کرشن چندر کی افسانوی کائنات : دیپک بدکی، انڈیا

کرشن چندر کہانی کی دنیا کے وہ جادوگر ہیں جو اردو ادب کے افق پر نصف صدی تک درخشاں ستارے کی طرح چمکتے رہے ۔ ان کی کہانیوں میں ایک مخصوص رومانی فضا قائم رہتی ہے جس پر ان کاانفرادی دستخط ثبت ہوتا ہے۔ یہ فضا ان کی کہانیوں میں آخر دم تک قائم رہی حال آنکہ دھیرے دھیرے وہ حقیقت پسندی کی جانب مائل ہوتے رہے۔دراصل وہ نثر میں شاعری کرتے تھے اور اگر ان کی کہانیوں کو ’نثری نظمیں‘ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔بقول قرۃالعین حیدر ان کے یہاں’ Lyrical realism‘ ملتا ہے۔ ان کی شاعرانہ نثر کے بارے میں سردار جعفری فرماتے ہیں کہ ’’ وہ بڑی بڑی محفلوں میں ہم سب ترقی پسندوں کو شرمندہ کرکے چلے جاتا ہے۔ وہ اپنے ایک ایک جملے اور فقرے پر غزل کے اشعار کی طرح داد لیتا ہے اور میں دل ہی دل میں خوش ہوتا ہوں کہ اچھا ہوا اس ظالم کو مصرعہ موزوں کرنے کا سلیقہ نہیں ہے ورنہ کسی شاعر کو پنپنے کا موقع نہ دیتا ۔  ۱؎  اس سلسلے میں خواجہ احمد عباس بھی اپنے رشک کو چھپا نہ سکے : ’’جب کوئی افسانہ لکھنے بیٹھتا تو یہ کوشش ہوتی کہ میرے افسانے میں بھی کرشن چندر جیسی جھلک آجائے۔‘‘۲؎  یہ ایک حقیقت ہے کہ کرشن چندر کے اسلوب کی تقلید ان کے فوراً بعد آنے والی پوری نسل نے کی جن کے لیے وہ میر کارواں ثابت ہوئے۔ اردو کے مشہور طنز و مزاح نگار کنہیا لال کپور اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’۱۹۳۶ء ء میں پریم چند نے وفات پائی اور اسی سال کرشن چندر کی ادبی شہرت کا آغاز ہوا۔ دسمبر۱۹۳۶ء میں’ ادبی دنیا ‘میں کرشن چندر کا افسانہ’ یرقان‘ شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچادیا۔ مجھے یاد ہے جب میں نے یہ افسانہ پڑھا تو بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔بخدا، یہ افسانہ نہیں غزل ہے ۔ یہ افسانہ رومانیت اور حقیقت کا ایک عجیب و غریب مرکب ہے۔ اور ایسی نثر میں لکھا گیا تھا ، جس پر شاعری کا گمان ہوتا تھا۔ ‘‘ ۳؎   ان خیالات کی تائید ا ردو کے مشہور نقاد آل احمد سرور بھی کرتے ہیں:’’کرشن چندر دراصل شاعر ہیں ۔ جو اس رنگ و بو کی دنیا میں لاکر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اس کا کمال یہ ہے کہ اس نے ہندوستان کی بد صورتی اور حسن دونوں کو گلے لگایا ہے۔‘‘۴؎
کرشن چندر کا قلم جن دنوں فعال تھا، اس وقت اردو افسانہ اوج کمال پر پہنچ چکا تھا۔انھیں راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی ، سعادت حسن منٹو اور بیسیوں ایسے افسانہ نگاروں سے مسابقت تھی لیکن انھیں اپنے ہم عصروں پر ہمیشہ فوقیت حاصل رہی۔ان کی طلسمی دنیا فکشن پریمیوں کو سحر زدہ کرتی رہی ۔اس دنیا میں تصوراتی رومان بھی تھا اور حقیقی منظر نگاری بھی،انسانی عزم کی بلند نظری بھی تھی اورمظلوم انسان کی آہ و زاری بھی ۔ انجام کار جہاں وہ قارئین کی خالی خولی زندگیوں میں رنگ بھرتے رہے، وہیں غریب لاچار کسانوں اور مزدوروں کی ترجمانی بھی کرتے رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ شہرت انھیں یوں ہی نہیں ملی بلکہ اس کے پیچھے ان کی ان تھک کوشش، مسلسل محنت اورخلوص کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔
افسانوی ادب کے نباض وناقد وقار عظیم کرشن چندر کے فن پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں: ’’کرشن چندر کے جسم میں ایک درد مند اور حساس دل ہے اور اس درد مند اور حساس دل نے انھیں دنیا کی مختلف النوع چیزیں دکھائی ہیں ۔ ایک طرف تو کشمیرکی جنت نظیر وادیوں کے وہ ان گنت مناظر ہیں جو ان کی نظر میں کھبے ہوئے ہیں ، ہر منظر اپنی تفصیلوں میں دوسرے سے مختلف ، لیکن مجموعی حیثیت سے ایک رومانی لذت اور سرور کا حامل ۔ کرشن چندر کے افسانوں میں ان مناظر کے علاوہ اور کچھ بھی نہ ہوتا تو پڑھنے والے انھیں صرف شاعرانہ مناظر کی وجہ سے اپنے دلوں میں جگہ دیتے۔ لیکن ان کی نظر نے اس حسن فطرت کی گود میں پروان چڑھتے ہوئے نسوانی حسن کو بھی دیکھا ہے ۔ اور کرشن چندر نے ان دو حسنوں کو ملاکر اس میں اپنے دل کا درد شامل کیا ہے اور اس طرح اس رنگین اور کیف آور تصویر کو اور بھی زیادہ رنگین بنایا ہے ۔۵؎
کرشن چندر کی توصیف میں قرۃ العین حیدر کے تعریفی کلمات بھی ملاحظہ کیجیے:’’کرشن چندر نے اپنی زندگی ہی میں ایک legend  کی حیثیت اختیار کر لی تھی اور یہ ایک مختصر زندگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی شہرت اور مقبولیت بہت کم ادیبوں کو ملی۔ایک زمانے میں نو عمر افسانہ نگار یہ تمنّا کرتے تھے کہ کرشن چندر کی طرح لکھیں۔اردو ادب نے بڑے فخراور پیار سے کرشن چندر کواپنے عہد کا نقیب اور ترجمان مانا۔ ان کی بے انتہا تعریف ہوئی اور بعد میں اتنی ہی کڑی تنقید۔ جس وقت کرشن چندر کی دھوم مچی میں ا سکول میں پڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔مجھے اب تک یاد ہے کہ کرشن چندر کی دو فرلانگ لمبی سڑک ، زندگی کے موڑ پر ، ان داتا، بالکنی وغیرہ ہمیں کس قدر دلآویز اور انوکھی معلوم ہوئی تھیں۔ایک ہلکی پھلکی شعریت، حسن کاری ، زندگی کا حساس اور پر خلوص مطالعہ۔ گویا لکھنے والے نے ایک طلسمی آئینہ ایسے زاوئیے سے اُٹھا لیا کہ اس میں ہماری آپ کی مانوس دنیا ایک مختلف رنگ میں نظر آنے لگی، جو بیک وقت اس کا حقیقی اور آئیڈیل روپ تھا۔ یہ نیا رویہ انسان دوستی اور اشتراکیت کہلا رہا تھا۔ ‘‘۶؎
اپنے فن کے بارے میںخود کرشن چندر کا کہنا ہے کہ ’’ میرا بچپن چونکہ کشمیر میں گزرا ہے اور زیادہ تر فطرت کی آغوش میں گذرا ہے اس لیے زندگی کی سب سے بڑی شخصیت جس نے مجھے متاثر کیا ہے وہ فطرت ہے ۔۔۔۔میری زندگی کے علاوہ میرے ادب میں جو احساس جمال کسی کو ملتا ہے اس کا منبع یہی فطرت ہے ، واقعیت اور حقیقت نگاری کا پہلا درس بھی مجھے ایک طرح سے فطرت ہی نے دیا۔۔۔۔۔فطرت کے بعد سائنس آتی ہے ۔اسکول میں پڑھائی جانے والی ابتدائی سائنس نے، آپ اسے شخصیت کہہ لیجیے یا واقعہ ، مجھے بے حد متاثر کیا۔  اس کا طریقہ استدلال اور استخراج مجھے آج بھی یاد ہے جو اشیا کو اجزا میں تقسیم کر دیتا ہے اور پھر اجزا کو ایک مرکب میں باندھ دیتاہے اور اس طرح تخلیق اور تخریب کے اصولوں کو سمجھنے کی عقلی کوشش کرتا ہے۔ کسی شے کی آخری ماہیت شاید سائنس بھی معلوم نہیں کرسکتی لیکن وہ اس دروازے تک تو پہنچ سکتی ہے جسے حرف آخر کہناچاہیے اور جس کی چابی سائنس کے پاس بھی نہیں ہے لیکن سائنس میں یہ تو خوبی ہے کہ وہ کسی حرف آخر کو آخر نہیں سمجھتی۔مذہب کی طرح!۔۔۔۔۔۔۔۔فطرت اور سائنس کے بعد میری زندگی کا تیسرا موڑ اور سب سے اہم موڑ اشتراکیت کی آمد ہے۔ وہ خیال جو روسی انقلاب کے بعد ایک دھماکے کی طرح ساری دنیا میں پھیلا اور ساری دنیا کے نوجوان اذہان نے اس کی گونج سنی۔ ‘‘۷؎                             
