افسانہ: نیم لاش: پیغام آفاقی


(افسانہ ذیلی عنوانات میں بنٹا ہوا ہے جو یہ ہیں : شہر؛ موٹر گاڑی؛ جنگل؛ کاروبار؛ شکار؛ دھول؛ اور نیم لاش)

شہر :

اس کی نگاہوں کے کینوس پر شہر کی اونچی عمارتیں ابھرنے لگی تھیں – وہ درخت کے سائے میں آرام کرنے بیٹھ گیا- گاڑیوں میں خون سے لت پت اور نیم زندہ لوگوں کو لے جایا جارہا تھا-اور ان پر نصب بندوقیں چاروں طرف جھانک رہی تھیں – تیز دھوپ سے پوری فضا گرم ہو گئی تھی- اسے پیاس لگ گئی لیکن دور دور تک خشک گرم ہوائوں کے سوا کچھ نہ تھا- پائوں پھٹنے لگے تھے-
اس نے اپنے پھٹے ہوئے جوتوں کو دیکھا ، ان پر کتنی دھول جم گئی تھی-
وہ کہاں جارہا ہے ؟
کتنے دنوں سے جارہا ہے ؟
جب چلا تھا تو اس کے جوتے نئے تھے، اب پرانے ہونے لگے ہیں-
وہ یہی سب کچھ سوچتا رہا-

موٹر گاڑی :

اس کی نگاہوں میں ایک کالی سی چیز ابھری اور پھر ابھرتی چلی گئی- ایک، دو بچے، ایک موٹا سا چمکیلا آدمی- ڈرائیور کے سامنے شیشے پر جمی ہوئی دھول – اور پھر کار تھوڑی دور آگے جاکر رک گئی-
وہ غور سے دیکھنے لگا- شاید چشمے والے نے مجھے تھی ہوئی حالت میں اس بیابان سی جگہ پر دیکھ کر گاڑی روک دی ہے-
ڈرائیور نے بونٹ اٹھا کر کچھ ٹھیک کیا ، اندر بیٹھا، چشمے والے نے کھڑکی سے جھانک کر باہر اس کی طرف دیکھا- اس کے بعد ڈرائیور نے باہر نکل کر اسے آواز دی-
"آنا ، بھیا، ذرا دھکا لگا دینا-"
اوہ، کتنے مناسب وقت پر گاڑی خراب ہوئی ہے- اس نے سوچا اور ڈرائیور کی آواز پراس کے پھٹتے ہوئے پائوں ہرے بھرے ہوگئے- وہ جھومتا ہوا دوڑ پڑا- دھکا لگایا- کار اسٹارٹ ہوگئی- سبھی دوبارہ اس میں بیٹھ گئے-
Thank You Very Much
کار دھول میں کھوگئی- چشمے والے نے سر باہر نکال کر مسکراتے ہوئے کہا-
وہ سمجھ نہیں پایا تھا کہ اس سے کیا کہا گیا تھا- گاڑی میں خالی جگہ تھی- کہیں اس چمکیلے آدمی نے اس سے کار میں بیٹھ لینے کے لئے تو نہیں کہا تھا ؟ مگر وہ سمجھتا کیسے، وہ تو کسی اجنبی آواز میں کچھ کہا تھا-
وہ اپنے بھاری پائوں گھسیٹتا ہوا پھر پیڑ کے نیچے آکر بیٹھ گیا-
موسم گرما میں ریت پر بھاگتے ہوئے بگولے،
جھاڑیوں میں چھپے ہوئے جنگلی جانور،
اور پیاس !
اور کار !

جنگل :

اس کے گھر میں آگ کیوں لگائی گئی تھی ؟
اس کے عزیزوں کا خون کیوں کیا گیا تھا ؟
وہ اپنے وطن میں جلا وطن کیوں کیا گیا تھا ؟
مردے کتنا تیز بھاگ رہے تھے،؟ گاڑیوں پر۔
اور وہ زندہ تھا اس لئے چھوڑ دیا گیا تھا۔
وہ کتنا پیچھے چھوٹ گیا تھا۔
لیکن کیوں ؟
وہ تو وہاں سے خود بھاگا تھا۔
لیکن کیوں بھاگا تھا ؟
وہ کہاں جارہا تھا ؟
شہر کی طرف ۔ کیوں ؟ کس لئے ؟
شہر اس کی نگاہوں میں آچکا تھا۔
اونچی اونچی عمارتیں،
سڑکیں، دکانیں، کاریں،ہسپتال، کونوینٹ اسکول، اسٹیڈیم، الیکٹرونکس کی دنیا،رقص، ایر کنڈیشنڈ کمرے۔
وہ کس کی تلاش میں جا رہا ہے ؟ وہ کہاں تک بھاگ سکتا ہے ؟
سڑک نگاہ سے بھی زیادہ لمبی ہے اور اس کے پائوں بہت چھوٹے ہیں ۔
ان سڑکوں پر تو رولر کے رولر گھس کر کنڈم ہوجاتے ہیں ۔پھر اس کے جوتوں میں کیا رکھا ہے۔

