لیجئے 'کائنات' کا تازہ شمارہ آپ کے اسکرین پر موجود ہے۔

2016ء  اردو ادب کے لئے بڑا منحوس ثابت ہورہا ہے۔ اردو ادب کے روشن چراغ ایک کے بعد ایک بجھتے جا رہے ہیں۔
گزشتہ 20 اگست کو اردو کا ایک اور چراغ بجھا جسے دنیا پیغام آفاقی کے نام سے جانتی تھی۔ہم نے اس شمارے کا ایک چھوٹا سا گوشہ پیغام آفاقی کے نام کر دیا ہے جس میں ان کے دو مشہور افسانے ڈائن اور نیم لاش کے علاوہ ڈاکٹر سلیم خان کا ایک مضمون اور احمد علی برقی اعظمی کا منظوم خراج عقیدت شامل ہے۔

اس شمارے کی شروعات ڈاکٹر عبدالمنان طرزی کی حمد پاک اور عظیم انصاری کی نعت شریف سے ہوتی ہے۔
بطور خاص پیش کش کے طور پر اس ماہ جمشید پور کے بزرگ شاعر اسلم بدر کی بارہ غزلیں پیش کی جارہی ہیں۔اس کے علاوہ منظوم سیکشن میں پروفیسر شہپر رسول، محمد اسفر آفاقی، خداداد خالد، شاہجہاں سالف، اشرف یعقوبی، تلک راج پارس، اصغر شمیم اور دانش فراہی کی غزلیں اور وسیم فرحت کارنجوی، مبارک علی مبارکی اور کاشف بٹ کی نظمیں شامل ہیں۔

آج  5 ستمبر مشہور افسانہ نگار منشا یاد کا یوم پیدائش بھی ہے۔ ان کی یاد تازہ کرنے کے لئے افسانے کے سیکشن میں ان کا افسانہ ماں جی خاص طور سے شامل کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ جوگندر پال کی منی کہانیاں اور فیروز عابد کا افسانہ بھی رسالے کی زینت بڑھا رہے ہیں۔

مضامین کے سیکشن میں دیپک بدکی، غلام ابن سلطان اور ابراہیم افسر کے نہایت ہی اہم اور قیمتی مضامین شامل ہیں۔
تبصرے کے سیکشن میں شہباز علی کی کتاب سر سنسار پر کلیم احسان بٹ کا تبصرہ شامل ہے۔

مجھے امید ہے کہ گزشتہ شماروں کی طرح  'کائنات' کا یہ شمارہ بھی آپ کو پسند آئے گا۔
آپ کی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا۔

خورشید اقبال                   
                    چیف ایڈیٹر ، ماہنامہ کائنات            

ادارئیے کو آپ کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