کرشن چندر نے سب سے پہلے اپنے سکول میں فارسی استاد بلاقی رام سے تنگ آکر ایک طنزیہ مضمون ’پروفیسر بلیکی‘ لکھا جوسردار دیوان سنگھ مفتون کے رسالے’ ریاست‘ میں شائع ہوا ۔اس مضمون پر انھیں والدین کی غضب ناکی کا سامنا کرنا پڑا۔ آگے جاکر وہ کالج میگزین کے انگریزی سیکشن کے ایڈیٹر بنے اور انگریزی میں لکھتے رہے۔ اسی میگزین کے اردو سیکشن کے ایڈیٹر ضیاء فتح آبادی تھے جن کی تحریک پر کرشن چندر نے اپنا پہلا افسانہ ’ سادھو‘ ۱۹۳۲ء میں تحریر کیا جو کالج میگزین میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد وہ باقاعدہ افسانے لکھتے رہے۔باضابطہ طور پر ان کا پہلا افسانہ۱۹۳۶ء میں بائیس سال کی عمر میں شائع ہوا جس کا عنوان تھا ’یرقان‘ ۔ یہ اور دیگر افسانے جیسے انگوراور طلسم خیال کافی مقبول ہوئے۔ کرشن چندر کے افسانوں کے پہلے مجموعے کا نام ’طلسم خیال ‘ تھا۔ستائیس سال کی عمر میں ان کا پہلا ناول منظر عام پر آیا۔اس کے علاوہ ان کے طنزیہ مضامین بھی شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے چالیس سال سے زیادہ اردو ادب کی خدمت کی۔ آخری مضمون بیسویں صدی میں شائع ہوا جو طنزیہ تھا اور جس کا عنوان’ عورتوں کا سال‘ تھا۔کنہیا لال کپور افسانہ ’یرقان ‘ کو، جو۱۹۳۶ء میں شائع ہوا تھا، ان کا پہلا نہیں بلکہ تیسرا افسانہ مانتے ہیں ۔بقول ان کے اس افسانے سے پہلے ’جہلم میں ناؤ پر‘ اور ’لاہور سے بہرام گلہ تک‘ شائع ہوچکے تھے۔ جگن ناتھ آزاد فرماتے ہیں کہ ۳۸۔۱۹۳۷ء میں کرشن چندر کا طویل مختصر افسانہ ’منزل ہے کہاں تیری‘ نے دھوم مچا دی تھی اور مجموعہ ’طلسم خیال ‘،جو ادبی دنیا لاہور سے شائع ہوا تھا ، مقبول ہوچکا تھا۔ ریوتی سرن شرما۱۹۳۸ء میں چھپے افسانوں کے مجموعے ’نظارے‘ کو ان کا پہلا مجموعہ قرار دیتے ہیں جبکہ بقول کنہیا لال کپور ’نظارے ‘ ان کا دوسرا مجموعہ تھا جس کے ’’دیباچہ میں مولانا صلاح الدین مرحوم ایڈیٹر ادبی دنیا لاہور نے اسے جوان سال مگر پختہ فکرکا خطاب دیا تھا۔‘‘ کرشن چندر کا تیسرا مجموعہ ’ہوائی قلعے‘ تھا جب کہ ۱۹۴۴ء میں انھوں نے ناول ’شکست‘شاہد احمد دہلوی کی فرمائش پر گلمرگ کے ہوٹل میں لکھا تھا۔ بعد میں بھی انھوں نے کئی ناول لکھے مگر اس ناول کا کو ئی مقابلہ نہ کرسکا۔
ایم اے (انگلش ) اور ایل ایل بی کرنے کے بعد وہ کچھ دیر صحافت سے منسلک رہے، پھر آل انڈیا ریڈیو میں ملازم ہوگئے اور وہاں سے استعفیٰ دے کر پونے چلے گئے۔ پونے میں کرشن چندر نے بہترین افسانے لکھے۔ انگریزی ادب کے طالب علم ہونے کے سبب انھیں عالمی ادب پر کڑی نظر رہتی تھی۔ویسے بھی وہ بچپن ہی سے مطالعے کے شوقین تھے۔ ان کی ذہنی تشکیل پرٹیگور ، پریم چند، غالب ،چیخوف، بالزاک ، ٹالسٹائے، گورکی، دستووسکی، زولا، وکٹر ہیگو، رومن رولاں اورشیکسپیٔر کا خاصہ اثر دکھائی دیتا ہے۔ ممتاز شیریں کی رائے میں’’ ان میں یہ صلاحیت تھی کہ مختلف طرز کے مغربی افسانوں سے بیک وقت اثر قبول کریں اور فوری طور پر انھیں اردو میں تخلیق کریں اور یہی وجہ تھی کہ شروع شروع میں ہر افسانہ ایک نئے طرز کا لکھ کر انھوں نے فوراً پڑھنے والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔۸؎
زندگی میں کرشن چندر نہایت ہی شریف ، نرم طبیعت ، صلح جو اور مفاہمت پسند واقع ہوئے مگر ادب میں انھوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انھوں نے ہمیشہ دوسرے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کی جس کی تائید کئی ادیبوں نے کی ہے ۔ان کے ابتدائی افسانوں میں رومانیت کا غلبہ نظر آتا ہے مگر دھیرے دھیرے حقیقت پردازی ان کے اندازِ تحریر میں سرایت کرتی رہی۔ ان کی انقلابی روح کالج کے زمانے ہی میں پروان چڑھتی رہی جس کے سبب وہ بھگت سنگھ کے گروہ میں شامل ہوگئے مگر تادیبی کارروائی سے بچ گئے۔رفتہ رفتہ سیاست میں دلچسپی پیدا ہوگئی ۔ اِدھرسوشلسٹ پارٹی سے نزدیکیاں بڑھتی رہیں ، اُدھر بھنگیوں کی پہلی انجمن کے صدر چنے گئے جس کی بدولت انھیں پسماندہ لوگوں کی زندگیوں میں جھانکنے کا موقع مل گیا ۔ شروع میں کشمیر کے دلفریب مناظر ان کی جمالیاتی حس کوانگیز کرتے رہے، پھر انگریزوں سے آزادی پانے کی تمنّا ان کے قلم کو حرکت دیتی رہی مگر اس کے بعد طبقاتی جد وجہد اور پھر تقسیم وطن نے ان کے دل کو نہایت ہی رنجیدہ خاطر کردیا اور وہ قلم سے انگارے برساتے رہے۔ ان کے افسانوں کا کینواس رومانی کشمیرسے لے کرجھگی جھونپڑیوں ، قحط بنگال ، پشاور ایکسپریس اور پھر کوریا اور ہونولولو تک پھیلتا گیا۔ طبقاتی کشمکش، طاقت ور اور کمزور کا تصادم،سماجی، سیاسی اور معاشی استحصال،مطلق العنانی ،جمہوریت اور فسطائیت کامجادلہ ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔وہ ہمیشہ ایک مہذب ،مساواتی اور امن پسند دنیا کے خواستگار رہے ۔ان کے افسانوں میں رجائیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔اس رجائیت کا ثبوت خود ان کے بیان سے ملتاہے۔’’ مجھے انسان کا مستقبل روشن نظر آتا ہے ۔ ممکن ہے یہی جذبہ میری ذہنی شگفتگی کا سبب ہو۔ میرے ذہن میں دکھ اور دردکے بڑے لمبے لمبے سائے آتے ہیں لیکن میں فوراً اس روشنی سے ملاقات حاصل کرکے انھیں دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ادیب کا زندگی کے بارے میں نظریہ یاسیت سے بھر پور ہو تو اس میں ذہنی شگفتگی کہاں سے آئے گی ۔‘‘۹؎
  بیگ احساس نے اپنے تحقیقی مقالے میں کرشن چندر کے افسانوں کے تخلیقی دور کو دو حصوں میں بانٹا ہے -۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۵ء تک کا دور اور ۱۹۴۵ء سے ۱۹۷۷ء تک کا دور۔اس کے برعکس وقار عظیم ان کی ادبی زندگی کو کئی ادوار میں بانٹتے ہیں۔ان کے خیال میں ’طلسم خیال‘ اور بڑے حد تک’ نظارے‘ کا دور ان کا ابتدائی نشان ِمنزل کی جستجو کا دور تھا۔یہاں’’ صرف ایک جوشیلے ، ’رس بھرے تخئیل‘ کی ساری رنگینیوں اور مدہوش کن رہنمائیوں میں ڈوبے ہوئے رومانی انداز میں جذبہ غالب ہے۔ اور یہی جذبہ اس کے افسانوں کو رومان کی ایک ایسی فضا میں گھرا ہوا رکھتا ہے کہ زندگی اس کے قریب قریب منڈلاتی دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔۔ یہاں تخیّل اور رومان پر زندگی کا نہیں بلکہ زندگی پر تخیّل اور رومان کی حکمرانی ہے۔ افسانہ نگاری کا یہ دور سچ مچ ’خیال ‘ کے طلسمات میں گھرا ہوا ہے۔ نظر بھی خیال کے پابند اور حلقہ بگوش ہے۔‘‘دوسرے مجموعے’ نظارے‘ سے  سخت آزمائش کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے جس میں انھوں نے رومان اور تخیّل کی رنگین دنیا کے طلسم کو توڑ کر دنیا میں ہر طرف بکھری اور چھائی ہوئی تلخی کو اپنایا۔ایک طرف رنگین رس بھرارومان تھا اور دوسری طرف زندگی کی تلخ حقیقتیں ۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کسے چھوڑیں اور کسے اپنائیں ۔ آگے چل کر تیسرے دور میں سنجیدہ فکر ، رنگین تخیّل اور لطیف انداز بیان کا شیریں امتزاج ملتا ہے(ٹوٹے ہوئے تارے ، نغمہ کی موت ، گھونگھٹ میں گوری جلے وغیرہ)۔ اس کے علاوہ وقار عظیم نے کرشن چند رکے افسانوں کو کئی زمروں میں تقسیم کیا ہے :
