رہے ہیں۔ میں نے ہمت کرکے سیدھے اس کے منھ کے اندر پرواز کی اور اس کی زبان سے بچتا ہوا اسکے حلق کے راستے اس کے پیٹ میں گھس گیا۔ وہاں دیکھا میرے گھر والوں کے علاوہ اور بھی ہزاروں نوجوانوں اور بچوں کی ہڈیاں سڑ رہی تھیں۔ میں پھڑ پھڑا کر باہر اتنی سرعت سے نکلا کہ اوپر بادلوں پر جا بیٹھا۔ 
نیچے سے میری ماں مجھے بلارہی تھی۔ لیکن میں نیچے نہیں اترا۔ تب سے یہیں بیٹھا ہوں۔ 
پھر وہ اچانک کانپتے لگا جیسے موت کے قریب آنے پر کچھ مریضوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
دیکھو۔
اب وہ گھڑیال جیسا منھ کھولے بادلوں تک پہنچ رہی ہے۔
مجھے یہاں سے بھی بھاگنا پڑے گا۔
ڈاکٹر۔ اب میں اڑوں گا۔ 
اور یہ کہنے کے بعدبستر پر بیٹھے بیٹھے اس کے دونوں بازو بالکل چڑیا کے ڈینوں کی طرح تیز تیز حرکت کرنے لگے جیسے وہ پرواز کر رہا ہو۔
یہ اس سے میری آخری گفتگو تھی۔ 


یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