کتب نما : سر سنسار ۔ مبصر: ڈاکٹر کلیم احسان بٹ، راولپنڈی، پاکستان

ہمارے معاشرے نے جس تیزی سے زوال کی منزلیں طے کیں اس کا اندازہ کتاب ،کتاب دار،کتاب دان ،کتاب خوان اور صاحب کتاب کی ناقدری سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔کتب خانوں کی ویرانی اور ان کی ناگفتہ بہ حالت کسی بھی متعلقہ شخص سے ڈھکی چھپی نہیں۔اس کے باوجودکچھ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی طرح اور کسی نہ کسی حد تک کتاب سے سے جڑے ہوئے ہیں۔نئی کتابیں بھی شائع ہوتی ہیںاوران کے قاری بھی موجود ہیں۔وہ فنون لطیفہ جو عملی نوعیت کے ہیں ان کے بارے میں کتابیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 
شہباز علی صاحب نہ صرف گورنمنٹ کالج راولپنڈی میں شعبہ اردو کے ہر دل عزیز استاد ہیں بلکہ موسیقی کے استاد کی حیثیت سے بھی ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ وہ پاکستان ٹیلی وژن چینل تھری پرموسیقی کے مقبول پروگرام ’’میری موسیقی ‘‘ کے تقریبا ایک سے پچاس episodesمیں بطور محقق اور نقاد موسیقی شرکت کر چکے ہیں ۔شہباز علی نے موسیقی کی تعلیم آل انڈیا دہلی کے سابق میوزک ڈائریکٹرقاضی ظہور الحق اور ہارمونیم نواز ماسٹر محمد صادق پنڈی والے سے حاصل کی۔
بد قسمتی سے مشرقی موسیقی نے جن فن کاروں کے ہاتھوں فروغ پایا ان کی اکثریت نے اس کی علمی حیثیت کی بجائے اس کی عملی حیثیت پر زیادہ زور دیا ۔موسیقی کے بڑے بڑے ماہرین نے لے ، سر اور تال کے کمالات سے ایک زمانے کو مسحور کیا ۔لوگ دور دور سے آکر ان کے حلقہ میں شامل ہوتے رہے اور موسیقی کے فن میں مہارت حاصل کرتے رہے لیکن ان ماہرین میں کم ہی ایسے ہوں گے جنہوں نے موسیقی کے مباحث کو یااپنے کمالات کو کتابی شکل میں مرتب کیا ہوتاکہ وہ لوگ بھی موسیقی کے فن سے مستفید ہو سکیں جو ان ماہرین کے حلقوں میں بوجوہ داخل نہیں ہو سکتے۔
شہباز علی صاحب نے موسیقی کی عملی حیثیت کے ساتھ علمی حیثیت کو بھی مد نظر رکھا ۔انہوں نے فن موسیقی پر لکھی گئی کتب کو جمع کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور موسیقی کی نادر و نایاب کتب کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔موسیقی کے حوالے سے ان کے مطالعہ نے ان پر کئی رموز آشکار کیے۔انہوں نے اپنے حاصل مطالعہ میں عام قاری کو شریک کرنے کے لیے نادر و نایاب مضامین کا انتخاب کیا اور ’’کیا صورتیں ہوں گی ‘‘کے نام سے انہیں شائع کر دیا ۔اسی طرح نامور موسیقاروں کی حیات و خدمات کے بارے میں مضامین کا ایک مجموعہ ’’ سر سنسار ‘‘ کے نام سے شائع کیا۔’’اسباق موسیقی ‘‘ کے نام سے ان کی ایک کتاب زیر اشاعت ہے جس میں موسیقی کی عملی تربیت حاصل کرنے کے خواہش مندوں کے لیے جدید خطوط پر آسان اسباق تیار کیے گئے ہیں۔
’’سر سنسار ‘‘ پر شہباز علی کو حکومت پنجاب پاکستان نے خصوصی انعام سے نواز ا۔ حال ہی میں اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن شائع ہوا ہے ۔تین سو سے زائد صفحات کی اس کتاب کو بالکل جدید خطوط پر شائع کیا گیا ہے ۔ہر مضمون کے آخر میں حوالہ جات درج ہیں اور کتاب کے آخر میں کتابیات اور دیگر مآخذات کی فہرست موجود ہے ۔جس سے کتاب کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔کتاب میں شامل مضامین کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ایک حصے میں کلاسیکی فن کاروں کے بارے میں مضامین ہیں جبکہ دوسرے حصے میں نیم کلاسیکی فن کاروں کے بارے میں مضامین شامل ہیں ۔جن کلاسیکی فن کاروں پر مضامین شامل ہیں ان کی مہارت کے شعبے الگ الگ ہیں ۔