(۱) رومانی کہانیاں جن میں محبت کا جوش ، ابال اور شاعرانہ لفاظی اپنی پوری بلندی پر ہے۔
( ۲) کہانیاں جن میں رومان کی لذت میں زندگی کا کوئی نہ کوئی زہر یا نشتر شامل ہے۔
( ۳) افسانے جن میں انھوں نے نفسیاتی نقطئہ نظر سے جنسی احساس اور جذبہ کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی ہے 
     لیکن اس انداز کو اپنا خاص انداز نہ بنا سکے او ر اس لیے بہت جلد چھوڑ دیا۔
(۴) افسانے جن میں لکھنے والا تخیّل کی دنیا کو چھوڑ کر مشاہد ہ کی دنیا میں آکر بستا ہے ۔۱۰ ؎
کرشن چندر زود نویس تھے ۔ان کا تخلیقی ذہن انھیں ہمیشہ بے قرار رکھتاتھا۔ ان کاقوت مشاہدہ بھی انھیں زندگی کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے لیے مجبور کرتاتھا۔ ان کے تخیّل کی پرواز سونے پر سہاگا کا کام کرتی تھی ۔ جب بھی کسی واقعے یا شخصیت سے متاثر ہوتے یا کوئی نیا پلاٹ سوجھتا ، اسے جلدی نوٹ کرلیتے اور مستقبل میں اس پر غور کر کے کہانی لکھ لیتے۔ سوتے ہوئے بھی کوئی اہم نکتہ یاد آتا تو اٹھ کر نوٹ کرتے۔ کبھی کبھار یوں بھی ہوتا کہ قلم اٹھایا اور بنا پلاٹ طے کیے لکھنے بیٹھ گئے۔افسانہ اِدھر اُدھر بھٹکتا محسوس ہوتا مگر انجام تک پہنچتے پہنچتے اکائی میں تبدیل ہوجاتا۔وہ روزانہ لکھنے کے عادی تھے ۔ عموماً افسانہ ایک ہی نشست میں تحریر کرتے اور اسے دوبارہ پڑھنے کی زحمت نہیں اٹھاتے ۔انھوں نے ناول ’شکست ‘ صرف ۲۲ دنوں میں مکمل کیا تھا۔
قرۃ العین حیدر کرشن چندر کی مدح تھیں ۔ ان کے فن کی تاثیر کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:’’ کرشن چندر نے اپنے اولین دور میں جس روانی اور بے ساختگی سے مختلف اسالیب میں اور متنوع موضوعات پر لکھا ، ان کہانیوں سے کہیں یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ جان بوجھ کر کوئی تجربہ کر رہے ہیں ۔ مگر بہت جلد اسی طرز بیان کی تقلید کی جانے لگی۔ ’ہم وحشی ہیں‘ کے افسانے اس بہاؤ کا high watermark  ہیں۔ جس وقت یہ کتاب چھپی تھی میں نے اس کے بعد دوبارہ نہیں پڑھا، مگر مجھے ایسا یاد پڑتا ہے کہ ان افسانوں کاانداز ایک پرجوش اور مضطرب کرنے والی ڈاکیومنٹری فلم کا سا تھاجو فسادات کی اذیت ناک موضوع کے لیے اس وقت عین مناسب تھا۔۱۱؎
بقول انتظار حسین ’’کرشن چندر کے ساتھ اردو افسانہ رومانیت کے چنگل سے نکلا اور رومانی حقیقت نگاری کی حدود میں داخل ہوا۔ اس نئی رومانیت میں رنگی ہوئی ان کی حقیقت نگاری پورے عہد کو اپنے ساتھ بہا لے گئی۔ بس یوں سمجھ لیں کرشن چندر ایک فیشن بن گئے۔جو نوخیز ذہن افسانے میں آتا وہ کرشن چندر کے رنگ میں رنگ جاتا۔‘‘۱۲؎  ایک پورا عہد کرشن چندر کا دیوانہ ہوگیا اور اس دور میں جتنے بھی افسانہ نگار میدان میں اترے سب کے سب اسی کوشش میں لگے رہے کہ وہ کرشن چندر کی طرح افسانے لکھ سکیں۔ قارئین میں مرد بھی تھے اورعورتیں بھی، نوجوان بھی تھے اور دوشیزائیں بھی، بچے بھی تھے اور بوڑھے بھی۔ غرض ان کی اپیل آفاقی تھی۔اسی تعلق سے پروفیسرعلی احمد فاطمی اپنی رائے کا اظہار اس طرح  کرتے ہیں : ’’ ۔۔۔ترقی پسندشاعروں اور افسانہ نگاروں نے اور بالخصوص کرشن چندر کے افسانوں نے جس طرح کی رومان پروری کی ہے وہ اردو کی روایتی رومان سے خاصی مختلف ہے۔ یہ رومان حقیقت کے بہت قریب ہے ۔ صداقت کا بھی رنگ ہے بلکہ کئی رنگ ، کئی منظر ، کئی موسم اور کئی پیچ و خم بھی۔‘‘۱۳؎   اپنے مضمون’ کرشن : ایک بشر نواز قلم کار‘ میںاقبال مجیدان کے افسانوں پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:’ کرشن چندر کے افسانوں میں احساس حسن اور نشاط حسن کا عنصر زیادہ ملتا ہے ، وہ حسن کاری کو ہمیشہ اولیت دیتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ کسی خوبصورت مقصد کے بغیر خوبصورتی کی تشکیل نہیں ہوسکتی ۔ وہ کہتے تھے کہ خوبصورتی انسانی سماج میں انسانی فکر سے اور انسانی عمل سے تشکیل کی جاتی ہے اس لیے انھیں ہر وہ چیز جس سے انسانی دشمنی کی بُو آتی ہو anti-human نظر آتی اور وہ اس کے خلاف اپنی تحریروں میں رومانی حقیقت نگاری کے پیرائے میں احتجاج کرتے۔‘‘۱۴؎ 
کرشن چندر کی معرکۃ الآرا کہانی ’ دو فرلانگ لمبی سڑک‘ نے اردو افسانے میں انقلاب برپا کیا۔حسن عسکر ی اس افسانے کے متعلق اپنے تاثرات ذیلی اقتباس میں قلم بند کرتے ہیں:’’’دو فرلانگ لمبی سڑک ‘ کے انداز میں اب تک سیکڑوں افسانے لکھے جاچکے ہیں ۔ اس لیے آج تو شاید یہ افسانہ اتنا وقیع نہ معلوم ہو۔۔۔۔ اول تو اس افسانے کا کینڈا ہی بالکل نیا تھا۔ اس میں نہ تو کوئی پلاٹ (plotless) نہ تو کوئی کہانی نہ سلسلے وار واقعات تھے۔ بس چند بکھرے ہوئے تاثرات کو ایک جگہ جمع کرکے جذباتی وحدت پیدا کی گئی تھی۔ یہ انداز اس زمانے میں بالکل نیا تھا۔ ۔۔۔۔ سنہ ۱۹۳۶ء کے قریب نوجوانوں کو یہ احساس پیدا ہوا کہ ہماری زندگی کی کوئی شکل نہیں ہے۔ اس کا کوئی شروع نہیں یا آخر نہیں ہے۔ حرف چند بکھرے ہوئے ٹکڑے ہیں جن سے کوئی وحدت نہیں بنتی۔ کرشن چندر کا انداز بیان اس احساس کی ترجمانی کرتا ہے ۔ یہاں آپ اعتراض کریں گے کہ آخر احمد علی کے افسانے ’ہماری گلی‘ میں بھی تو یہی انداز بیاں اختیار کیا گیا ہے اسے یہ حیثیت کیوں حاصل نہیں ہوئی ۔ اس افسانے کا انداز تو تاثراتی تھا لیکن ان تاثرات کا ایک مرکز بھی ہے یعنی گھر۔ یہاں جو چیزیں دیکھی گئی ہیں وہ بذات خود اتنی اہم نہیں ہیں جتنی یہ بات کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر دیکھی گئی ہیں۔اس لیے وہ ’ہماری‘ہیں ۔ اس افسانے میں مستقل انسانی تعلقات کا احساس باقی ہے جس آدمی کو یہ تاثرات حاصل ہوئے ہیں اسے بھی ایک جذباتی پناہ گاہ حاصل ہے۔ لیکن کرشن چندر کے افسانے ’دو فرلانگ لمبی سڑک ‘ میں انسانی تعلقات بالکل ختم ہوچکے ہیں ۔ اس پر بے گھری کی فضا طاری ہے ۔ اس افسانے کا ہیرو محض ذاتی احساس کے سہارے زندہ ہے اور اسے بھی وہ ختم کر دینا چاہتا ہے۔ کرشن چندر نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ اس زمانہ کے نوجوانوں کا تجربہ پیش کر دیاہو بلکہ انھیں بتایا کہ اگر تمھاری زندگی میں کوئی اہمیت ہے تو بس یہ ہے ۔‘‘ ۱۵؎