کاروبار :

پٹرول سے آنسوئوں کا کیا مقابلہ ۔ کوئی مقابلہ نہیں ۔
اسی لئے تو اس کا مکان لٹ گیا۔ وہ لٹیرے کون تھے جو کل آئے تھے اور زندگی کو موت میں بدل گئے تھے۔ اور یہ کون ہیں جو مردوں کو اٹھائے لئے جارہے ہیں ؟ یہ کیسا کاروبار ہے ؟ یہ مردوں کو کہاں لئے جارہے ہیں ؟
سب کچھ جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھے کیوں نہیں لے جارہے ہیں ۔

شکار :

اس کے سامنے درخت پر ایک چڑیا بیٹھی تھی – وہ اسے غور سے دیکھنے لگا- اگر میں بھی اسے مار کر کھاجائوں تو کیا ہوجائے گا ؟ لیکن آگے ؟ بغیر بھنا ہوا گوشت کھانا، کچا گوشت کھانا، درندگی ہے !
کچھ نہیں۔ سب بکواس ہے ۔
کوئی فرق نہیں پکے ہوئے گوشت میں، بھنے ہوئے گوشت میں اور کچے گوشت میں ۔
بھوک اس کے پیٹ کو کاٹ رہی تھی۔
پیاس سے اب اس کا حلق سوکھ گیا تھا۔
سامنے کا پتھر اٹھاکر اس نے مارا اور چڑیا گر پڑی۔
اس جا کر چڑیا کو اٹھایا۔ دانتوں سے اس کا گلا کاٹا لیکن خون کے صرف چند قطرے نکلے ۔اس کی پیاس باقی رہ گئی۔پھر اس نے اس کے پر نوچے اور لگ بھگ ہڈیوں سمیت اسے کھاگیا۔
بھون کر کھانا چاہئے تھا- اسے لگا وہ خود دھوپ میں سامنے پھیلی ہوئی ریت میں بھنا جارہا ہے اور جیسے تھوڑی دیر میں وہ بھنتا ہوا بے ہوش ہوجائے گا- کباب، لذیذ کباب بن جائے گا اور کوئی گاڑی اسے بھی اٹھا لے جائے گی۔
ایک کار پھر سامنے رکتی سی لگی اور گزر گئی۔
ایک گاڑی پھر لاشوں سے بھری ہوئی شہر کی طرف چلی گئی-کی بھوک ختم نہیں ہوئی تھی اور سفر لمبا تھا۔
’’ مجھے بھی ان لاشوں میں سے ایک دے دو-‘‘
اس نے کہنا چاہا لیکن بندوقیں دیکھ کر ڈر گیا- چڑیا کی بچی کھچی ہڈیاں اس کے سامنے پڑی تھیں۔

دھول :

تھوڑی دیر تک وہ پھر اپنے چاروں طرف دیکھتا رہا۔
اب وہ پھر شہر کی طرف جارہا تھا۔
کاروں، گاڑیوں کا ایک ریلا پھر آیا اور گزر گیا۔

نیم لاش :

وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی نیم لاش ہوچکا تھا۔
وہ چل پڑا ۔
ایک گاڑی کی رفتار پھر کم ہوئی- اس نے گاڑی کی طرف دیکھا – لیکن وہ تو اسے للچائی ہوی بظر سے دیکھ رہے تھے جیسے قصائی بکرے کے گوشت کے وزن کا اندازہ لگاتا ہے - وہ پیچھے ہٹ کر سڑک کے بالکل کنارے چلا گیا اور گاڑی رفتار بڑھا کر آگے نگل گئی-۔
ہوا اور گرم ہوئی۔
دھول اور اڑی۔
جوتے کا تلوہ ٹوٹ گیا۔
پائوں جلنے لگے۔
اور وہ نیچے سے گھسنے لگا۔
لیکن وہ گھستا رہا اور چلتا رہا۔
پھر اس کے پائوں ٹخنوں سے اوپر تک گھسنے لگے – اس کے بازوں گھس کر پیچھے گر گئے لیکن وہ بڑھتا رہا۔
شہر اس کی نگاہوں میں تھا۔
اور اب وہ نیچے سے آنکھوں کی جڑ تک گھس گیا تھا۔
اور صرف دو آنکھیں کھوپڑی سمیت دماغ کو اپنے اوپر لئے ہوئے شہر کی طرف بڑھتی جارہی تھیں – اب وہ شہر کی گھنی ٹریفک کے درمیاں آچکا تھا لیکن وہ اتنا چھوٹا ہوچکا تھا کہ گاڑیوں کے درمیان کھوگیا۔

یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