اور ان موسیقاروں میں استاد جھنڈے خاں ، میاں نبی بخش کالرے والے ، استاد فیروز خاں، استاد بھائی لعل محمد ، استاد عاشق علی خاں پٹیالے والے ، استاد بڑے غلام علی خاں ،استاد توکل حسین خاں، استاد عبدالقادر پیارنگ ، رفیق غزنوی ، قاضی ظہور الحق ، استاد لطافت حسین خاں ،ماسٹر محمد صادق پنڈی والے اور استاد غلام حسن شگن کے نام شامل ہیں ۔اسی طرح نیم کلاسیکی فن کاروں کی مہارت کے شعبے بھی مختلف ہیں اور ان موسیقاروں میں استاد برکت علی خاں ، بیگم اختر ، مختار بیگم ، محمد طفیل نیازی، ملکہ ترنم نور جہاں ، اعجاز حسین حضروی، زاہدہ پروین ، فریدہ خانم، مہدی حسن ، اقبال بانو اور غلام علی کے نام شامل ہیں۔اس فہر ست پر سرسری نظر ڈالنے سے احسا س ہوتا ہے کہ اس کتاب میںموسیقی کے تقریبا تمام بڑے ناموں پرتنقیدی و تحقیقی مضامین یک جا کر دیے گئے ہیں ۔کچھ فنکاروں پر شہباز علی نے دانستہ نہیں لکھا۔مثلا ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم ، استاد فتح علی خاں اور استاد نصرت فتح علی خاں ۔اس کی توجیہہ شہباز علی نے کتاب کے اولین صفحات میں خود بیان کر دی ہے ۔کہ ان کی پوری پوری سوانح عمریاں لکھی جا چکی ہیں اوران پر قابل ستائش تصانیف و مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔شہباز علی نے ان فن کاروں کو اپنا موضوع بنایا ہے جنہیں موسیقی کے ناقدین نے بڑی حد تک نظر انداز کیا یا ان کے متعلق جو کچھ لکھا گیا اس کی نوعیت تحقیقی و تنقیدی نہیں۔شہباز علی نے ان کے متعلق انتہائی مستند روایات کی مدد سے عمدہ مضامین تحریر کیے ہیں تاکہ انہیں درست انداز میں نذرانہ عقیدت پیش کیا جا سکے۔       
  شہباز علی کے خیال میں ابھی بہت سے سے گائک اور ساز نواز ایسے ہیں جن پر وہ لکھنا چاہتے تھے لیکن وقت اور وسائل کی کمی کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔ میرا خیال ہے کہ مختلف سازوں میں مہارت رکھنے والے کچھ نام تو اس مجموعہ میں شامل ہیں مگر دیگر سازوں پر قدرت اور مہارت رکھنے والے ماہرین پر مضامین لکھ کر اسے الگ کتاب کی شکل میں شائع کیا جا سکتا ہے ۔اس سے جہاں ماہرین موسیقی کی قدر افزائی ممکن ہو گی وہاں مختلف مشرقی سازوں کے حوالے سے بھی مستند معلومات قاری کو حاصل ہو سکیں گی۔
کتاب میں نہایت آسان اور فصیح زبان استعمال کی گئی ہے ۔اور موسیقی کی اصطلاحات کا بے محابا استعمال نہیں کیا گیا جس سے کتا ب عام قاری کے لیے بھی دلچسپی کا سامان رکھتی ہے ۔یہ کتاب موسیقی کے طالب علموں اور ناقدین موسیقی کی توجہ کی بھی متقاضی ہے ۔تاکہ فن موسیقی کی علمی جہت کو مزید روشن کیا جاسکے ۔ 
کتاب کی اشاعت اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ پاکستان فنون لطیفہ کے جس بحران کا شکار رہا ہے ۔اس بحران سے نکلنے کے آثار پیدا ہو رہے ہیں ۔ ملک میں امن و امان کی حالت بہتر ہو رہی ہے ۔سینما کی روایت کی واپسی کے امکانات بھی روشن ہو رہے ہیں ۔مختلف ٹی وی چینلز کی وجہ سے فن کاروں کی قدر افزائی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔اس لیے ایسی کتابوں کی اشاعت وقت کی ضرور ت ہے ۔مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا 
’’میں آپ سے ایک بات کہوں ۔میں نے بارہا اپنی طبعیت کو ٹٹولا ہے ۔میں زندگی کی احتیاجوں میں سے ہر چیز کے بغیر 
خوش رہ سکتا ہوں لیکن موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔آواز خوش میرے لیے زندگی کا سہارا ، دماغی کاوشوں کا مداوا اور جسم و دل 
کی ساری بیماریوں کا علاج ہے ۔مجھے اگر آپ زندگی کی رہی سہی راحتوں سے محروم کر دینا چاہتے ہیں تو صرف ایک چیز سے
محروم کر دیجئے آپ کا مقصد پورا ہو جائے گا ‘‘



یہ تبصرہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