افسانہ’ ان داتا ‘نے بھی نئے قسم کے افسانے کی داغ بیل ڈالی۔یہ رجحان ’کالو بھنگی‘ اور ’ہم وحشی ہیں ‘میں مزید نکھرکر سامنے آ گیا۔اس رجحان کے متعلق کرشن چندر نے نریش کمار شاد کو بتایا کہ’’ ماحول کی خوبصورتی اور اس میں رہنے والے انسانوں کی بد صورتی ، لالچ، ہوس اور فریب کاریوں کے تضاد کو پڑھنے والے کے سامنے پیش کرنا ابتدا سے ہی میرا مقصد رہا ہے ۔ یہ دنیا خوبصورت ہے اور بھی خوبصورت ہوسکتی ہے ۔ لیکن اس کا غلط استعمال ہورہا ہے ۔‘‘۱۶ ؎   اسی طرح انھوں نے اپنے ایک اور افسانے کے متعلق بتایا کہ’’ زندگی کے موڑ پر  میرا طویل مختصر افسانہ ہے اور شاید اب بھی مجھے اپنے تمام افسانوں میں سب سے زیادہ پسند ہے ۔ اس میں وسطی پنجاب کے ایک قصبے کا مرقع پیش کیا گیا ہے اور اس قصباتی پس منظر کو لے کر شادی، برہمنی نظام زندگی ، عشق کی خود کشی اور ان سے متعلق مسائل سے پیدا ہونے والے فکری اور جذباتی ماحول کی آئینہ داری کی گئی ہے ۔‘‘ ۱۷؎ کرشن چندر کا ناول ’ہمارا گھر‘بھی ایک تخیّلی تجرباتی کہانی ہے جو تہذیبی ارتقا کی مشابہ ہے کہ کیسے وقت کے ساتھ قوی کمزور پر غالب ہوجاتا ہے اوراس رویے کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔ یہ ناول انگریزی ڈرامہ دی ایڈمرابل کرائٹن کی طرز پر لکھا گیا ہے۔ سوشلسٹ نظریے کی وضاحت اس ناول میں بڑی خوبی سے کی گئی ہے۔
چونکہ بیسویں صدی کے پانچویںدہے میں علامت نگاری اور استعارہ سازی کا ڈھول بجنے لگالہٰذا نقادوں نے رومان اور حقیقت نگاری کو ہدف ملامت بنانا اپنا فریضہ سمجھالیکن اس کا جواب اعجاز صدیقی نے دو ٹوک ان الفاظ میں دے دیا : ’’ کرشن چندر نے افسانوی ادب کو نئی معنویتیں، جہتیں اور تعبیریں دیں۔ اس کو جن کہانیوں کو رومانی کہہ کر ان کا مرتبہ کم کرنے کی شعوری کوشش کی گئی ، اب پھر ہمارے تنگ نظر نقاد بہ توجہ پڑھیں اور دیکھیں کہ وہ رومان سے حقیقت اور داخلی دروں بینی سے خارجی مسائل کی طرف ذہنوں کو کس طرح لے جاتا ہے ۔ کرشن چندر کی کسی کہانی میں بے مقصدی اور محض خیال آرائی یا نمائشی فلسفہ نہیں ملے گا۔اس کے اسلوب کی رومانیت شعریت اور رنگینی کے باوجود اس کی عینیت پسندی تک قاری کا ذہن ضرور پہنچ جاتا ہے۔ ‘‘۱۸؎
کرشن چندرجس دور میں افسانے لکھتے رہے اس وقت ترقی پسند تحریک کا بول بالا تھا۔ کالج میں وہ طلبہ کے رہنما رہے اور بھنگیوں کی یونین سے بھی وابستہ رہے ، اس لیے ان کے اندر غریبوں ، مزدوروں اور بے زمین کاشتکاروں کے تئیں ہمدردی جاگ اٹھی تھی۔ ساحر لدھیانوی کا خیال ہے کہ کرشن چندر کے افسانوں میں ابتدا میں رومانیت کا غلبہ رہا مگر ۱۹۴۴ء کے بعدانھوں نے کروٹ لی جس کا اعتراف خود کرشن چندر نے ترقی پسند مصنفین کانفرنس میں کیا تھاکہ ’’وقت آگیا ہے کہ ہر ادیب کھلم کھلا اشتراکیت کا پروپیگنڈہ شروع کردے۔‘‘ ان کے اس دور کے افسانے ان داتا، موجی، تین غنڈے ، پال، بھوت، پشاور ایکسپریس شہرت سے سرفراز ہوئے۔ان کے فن کی عظمت کا سبب ان کے نظریات کی عالمگیر وسعت اور احساس کی بے پناہ شدت ہے ۔ ساحر لدھیانوی مزید فرماتے ہیں کہ ’’ وہ کسی ایک قوم ، ایک نسل یا ایک فرقے کا ادیب نہیں، ساری انسانیت کا ادیب ہے ۔ ‘‘ ۱۹؎  اردو کے معروف تنقید نگار احتشام حسین فرماتے ہیں کہ’’ بات یہ ہے کہ کرشن چندر عقیدتاً ادب برائے ادب سے متنفر ہیں ، اس لیے ان کے وہ افسانے بھی سماجی حقیقت کا کوئی نہ کوئی شائبہ رکھتے ہیں جن پر بظاہر رومانی ہونے کا دھوکا ہوتا ہے۔ ۲۰؎  کرشن چندر ترقی پسند تحریک کے ساتھ اول تا اخر منسلک رہے، غریبوں اور مزدوروں سے ہمدردی جتاتے رہے، اپنے افسانوں اور ناولوں میں تحریک کے نظریے کا برملااظہار کرتے رہے، ان کی تحریریں دلوں پر اثر کرتی رہیں مگر کسی کی دل آزاری کا سبب نہیں بنیں۔کمیونزم سے نزدیکی ہونے کے باوجود وہ کسی سیاسی پارٹی کے ممبر نہیں تھے اور کانگریس کے ساتھ ان کا اچھا رابطہ رہا۔ ترقی پسند رسالوں کو مفت میں اپنی نگارشات سے نوازتے تھے مگر کمرشل رسالوں سے بھی خوشگوار تعلقات تھے۔
بقول خواجہ عبدالغفور ’’ترقی پسند ادب کی سب سے بڑی دریافت کرشن چندر ہیں ۔ اور ان کے مزاج کی مناسبت سے وہ کبھی خاموش نہیں رہ سکے۔‘‘ ۲۱؎  بلونت سنگھ کے ایک سوال کہ ’’کیا آپ خالص کمیونسٹ نقطۂ نظر ہی کو ادب کے لیے بہترین اور ضروری سمجھتے ہیں ؟‘‘ کے جواب میں کرشن چندر فرماتے ہیں :’’خالص تو نہیں ۔ لیکن عام طور پر مارکسی نقطئہ نظر کو ہی اپناتا ہوں ۔کیونکہ وہ مجھے دوسرے نظریوں سے بہتر معلوم ہوتا ہے ۔ میرے خیال میں یہ نظریہ سماج کی صحیح تصویر پیش کرتا ہے اور اس میں ترقی کی گنجائش بھی ہے۔‘‘بلونت سنگھ کے مزید پوچھنے پر کہ’’ کیا آپ ترقی پسند ادب کے کچھ محدود حدود مقرر کرنا پسند کریں گے؟‘‘کرشن چندر فرماتے ہیں کہ’’ ترقی پسند ادب اتنا ہی لا محدود ہے جتنی کہ زندگی ۔‘‘۲۲؎  ترقی پسندی کے بارے میںساحر لدھیانوی کے خیالات واضح طور پر ان کے جنون وجذبات کو منعکس کرتے ہیں : ’’کرشن چندر پہلے روشنائی کی بجائے زہر سے لکھنے کا عادی تھا۔ آج کل زہر کی بجائے خون سے لکھتا ہے، ظاہر ہے کہ ملک اور قوم کے خون سے نہیں اپنے خون سے، بے حد حساس اور جذباتی ہے۔ معمولی سے معمولی واقعہ اس کے جذبات میں ہل چل پیدا کر دیتا ہے  اور پھر وہ چیخ اٹھتا ہے ، سماج کے خلاف، مذہب کے خلاف، حکومت کے خلاف، یہاں تک کہ خود اپنے خلاف۔‘‘ ۲۳؎ 
ظاہر ہے کہ ابتدائی دور میں کرشن چندر کی رومانیت نے قارئین کو سحر زدہ کیا تھا اور بعد میں حقیقت پسندی کی جانب ان کی دلچسپیاں بڑھتی رہیں۔ مگر ایک وقت ایسا بھی آیا جب فرائیڈ کے زیر اثر ایک نئی نفسیاتی و جنسی لہر افسانوی ادب میں عود کر آئی اور منٹو اور اس کے پیرو ادب پر چھانے لگے ۔ کرشن چندر کے افسانوں میں نفسیاتی تجزیے تو ملتے ہیں مگر انھوں نے جنسی موضوعات پر لکھنے سے گریز کیا۔یہ ایک شعوری کوشش تھی کیونکہ انگریزی پوسٹ گریجویٹ ہونے کے باعث وہ بین الاقوامی لٹریچر سے زیادہ قریب تھے ۔ترقی پسندوں نے بھی اپنی حدیں مقرر کر لیںاور منٹو سے علیٰحدگی اختیار کی۔ بقول مولانا صلاح الدین ’’کرشن چندر کے بیشتر افسانے نفسیاتِ انسانی کے نہایت حیرت انگیز مطالعے ہیں ۔ ان میں انسانی فکر و احساس کی بے شمار ایسی باریکیاں اور واردات پیش کی گئی ہیں جن سے بظاہر ایک اوسط درجے کے دل و دماغ کو ہر روز واسطہ پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جنسی بھوک  کی پکار کرشن چندر کے اکثر افسانوں میں گونجتی ہے اور پڑھنے والوں کی روح میں اُترتی چلی جاتی ہے ۔ اس موضوع پر کرشن چندر ایک خاص سلیقے سے قلم اٹھاتے ہیں اور ان کے بیان کی نزاکت مطالب کو اس طرح چھپاتی اور بے نقاب کرتی ہے جیسے آب رواں کا نقاب کسی حسینہ کے چہرے کو۔ در حقیقت جنسی رجحانات اور ان کی مختلف کیفیتوں کو ہمارے سنجیدہ ادب میں اب تک ممنوعات میں سے سمجھا جاتا رہا ہے اور اسی لیے ان پر جو کچھ اب تک لکھا گیا ہے ، اس کا فنی پایہ چنداں بلند نہیں۔‘‘ ۲۴؎  اس بارے میں کرشن چندر نے جلیل بازید پوری کے سوال کا جواب مندرجہ ذیل الفاظ میں دیا : ’’ جنس بھی زندگی کا اہم موضوع ہے اور میں خود بھی اپنی صلاحیتیں اس میں صرف کرتا ہوں مگر صرف یہی ایک موضوع نہیں ہے زندگی میں اور بھی بہت ایسے مسئلے ہیں جن سے ہماری اور آپ کی تکلیف اور مصیبتوں میں روز بہ روز اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ اجناس کی ہوش ربا گرانی، رشوت ستانی، خویش پروری، اور چند طاقت ور طبقوں کا ظالمانہ استحصال ایسی چیزیں ہیں جن سے اپنی ادبی تخلیقات میں بچنا بہت مشکل ہے۔ اور جو ادیب ایسا کرتے ہیں چاہے وہ صف اول کے ادیب ہوں یا صف سوم کے وہ اپنی صلاحیتوں کا نا مکمل استعمال کرتے ہیں ۔۲۵؎  
