رشید حسن خان :بحیثیت مقدمہ نگار: ابراہیم افسر ، میرٹھ، انڈیا
  اُردو ادب میں مقدمہ نگاری کی روایت اورتاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔مولانا الطاف حسین حالیؔ نے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘1893ء میں لکھ کربہ قاعدہ اس صنف کا آغاز کیا۔حالی ؔکے بعد اور لوگوں نے بھی مقدمہ نگاری کے فن میں طنع آزمائی کی ۔بابائے اُردومولوی عبدالحق نے اس میدان میں خوب سے خوب تر کام کیا۔انھوں نے قدیم اُردو کے نسخوں کو بند صندوقیچیوں سے نکال کر منظر عام پر لائے۔ان قدیم نسخوں پر انھوں نے عالمانہ اور ناقدانہ مقدمے تحریر کیے۔اس لحاظ سے انھیں’’ اُردو کا سب سے بڑا مقدمہ باز‘‘ کا خطاب بھی ملا۔ان کے مقدمات کو ڈاکٹر عبادت بریلوی نے اُردو مرکز لاہور سے ’’مقدماتِ عبدالحق‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ان کے بعد سیّد مسعود حسین رضوی ادیب نے اس میدان میں شہرت حاصل کی۔بنیادی طور پر یہ محقق ہیں۔لیکن انھوں نے تقریباً34کتابوں پر مقدمے تحریر کیے۔اُردو تحقیق کے بنیاد گزار قاضی عبدالودود نے بھی مقدمہ اور حواشی لکھ کر کئی کتابیں تدوین کیں۔اس کڑی میں مالک رام کا نام بھی سر فہرست ہے۔انھوں نے تقریباً24کتابوں پر مقدمے تحریر کیے۔مقدماتی ادب کی روایت کو دورِ حاضر میں جن محققین اور مدونین نے آگے بڑھایا ان میں مسعود حسین خاں ، امتیاز علی خاں عرشی ،سردار جعفری،محمود الٰہی ،حنیف نقوی،شمس الر حمن فاروقی اور رشید حسن خاں کے نام سر فہرست ہیں۔میں اس مضمون میں مشہور و معروف محقق اور تدوین نگاررشید حسن خاں کی مقدمہ نگاری پر مفصل گفتگو اور تنقیدی بحث کرنے کی سعی کروں گا۔
                 رشید حسن خاں کو اُردو دُنیا میں بہ طور محقّق و مدوّن کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔رشید حسن خاں نے اُردو تحقیق و تدوین کو نئی سمت و جہت عطا کی۔ ان کی تدوینی کاویشیں ہمارے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئیں۔تحقیق ان کا اوڈھنا اور بچھونا تھی۔ان کی تمام عمر تحقیقی مخطوطوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے گزری۔ان کے تحقیقی و تدوینی کارناموں کو اُردو ادب کو مایہ ناز ادیبوں ،فن کاروں اور نقّادوں نے قدر کی نگاہ سے دیکھا۔رشید حسن خاں اگر کسی فن پارے کی تدوین یا تحقیق کا ارادہ کرتے تو اس کی اطلاع وہ اپنے ادب نوازدوستوں کو بہ ذریعہ خط ضرور دیتے تھے۔ان کی اس ادبی اور شعوری عادت نے اُردو ادب کو مالا مال کر دیا ہے۔رشید حسن خاں نے تحقیق کے آداب قاضی عبدالودود سے