خواجہ احمد عباس کی رائے ہے کہ’ ’کرشن چندر کی ہر کہانی ایک ڈھب سے خود اس کی اپنی کہانی ہوتی ہے ۔ وہ اپنی ہر کہانی میں ایک نیا جنم لیتا تھا اور جب اپنے بنائے ہوئے کیریکٹر کو مارتا تھا تو ساتھ ہی خود بھی مر جاتا تھا۔ پھر اگلی کہانی میں پیدا ہوتا تھا ۔ ‘‘۲۶؎کرشن چندر نے مبسوط اور مربوط پلاٹ کا انتخاب بھی کیا، انھوں نے بغیر پلاٹ سوچے اپنے ہاتھ میں قلم بھی اٹھایا اور لکھتے چلے گئے۔ وہ ایک ہی راستے پر منزل کو دھیان میں رکھتے ہوئے چلتے رہے اور بے سمت ہواؤں کے ساتھ بھی چلتے رہے ۔ ان کے موضوعات میں بوقلمونی ملتی ہے۔ مگر ایک چیز جو ان کی نگارشات کو جوڑتی ہے وہ ہے مقصدیت۔ کرشن چندر کے افسانے مقصدیت کی بہترین مثالیں ہیں۔جلیل بازید پوری سے انٹرویو کے دوران پتہ چلتا ہے کہ کرشن چندر اس بات سے باخبر تھے کہ وہ لکھتے لکھتے اپنی ڈگر سے بھٹک جاتے ہیں مگر ان کا یہ ماننا ہے کہ آخر کار ان کے سارے راستے ایک ہی جگہ پرمل جاتے ہیں اور اسی جگہ پر ان کا مقصد قاری پر واضح ہوجاتا ہے۔
پروفیسر قدوس جاوید ان کے فن کا جائزہ لیتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ’’ کرشن چندر کے افسانے مرکز جُو(Centripetal) نہیں، مرکز گریز (Centrifugal) ہوتے ہیں ۔ افسانے کے روایتی فنی مراکز پلاٹ ، کردار اور واقعات کے رسمی برتاؤ سے گریز کرشن چندر کی افسانہ نگاری کی بنیادی صفت ہے ۔دوفرلانگ لمبی سڑک، مہالکشمی کا پُل ، اور غالیچہ ، بالکونی اورزندگی کے موڑ پر وغیرہ میں اس کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ پریم چند ، بیدی ، منٹو اور عصمت کے افسانوں میں پلاٹ، کردار اور واقعات کی مدد سے کہانی وجود میں آتی ہے ، کہانی پن یا افسانویت عموماً ان کی خارجی ساخت میں ہی ہوتی ہے جب کہ کرشن چندر کے افسانوں میں پلاٹ ، کردار، اور واقعات اکثر حاشیے پر رہتے ہیں اور کرشن چندر اپنی مخصوص زبان اور منفرد تخلیقیت سے کام لے کر افسانہ میں ایک آزاد اور فطری فضا تیار کرتے ہیں ۔ اس داخلی فضا کے اندر سے ہی افسانویت یا کہانی پن ظہور میں آتا ہے اور کردار اور واقعات صرف کہانی میں ارضیت پیدا کرنے کے وسیلے ثابت ہوتے ہیں ۔ یوں بھی ہئیت پسنددانشوروں شکلووسکی، رومن، جیکبسن وغیرہ کے مطابق ادب میں اہمیت ادب پارے کی خارجی صورت کی نہیں اس کی داخلی ساخت ہوتی ہے کیوں کہ ادبی تحریر کی ساری ادبیت اس کی داخلی ساخت میں ہی مضمر ہوتی ہے۔ مثلاً مہا لکشمی کا پل میں کرشن چندر نے پل کے جنگلے پر ٹنگی چھ ساڑیوں کے مختلف رنگوں سے افسانے کی پوری فضا تشکیل دی ہے۔‘‘۲۷؎ کرشن چندر اپنے اسٹائل میں تجربے کرنے سے کبھی نہیں ہچکچائے ۔دو فرلانگ لمبی سڑک اور مہالکشمی کا پُل کرشن چندر کے بہترین بغیر پلاٹ کے افسانے ہیں جبکہ ’غالیچہ‘علامتی طرز کا افسانہ ہے ۔ ان تینوں افسانوں کی نظیر ملنا بہت مشکل ہے۔ 
کرشن چندر کے یہاں عام زندگی سے متعلق موضوعات کثرت سے ملتے ہیں جیسے لگان،رشوت، فصل کی بربادی، مزدوری کی تلاش ، روزگار کے لیے دربدر ٹھوکریں کھانا ، جنگ، بٹوارہ ، فلم نگری کی زندگی، ادب کی بے حرمتی وغیرہ۔ موضوع اور کردار جو بھی ہوں ، وہ حقیقت نگاری سے کام لے کراور کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ کرکے ان کے ذہنوں اور دلوں تک رسائی پانے کی کوشش کرتے تھے۔ ہمارے یہاں انسانیت، مذہب اور روایت کی پاسداری کا جو ڈھونگ رچایا جاتا ہے، کرشن چندرہر لمحے اس کو تشت از بام کرنے پر تُلے رہتے تھے ۔ وہ سماجی برائیوں کو بے نقاب کرتے تھے، قومی مسئلوں جیسے قحط بنگال، تقسیم ملک اور بین الاقوامی مسئلوں جیسے کوریا کی جنگ پر افسانے اور ناول لکھتے تھے اور قارئین کی سوچ کو مہمیز کرتے تھے۔وہ سیاسی ،سماجی، اقتصادی و انصرامی نظام پر کڑی نگاہ رکھتے تھے اور ان کی بد انتظامی پر لعن طعن کرتے تھے۔
ان کے کردار عموماً پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں مگرتقابل کی خاطر دیہاتی یا شہری استحصالی کرداروں کو بھی شامل کرتے ہیں مثلاً دیہاتی مزدور،کسان ، شاعر، فلاسفر،دفتری بابو ،عام عورتیں،بیوی بچے ، بے روزگار، شہر ی مزدور ، نمبر دار، سیٹھ ، ساہوکار،مہاجن ،سرمایہ دار،مذہبی پیشوا، فقیر ، مذہبی فریبیئے،فوجی سپاہی ،پولیس والے، ملک و قوم کے رہنما، فلم پروڈیوسر، ایکٹر، طوائفیں، ان کے عاشق، دلال، کال گرل وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ان افسانوں کی زبان اتنی عام فہم ہے جو گلیوں، فٹ پاتھوں اور عام گھروں میں بولی جاتی ہے۔بارہا وہ مقامی بولی جیسے مراٹھی کو بھی اپنے افسانوں میں بڑی خوبصورتی سے برتتے ہیں ۔
  کرشن چندر کے افسانوں اور ناولوں میں عورت کے مختلف روپ ملتے ہیں۔ رومان میں مسرور بے فکر عورت، سماج کی ٹھکرائی ہوئی عورت، فلموں میں کام ڈھونڈتی عورت،بے سہارا عورت، ٹھکرائی ہوئی یا طلاق شدہ عورت ، مردوں سے پنجہ لڑاتی عورت ، بیوہ ، طوائف ، کال گرل ، وغیرہ۔بلونت سنگھ کو دیے گئے انٹرویو میں کرشن چندر مرد اور عورت کا یوں موازنہ کرتے ہیں کہ ’’ وہ (مرد)محبت سے محروم بھی ہوجائے تو دس اور طریقوں سے اپنی زندگی بنا سکتا ہے لیکن ایسی حالت میں عورت کیا کرسکتی ہے ؟‘‘کرشن چندر مزید فرماتے ہیں کہ’’ میرے خیال میں مردوں سے زیادہ عورت کے دل میں محبت کا شعور ہوتا ہے ۔ عورت تو ہے ہی سراپا محبت ۔ اس کی زندگی محبت سے شروع ہوتی ہے اور محبت پر ختم ہوجاتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ ہمارے سماج میں مرد کی دنیا بہت بڑی ہے ۔‘‘۲۸؎
جہاں تک منظر نگاری کا سوال ہے ،کرشن چندر اس میدان میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ۔گوپی چند نارنگ ان کی منظر نگاری کے حوالے سے رقم طراز ہیںکہ’’ مناظر فطرت کے حسن کی فراوانی اور انسانی غربت اور بے بسی کا تضاد کرشن چندر کے فن کا بنیادی سانچہ ہے جو آگے چل کر شہری تعیش اور صنعتی افلاس کے تصادم میں بدل جاتا ہے ۔ کشمیر کے فطری مناظر کے حسن کا کرشن چندر کے دل پر ایسا گہرا اثر تھا کہ کرشن چندر کی شخصیت خود اسی فکری پیکر میں ڈھل گئی تھی۔ان کے بچپن کی معصومیت نے کسی منزل پر بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ ان کی معصومیت سے کشمیر کی وادیاں اور زعفران کی کھیتیاں آنکھوں میں پھر جاتی تھیں۔جذبات کے بیان میں جذباتی ہونے کی وجہ بھی شاید یہی تھی۔ ان کی حقیقت نگاری پر جذباتیت کی چھاپ ہے ، پھر بھی اس کی تین سطحیں ہیں ۔ ابتدائی دور کی حقیقت نگاری، منظریہ ہے۔ وسطی دور کی حقیقت نگاری نفسیاتی ہے اور آزادی کے بعد کی حقیقت نگاری نظریاتی ہوکر رہ گئی تھی جس میں وہ زندگی کے پیچیدہ مسائل کا خیالی اور عینی حل پیش کرنے لگے تھے۔‘‘۲۹؎
کرشن چندر کے اسلوب کے بارے میں ریوتی سرن شرما فرماتے ہیں کہ’’ ان کی کہانی کا اسلوب تو جدید مصوری کی طرح ہے ۔ وہ کہانی کا ڈھانچہ ، اینٹ پر اینٹ رکھ کر نہیں بناتے تھے۔ وہ برش کے لمبے لمبے اسٹروک مارتے چلتے تھے۔کبھی دائیں ، کبھی بائیں ، کبھی اوپر ، کبھی نیچے۔پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔کہانی کا یہ لچکیلا اسلوب کرشن چندر کی کہانیوں کو ایسی وسعت و کشادگی عطا کرتا ہے جو کسے ہوئے پلاٹ کہانیوں میں نہیں ملتی۔۔۔۔۔۔ایک اور بات ۔ کہانیاں لکھتے وقت کرشن چندر پلاٹ کے حصار میں نہیں رہتے۔کسی چیز کو دیکھ کر کرشن چندر کا تخیّل اتنا مشتعل ہوجاتا ہے کہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ اور آج سے بیتے ہوئے کل یا آنے والے کل میں چلے جاتے ہیں ۔ ‘‘۳۰ ؎  ’مشہور تنقید نگار عزیز احمد کرشن چندر کے اسلوب کا ذکر ذیلی الفاظ میں کرتے ہیں:’’جہاں تک طرز تحریر کا تعلق ہے ، اردو کا کوئی افسانہ نگار کرشن چندر کی گرد کو نہیں پہنچ سکتا۔ درد ہو یا طنز، رومانیت ہو یا حقیقت نگاری، ان کا قلم ایسی دلکش چال چلتا ہے جو بانکی بھی ہوتی ہے اور انوکھی بھی لیکن اس قدر سادہ اور فطری ہوتی ہے جیسے صبح کے وقت چڑیوں کی پرواز۔‘‘ ۳۱؎  ’گھونگھٹ میں گوری جلے ‘کے دیباچے میں کرشن چندر لکھتے ہیں کہ’’ افسانے میں مصنف اپنے جذبات سے جس طرح چاہے کھیل سکتا ہے ، جس طرح چاہے واقعات کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا ہے ۔اگر ہیرو سے ناراض ہوجائے تو اسے خود کشی پر مجبور کرسکتا ہے ۔ اسے زہر دے سکتا ہے، پہاڑوں کی چوٹی سے نیچے پٹک سکتا ہے۔ ‘‘ ۳۲؎
کرشن چندر اس گُر میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ۔ پریم چند کے بعد وہ اپنی شعلہ بیانی سے قارئین کو مسرور کرتے رہے۔ ان کے فن اور تخیّل کی بنیاد انسانیت اور انسان دوستی پر استوارہے جو ان کے افسانوں کو آفاقیت عطا کرتی ہے ۔ وہ بنا پلاٹ کے افسانوں میںوہی دلکشی پید اکرتے ہیں جو دوسرے طے شدہ افسانوں میں ہوتی ہے۔یہی تکنیک کا انوکھا پن انہیں انفراد بخشتا ہے ۔نثر میں ان کی جادو بیانی کا کوئی ثانی نہیں ملتا۔ ایک ہی بات کو وہ کئی طرح سے کہتے ہیں پھر بھی اس میں کہیں کوئی بوجھل پن نظر نہیں آتا۔ان کے یہاں خیالات کو پیش کرنے کا کبھی نہ تھکنے یا تھکانے والا ایسا انداز ملتا ہے جو سیدھے دل میں اتر جاتا ہے،۔ فطرت کو انھوں نے کھلے دل سے دیکھا ہے ، سراہا ہے اور اسے لطف اٹھایا ہے۔ قدرتی مناظر کو جس طرح وہ بیان کرتے ہیں اسے قاری رومان کی دنیا میں کھو جاتا ہے ۔مزیدوہ اپنی نگارشات کو نئی اور انوکھی تشبیہات ، رمز اورکنایات سے مرصع کرتے ہیں۔زبان و بیان کی نفاست ، فقروں کا صوتی اتار چڑھاو،ترکیبوں و بندشوں کا نرالا پن اور طنز و مزاح کا تیکھا پن ان کے اسلوب کی تخصیص ہے۔ ان کے اندازِبیان میں غضب کی روانی ہے ،جذبات کی شعلگی ہے اورفکر کی گہرائی ہے۔ ایک جانب وہ انسان کی فرشتہ صفتی کو اجاگرکرتے ہیں اور دوسری جانب اس کی بہیمیت کو ۔یہ انسانی کرب ہی ہے جو ان کی نگارشات کو جاودانی سے سرفراز کرتا ہے۔ 
ڈاکٹر شکیل الرحمٰن کرشن چندر کے اسلوب کا ذکر مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتے ہیں:’’کرشن چندر کے اسلوب کو کوئی ایک نام دینا آسان نہیں ہے اس لیے کہ ان کا اسلوب بنیادی طور پر احساساتی بھی ہے ۔ احساسات کی تصویروںسے اسلوب میں کشش پیدا ہوتی ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایسا تصویری اسلوب ہے جو بنیادی طور پر حسیاتی ہے۔ کرشن چندر بڑے حساس(sensitive) ہیں۔ لفظوں اور جملوں میں اپنی حسّی کیفیتوں کو نمایاں کرتے ہیں ۔ ان کے اسلوب کی رومانیت پھیلی ہوئی ہے اکثر محسوس ہوتا ہے جیسے وہ پوری زندگی کو ایک ساتھ گرفت میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ پوری زندگی موضوع بنی نظر آتی ہے۔ سماجی چہرہ ان کے اسلوب میں طرح طرح سے اجاگر ہوتا ہے۔ ان کا اسلوب وقت اور ماحول  سے آزاد نہیں ہے کہ ہم اسے عام تخیّلی اسلوب کہہ کر نظر انداز کردیں۔۳۳؎  بقول کنہیا لال کپور ’ وہ اپنے خوبصورت اندازِ بیان کے خود ہی موجد اور خود ہی خاتم تھے۔‘‘۳۴؎
بلونت سنگھ کے ایک سوال کہ’’ آپ نے کہانی کی فارم (Form)پر کافی دھیان دیا ہے ۔ کیا آپ اس سلسلے میں تجربے کیا کرتے ہیں یا آپ سمجھتے ہیں کہ بعض موضوع ایک خاص فارم میں ہی اجاگر ہو سکتے ہیں؟‘‘ کے جواب میں کرشن چندر فرماتے ہیںکہ’’ اس پر کچھ کہنا مشکل ہے ۔ کیونکہ یہ سوال Mental Process  سے تعلق رکھتا ہے ۔ عام طور پر میں یہی سمجھتا ہوں کہ موضوع ہی غیر شعوری طور پر اپنا فارم ساتھ لے کر آتا ہے لیکن کبھی کبھی میں نے کسی کہانی کو محض ایک ’فنی شعور ‘ کی بنا پر شروع کیا لیکن جب وہ کہانی پوری ہوئی تو یوں محسوس ہوا کہ اس موضوع کا بہترین اظہار یہی ہوسکتا تھا۔ در حقیقت موضوع اور فن ایک دوسرے سے یوں ملتے ہیں کہ فن کار کا نئے سے نیا تجربہ بھی ان دونوں میں مل کر اس طرح ان کا ایک حصہ بن جاتا ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے بھی آغاز اور اختتام کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ کم از کم میرے ساتھ تو ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘ ۳۵؎  بقول اقبال مجید ’’ ہمارے فکشن کے ادب میں کرشن چندر نے جس چابکدستی سے فنتاسیFantasy) (کا استعمال کیا ہے اور اس کے دلچسپ اور حیرت زا گلشن کھلائے ہیں یہ ان کے فن کا کمال رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ Farce  کے رنگ سے کرشن کو خاص لگاؤ تھا جس کا لطف قارئین نے کہیں کہیں ’ایک گدھے کی سرگذشت ‘ وغیرہ میں اٹھایا ہوگا۔‘‘۳۶؎
طنزو مزاح کے میدان میں کرشن چندر نے ایک نئی جہت کا تعین کیا ۔ انھوں نے اس نشتر سے عملی جراہی کا کام لیا۔کرشن چندر نے طنزیہ مضامین لکھے، افسانے لکھے ، انشائیے لکھے اور ناولوں میں بھی طنز کے وار کیے۔ان کی تصنیف ’ایک گدھے کی سرگذشت ‘ نے نہ صرف ادبی حلقوں میںبلکہ سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی تلاطم مچادیا۔ ہندوستان کے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے ،جو اس کتاب میں ہدف طنز بن چکے تھے، کئی بار اپنی آزردگی و خفگی کا اظہار کیا ۔ ابتدا میں کرشن چندر کے طنز میں جو جذباتی ابال، کچا پن اور غیر سنجیدگی نظر آتی ہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی گئی اور اس کی جگہ پختگی ،سنجیدگی اور غرض و غایت نے لے لی۔بقول جیلانی بانو،’’اس طنزیہ انداز میں ان کے فکری اور نظریاتی نقطئہ نظر کو بڑا دخل ہے۔ وہ معاشرے کے کھوکھلے پن اور مصنوعی اقدار کے شکنجے میں جکڑے ہوئے اوپری طبقے کا مذاق اُڑانا کبھی نہیں بھولتے۔۳۷؎  یہ محض اتفاق ہے کہ ان کا پہلا مضمون طنزیہ تھا اور آخری مضمون بھی طنزیہ ہی تھا۔