 سیکھے۔قاضی صاحب کو انھوں نے تحقیق کا معلمِ ثانی قرار دیا۔تدوین میں انھوں نے امتیاز علی خاں عرشی کی پیروی کی۔تنقید میں نیاز فتح پوری کے قائل تھے،خاص کر مشرقی شعریات پر ان کی نگاہ طائرانہ تھی۔عصرِ حاضر کے محققین میں رشید حسن خاں کا شمار سرِ فہرست ہوتا ہے۔مشہور فکشن نگار انتظار حسین نے رشید حسن خاں کو ’’تعمیری محقق‘‘قرار دیا۔تدوین میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔اس لیے انھیں گیان چند جین نے’’خدائے تدوین‘‘شان الحق حقی نے’’اُردو میں اصول تدوین کا مجدّد،جمیل جالبی کے مطابق رشید حسن خاں کی تدوینات’’آنے والی نسلوں کے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں‘‘،بہ قول نیّر مسعود’’وہ کلاسیکل متون کے بہترین تدوین کرنے والوں میں سے تھے اور یہی متن ان کا نام زندہ رکھیں گے‘‘،پروفیسر رفیع الدین کے مطانق’’میرا خیال ہے کہ تحقیق و تدوین کے کام آئندہ بھی ہوں گے،مگر اس میعارکی توقع کم ہی کی جا سکتی ہے،اس اعتبار سے ممکن ہے ،خاں صاحب ہی ’’خاتتم المُدوّنین‘‘ثابت ہوں۔‘‘ان کی تحریروں میں صاف گوئی اورزود و فہم کی خصوصیات نمایاں ہیں۔ان کے اسلوب کی اہمیت ،علمِ اکتسابی کی گہرائی اور گیرائی،قطیعت اور سائنٹی فک نقطۂ نظر کی بنا پر ڈاکٹر اسلم پرویز نے ان کی زبان کو ’’دستاویزی زبان‘‘کہا ہے۔
          رشید حسن خاں نے دو درجن سے زائد کتابوں کی ترتیب و تدوین کی۔جن پر مقدمہ ،تعارف،پیش لفظ اور ابتدائیہ کی شکل میں اپنے خیالات و نظریات کا اظہار کیا۔ان مقدمات کے علاوہ کئی کتابوں میں ضمیمے بھی شامل کیے۔ساتھ ہی مشکل الفاظ کی فرہنگ متن کے آخر میں شامل کی گئی۔رشید حسن خاں نے جن کتابوں پر مقدّمات ،ضمیمے تعارف ،پیش لفظ اور ابتدائیہ تحریر کیے اُ ن کی فہرست اور کُل صفحات کی تعداد درج ذیل ہے۔
1۔   فسانۂ عجائب،مقدمہ 99؍صفحات،ضمیمے7،194؍صفحات،فرہنگ162؍صفحات
2۔   باغ و بہار،مقدّمہ 124؍صفحات،ضمیمے3،337؍صفحات،فرہنگ112؍صفحات
3۔   گلزارِ نسیم،مقدمہ141؍صفحات،ضمیمے2،صفحات314،فرہنگ150؍صفحات
4۔   مثنویاتِ شوق،مقدمہ156؍صفحات،ضمیمے4،200؍صفحات،فرہنگ138؍صفحات
5۔   مثنویاتِ سحرالبان،مقدمہ131؍صفحات،ضمیمے5،294؍صفحات،فرہنگ191؍صفحات
6۔   مصتلحاتِ ٹھگی،مقدمہ 30؍صفحات
7۔   زٹل نامہ(کلیّاتِ جعفرؔ زٹلّی)مقدمہ 40؍صفحات
8۔   گذشتہ لکھنؤ،مقدمہ 26؍صفحات
9۔    انتخابِ ناسخؔ،تعارف126؍صفحات
10۔  انتخابِ سودا،مقدمہ37؍صفھات
11۔دیوانِ حالیؔ،مقدمہ21؍صفحات
12۔دہلی کی آخری شمع(1261ھ میں دہلی کا ایک مشاعرہ)پیش لفظ7؍صفحات
13۔انتخابِ مراثی انیسؔ و دبیرؔ،تعارف4؍ صفحات
14۔انتخابِ مضامین شبلی،تعارف12؍ صفحات
15۔حیاتِ سعدی،تعارف4؍صفحات