  جہاں تک کرشن چندر کی زبان و بیان کا تعلق ہے اس بارے میں مولاناصلاح الدین کی رائے یہاں پر نقل کی جاتی ہے: ’’ کرشن چندر اس مفہوم میں ’اہل زبان ‘ نہیں ہیں جس مفہوم میں دہلی اور لکھنٔو اور ان کے آس پاس رہنے والے’ اہل زبان‘ کہلاتے ہیں ۔ ورنہ یوں تواردو زبان پر ہم اہل پنجاب کا بھی غالباً ویسا ہی حق ہے جیسا کہ کسی اور خطے کے رہنے والوں کا۔ہاں تو اس معنی میں ’اہل زبان‘ نہ ہونے کے باوجود کرشن چندر کا انداز تحریر ایسا شگفتہ ، بے ساختہ اور دل آویز ہے کہ اس پر ’زبان والے‘ بھی رشک کھائیں تو تعجب کی بات نہ ہوگی۔ ممکن ہے کہ ان کے ہاں محاورے کا چٹخارہ اور روزمرہ کا کراراپن نہ ملے ۔ لیکن بیان کے بہت سے ایسے کرشمے اور تحریر کے بہت اعجاز ان کے ہاں نظر آتے ہیں ۔ جن میں سے ہر ایک بجائے خود الفاظ کے حسن بندشوں کی نزاکت اور مطالب کی گہرائی کے لحاظ سے ایک شاہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ بعض دفعہ وہ ایک سیدھی سی بات میں مطالب کا ایک جہاں بسا دیتے ہیں۔‘‘ ۳۸؎
    کرشن چندر کے زمانے میں اردو کا رسم الخط بدلنے کی کوششیں کی گئیںجن میں رام لعل سمیت کئی اردو قلم کار پیش پیش تھے مگر کرشن چندر کا موقف بڑا صاف اور شفاف تھا۔ وہ رام لعل اور دوسرے ایسے اردو ادیبوں ، جو رسم الخط کو بدلنے کے حق میں تھے، اردو کے مخالف گردانتے تھے۔ ایک انٹرویو میں جلیل بازید پوری سے انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ’’ ہر زبان کا رسم الخط اس زبان کی شخصیت کی اہم خصوصیت ہوتا ہے اور اس کا تحفظ بھی کرتا ہے ۔ اس لیے ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اردو زبان اپنے رسم الخط کے ساتھ پڑھی جائے اور کہی جائے۔ اس کو مٹانا غیر جمہوری فعل ہوگا۔ ‘‘ ۳۹؎
افسانہ کے تعلق سے عام رائے یہی ہے کہ پریم چند کے بعد کرشن چندر مقبولیت کی دوڑ میں سر فہرست رہے اور باقی افسانہ نگاروں کے مقابلے میں افسانے پر ان کی پکڑ اور گرفت بہت مضبوط رہی۔ ایسی ہمہ جہت شہرت اردو کے کسی دوسرے افسانہ نگار کے نصیب میں نہیں آئی۔ بقول اعجاز صدیقی’’اس کے افسانوی ادب نے سکّہ ٔ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔کرشن چندر کے فن اور اس کے اسلوب ِ نگارش کا جتنا اتباع ہوا، کسی دوسرے افسانہ نگار کا نہیں ہوا۔کرشن چندر نے اپنے فکر و فن کا نئے افسانے پر گہرا اثر ڈالا۔‘‘۴۰؎  سماجی اور سیاسی معاملات میں ان کے افسانے اس دور کی تاریخ کا کام کرتے ہیں۔ان کے افسانوں کی مقبولیت کا راز عوام کی زندگی سے براہ راست جڑ جانا، پسماندہ لوگوںکی خوشیوں اور غموں کی عکاسی کرنا اور ان کی ناکامیوں میں روشنی کے اجالے کرناہے۔ اس پر ان کی شاعرانہ نثر، تخیّل کی پرواز، افسانے کا لچکیلا پن، رنگین تشبیہات اور زبان پر مکمل گرفت سونے پر سہاگا کا کام کرتی رہی۔ اس حوالے سے خود کرشن چندر کا خیال ہے کہ ’ ’میری کامیابی کا راز غالباً اس بات میں ہے کہ میں اپنی تخلیقات میں آج کے مسائل پر قلم اٹھاتا ہوں۔ یہ مسائل کیوں اور کیسے پیدا ہوئے ہیں اور ان کا مداوا کیا ہے ؟ یہ میں ایسے ڈھنگ میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں جو عام فہم ہو۔ ۴۱؎   ا ن کے افسانے ہندستان کی چودہ زبانوں ،روسی ، چینی ، جاپانی، اطالوی، انگریزی وغیرہ میں ترجمہ ہوئے۔ ترقی پسند ادیب جب بھی کبھی روس کا دورہ کرتے تو کرشن چندر کی مقبولیت کو دیکھ کر حیران ہوجاتے مگر انھیں یہ قلق رہا کہ کرشن چندر کو ساہتیہ اکاڈمی یا گیان پیٹھ ایوارڈ سے نہیں نوازا گیا۔۶۶ ۱۹ء میں البتہ سوویت روس کی جانب سے نہرو ایوارڈ مل گیااور۱۹۶۹ء میں حکومت ہند نے پدم بھوشن سے نوازا۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کرشن چندر کے رشحات قلم میں دھیرے دھیرے تنزل دیکھنے کو ملا جو ان کے قارئین کے گماں میں بھی نہ تھا۔ ان کی کہانیاں رومانی حقیقت نگاری کے مدار سے نکل کر نظریاتی مدار میں گھومتی رہیں جہاں صرف نعرے بازی تھی، کمیونسٹ منشور کی حمایت تھی اور پروپیگنڈہ تھا۔اس رویے نے ان کی قد و قامت کو بھی بہت نقصان پہنچایا۔ اس اتار چڑھاؤ کا تذکرہ وقار عظیم ذیلی اقتباس میں رقم کرتے ہیں: ’’کرشن چندر کی فنی زندگی کی داستان بڑی ولولہ انگیز ہے اور عبرت خیز بھی۔ اس نے معمولی افسانہ نگار کو آہستہ آہستہ کیسے اس فن کا امام بنایا یہ چیز دوسروں کے لیے بڑی حوصلہ افزا ہے اور کس طرح یہ امامت کا منصب کھو کربڑی تیزی سے سب کچھ گنوا بیٹھے ، بے حد عبرت انگیز ہے۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ کرشن چندر کے ساتھ یہی ستم ہوا ہے جسے فطرت نے ایک رومانی مفکر بناکر اس فکر اور انداز فکر کے سارے حسین اور لطیف وسائل کا مالک بنایا تھا زمانہ کے ہاتھوں ایک سیاسی اصلاح پسند بن گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فن کے وہ سارے حربے نازک اور انداز بیان کی شگفتگی مسلسل اور رنگینی تخیّل کی شعریت ، تشبیہوں اور استعاروں کی جدّت ، طنز کی چبھن اور مزاح کا نمک یہ سب چیزیں اصلاح کے اس جذبہ کے نیچے دب کر رہ گئیں۔ ۴۲؎  اسی حوالے سے پروفیسر سلیمان اطہر جاویداپنے مضمون ’کرشن چندر ۔شخصیت اور فن‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’ کرشن چندر کے فن کو ان کے ہاں یہاں وہاں پروپگنڈہ بازی ، نعرہ بازی ، اور سطحیت نے بڑا نقصان پہنچایا۔ یہ کرشن چندر ہی کی نہیں بیشتر ترقی پسند قلم کاروں کی خامی ہے کہ انھوں نے پارٹی لائن اور پارٹی کی ہدایات پر اپنے فن کے اونچے امکانات کو قربان کر دیا۔ ‘‘ ۴۳ ؎  مرزا حامد بیگ کا ماننا ہے کہ ’’ کرشن چندر جذبات کی sublime صورتوں پر تو قادر ہے لیکن اس کا نثر ی اسلوب پھیلاو کی طرف مائل ہے جس کے سبب بے جا طوالت کا احساس بھی ہوتا ہے۔ کرشن چندر کے حوالے سے اس اسلوبیاتی روایت کا اثر قبول کرنے والوں میں رواں پس منظر کے نو ترقی پسند افسانہ نگاروں کی بڑی تعداد ہے۔ ۴۴؎  رام لعل نے بھی کرشن چندر کی کمرشیل رائٹنگ پر سخت اعتراضات کیے تھے۔انھوں نے ایک بار کرشن چندر کو یوں مخاطب کیا تھا : ’’آپ لوگوں کا رشتہ ادب اور عوام سے کم رہ گیا ہے اور ڈرائنگ روموں سے زیادہ ۔میں آپ سے الگ ہی رہ کر زندہ رہ سکتا ہوں ۔‘‘ ۴۵؎ آغا رشید مرزا جب بھی مخالفین کے ان اعتراضات کی طرف اشارہ کرتے کہ وہ کمرشیل رائٹر ہیں اور ان کا فن انحطاط اور زوال پذیر ہے تو کرشن چندر بولتے کہ’’ میں کسی کے اعتراض کا جواب نہیں دیتا ، اس کے جواب میں ایک افسانہ لکھ دیتا ہوں اور یہ ہی میرا جواب ہوتا ہے۔‘‘۴۶؎  مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ خود کرشن چندر رفتہ رفتہ ترقی پسند تحریک سے بد ظن ہوگئے تھے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے رام لعل کے سامنے اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ بقول رام لعل: ’’ترقی پسند مصنفین کے بارے میں انھوں نے کہا ۔ اب اسے نہیں چلایا جا سکتا ہے ۔ اس کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔‘‘ ۴۷؎  
سچ تو یہ ہے کہ کرشن چندر ایک یُگ پُرش تھے جنھوں نے اردو فکشن کو مقبول عام و خاص کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ انھوں نے اردو افسانے کے لیے نئی راہیں نکالیں ، اسے نئی جہتوں سے آشنا کیا اور جس علامتی اندازِتحریر اور زمان و مکاں سے آزادی کی باتیں آج جدیدیے کرتے ہیں ان کی بنیاد ڈالی ۔ادب میںجب تک اردو افسانے کا نام رہے گا ، کرشن چندر کو یاد کیا جائے گا۔

٭٭٭٭٭
     حوالہ جات:
(۱)سردار جعفری، بحوالہ’ مختصر افسانے کا ارتقا‘ ،ڈاکٹر جمال آرا نظامی [پریم چند تا حال] ؛ نورسی پبلی کیشنز، کراچی،۱۹۸۵ء
(۲)خواجہ احمد عباس، ’زندگی کی چند جھلکیاں [ نیند کیوں رات بھر نہیں آتی]‘؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص ۸۵
(۳)کنہیا لال کپور ، ’کرشن چندر کی یاد میں ۔۔۔۔‘؛عالمی اردو ادب( کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ئ،ص۱۰۸
(۴)آل احمد سرور، بحوالہ’ مختصر افسانے کا ارتقا‘ ، ڈاکٹر جمال آرا نظامی [پریم چند تا حال] ؛ نورسی پبلی کیشنز، کراچی،۱۹۸۵ء
(۵)وقار عظیم ، نیا افسانہ
ٍ (۶) قرۃ العین حیدر ، ’ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے؛‘عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص ۹۸
(۷) کرشن چندر ، ’خود نوشت‘، بحوالہ ماہنامہ عاکف کی محفل ،نئی دہلی ،دسمبر ۲۰۱۰ء
(۸)ممتاز شیریں ،’مختصر افسانے کا ارتقا ،‘ ڈاکٹر جمال آرا نظامی [پریم چند تا حال] ؛نورسی پبلی کیشنز، کراچی،۱۹۸۵ء
(۹)کرشن چندر ، ’کرشن چندر سے انٹرویو‘، بلونت سنگھ؛ عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص ۱۳۲
(۱۰)وقار عظیم ، نیا افسانہ
(۱۱)قرۃ العین حیدر ، ’ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے؛‘عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۹۹
(۱۲)انتظار حسین، ’مختصر افسانے کا ارتقا ،‘ ڈاکٹر جمال آرا نظامی [پریم چند تا حال] ؛نورسی پبلی کیشنز، کراچی،۱۹۸۵ء
(۱۳)پروفیسر علی احمد فاطمی،’رومان ، حقیقت پسندی اور کرشن چندر‘؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۱۶۰
(۱۴) اقبال مجید ، ’کرشن ایک بشر نواز قلم کار‘ ؛
(۱۵) حسن عسکری ، ’کرشن چندر‘،تخلیقی ادب۵،اکتوبر ۱۹۸۵، ص۳۸ 
(۱۶) کرشن چندر ، ’انٹرویو ، نریش چندر
(۱۷)کرشن چندر، ’جدید اردو افسانہ (ہئیت و اسلوب کا تجزیہ)، خورشید احمد،ص۲۶
(۱۸) اعجاز صدیقی، ’کرشن چندر -شخصی و فنی نقوش؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۱۴۰
(۱۹)ساحر لدھیانوی، کرشن چندر؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۹۵
(۲۰)احتشام حسین ،ڈاکٹر جمال آرا نظامی [پریم چند تا حال] ؛نورسی پبلی کیشنز، کراچی،۱۹۸۵ء
(۲۱)خواجہ عبدالغفور، ’نہ کوئی خندہ رہا نہ کوئی خندہ نواز‘؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۹۰
(۲۲)کرشن چندر ، ’کرشن چندر سے انٹرویو، بلونت سنگھ؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۱۳۰
(۲۳) ساحر لدھیانوی ، ’کرشن چندر ‘ ؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۹۵
(۲۴) مولانا صلاح الدین، کرشن چندر کا فن ؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۱۵۸
(۲۵)کرشن چندر ، ’کرشن چندر سے ایک پُر کیف ملاقات‘،جلیل بازید پوری؛ ماہنامہ سب رس ، حیدرآباد، جنوری ۲۰۰۳،ص۳۰
(۲۶)خواجہ احمد عباس، ’کرشن چندر-جو ہر بات میں مجھ سے سبقت لے گیا، موت میں بھی‘؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۳۳
(۲۷)پروفیسر قدوس جاوید،’کرشن چندر : خط منحنی کا افسانہ نگار‘؛ماہنامہ ایوان اردو،مئی ۲۰۰۸ء
(۲۸)کرشن چندر ، ’کرشن چندر سے انٹرویو‘، بلونت سنگھ؛ عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص ۱۳۳
(۲۹)گوپی چند نارنگ ، ’تیرے قدموں کی گل کاری بیاباں سے چمن تک ہے‘؛ عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص ۱۱۹
(۳۰) ریوتی سرن شرما،’یہ جو کرشن چندر تھا‘؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص ۱۵۲-۱۵۱
(۳۱)عزیز احمد ، بحوالہ اعجاز صدیقی، ’کرشن چندر -شخصی و فنی نقوش؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۱۴۲
(۳۲)کرشن چندر، ’دیباچہ‘ ، گھونگھٹ میں گوری جلے ؛ ساقی بُک ڈپو ، ۱۹۵۳ء 
(۳۳)ڈاکٹر شکیل الرحمٰن ، ’کرشن چندر کی ایک طویل ’رس کہانی‘ -میری یادوں کے چنار‘؛جدید فکر و فن شملہ، جلد ۱۵، شمارہ ۵۱، اپریل -جون ۲۰۰۲ئ،ص۸ 
(۳۴) کنہیا لال کپور،’ رفتید وَلے نہ از دلِ ما‘؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۱۱۲
(۳۵) کرشن چندر، ’کرشن چندر سے انٹرویو‘، بلونت سنگھ؛ عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص ۱۳۶-۱۳۵
(۳۶) اقبال مجید، ’کرشن : ایک بشر نواز قلم کار‘؛ عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۱۴۵
(۳۷)جیلانی بانو ، ’ وہ ہجر کی رات کا ستارہ ‘،عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص ۷۹
(۳۸)مولانا صلاح الدین، کرشن چندر کا فن ؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۱۵۹-۱۵۸
(۳۹)کرشن چندر ، ’کرشن چندر سے ایک پُر کیف ملاقات‘،جلیل بازید پوری؛ ماہنامہ سب رس ، حیدرآباد، جنوری ۲۰۰۳،ص۳۲
(۴۰) اعجاز صدیقی، ’کرشن چندر -شخصی و فنی نقوش؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص۱۴۲
(۴۱) کرشن چندر ، ’کرشن چندر سے انٹرویو‘، بلونت سنگھ؛ عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ص ۱۲۹
(۴۲) وقار عظیم ، نیا افسانہ
(۴۳) پروفیسر سلیمان اطہر جاوید، کرشن چندر -شخصیت اور فن‘؛ ماہنامہ سب رس ، حیدرآباد ، اکتوبر ۲۰۰۰ء
(۴۴)مرزا حامد بیگ ،’افسانے کا منظر نامہ ‘؛ اردو رائٹرس گلڈ الہ آباد، ۱۹۸۳ء
(۴۵) رام لعل، ’کرشن چندر تیرے رُوپ انیک‘؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ، ص۴۲
(۴۶) آغا رشید مرزا، ’ ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن تیرا‘، عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ، ص ۷۴
(۴۷) رام لعل، ’کرشن چندر تیرے رُوپ انیک‘؛عالمی اردو ادب(کرشن چندر نمبر) ،نومبر ۲۰۱۴ء ، ص۴۵

یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