16۔موازنہ انیسؔ و دبیرؔ،تعارف4؍صفحات
17۔انتخابِ نظیر ؔ اکبرآبادی،تعارف4؍صفحات
18۔انتخابِ نظیرؔ اکبرآبادی(ہندی)پیش لفظ4؍ صفحات
19۔دیوانِ دردؔ،تعارف8؍صفحات(ساتھ ہی دیوانِ دردؔمرتّب ڈاکٹرنسیم احمد کے لیے دیباچہ،4؍صفحات کا لکھا)
20۔ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی ،کچھ میری کچھ اُن کی زبانی،مقدمہ12؍صفحات،فرہنگ10؍صفحات
21۔مقدمہ شعر و شاعری،تعارف 4؍ صفحات
22۔کلاسکی ادب کی فرہنگ،ابتدائیہ8؍صفحات
23۔اُردو املا،بتدائیہ34؍صفحات
24۔غالب اور انقالب ستاون،پیش لفظ،4؍صفحات
25۔ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ،ابتدائیہ،2؍صفحات
26۔زبان و قوعد،حرفِ آغاز2؍ صفحات
27۔ تدوین تحقیق روایتِ،حرفِ آغاز4؍صفحات
28۔املاے غالبؔ،ابتدائیہ،20؍صفحات
29۔اُردو کیسے لکھیں،پیش لفظ ،3؍صفحات
30۔انشاے غالب،عرضِ مرتّب،21؍صفحات
31۔عبارت کیسے لکھیں،پیش لفظ،4؍صفحات
32۔انشا اور تلفظ،حرفِ آغاز1؍صفحہ
         ان کتابوں کے مقدمات،حرفِ آغاز،تعارف،پیش لفظ،ابتدائیہ اور ضمیموں کے صفحات کی کُل تعداد3243ہے۔اگر ان کو کتابی شکل دے دی جائے تو ضخامت کافی زیادہ ہو جائے گی۔رشید حسن خاں نے تمام عمر تحقیق اور تدوین کے لیے وقف کر دی تھی۔دہلی یونی ورسٹی میں ملازمت سے لے کر اپنے آبائی وطن شاہ جہاں پور میں بھی ان کا روزانہ کا معمول یہی رہا کہ قدیم اُردو نسخوں کو منظر ِ عام پر لایا جائے ۔کلاسیکل ادب کی اتنی کتابوں کی ترتیب و تدوین دینے کے بعد بھی ان کا تحقیقی و تدوینی مشن جاری و ساری رہا۔رشید حسن خاں نے تدوین کے جو اصول بنائے ان پر وہ اصولاً جمے رہے۔اصل مواد کو دیکھ لینے اور اس کی ورق گردانی کرنے کے بعد ہی وہ اپنا کام شروع کرتے تھے۔رشید حسن خاں نے’’فسانۂ عجائب‘‘،’’باغ و بہار‘‘،’’مثنوی گلزارِ نسیم‘‘،’’مثنوی سحر البیان‘‘،’’مثنویاتِ شوق‘‘،’’زٹل نامہ‘‘،’’مصطلحاتِ ٹگھی‘‘اور ’’انتخابِ ناسخ‘‘ کی جس طرسے حقائق کی بازیافت کے ساتھ ان کے متن کی تدوین منشاء مصنف کے مطابق کی ،ساتھ ہی ان کلاسیکل متون پر عالمانہ ،محققانہ ،مربوط و مسبوط مقدمات رقم کیے اُردو دُنیا میں ایسی مثال ملنا  نایاب ہی نہیں کمیاب ہے۔اب میں متذکرہ تدوینی نسخوں پر تحریر کیے گئے مقدمات کا تنقیدی جائزہ پیش کروں گا۔

فسانئہ عجائب

        فسانئہ عجائب اُردو کی پہلی طبع زاس داستان ہے۔جسے رجب علی بیگ سرورؔ نے کان پور میں 1240ھ میں لکھا۔اس داستان کی پذیرائی اتنی ہوئی کہ مصنف کی زندگی میں ہی اسے کئی بار شائع کیا گیا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک مقبول داستان تھی اور ساتھ ہی یہ لکھنئو کی ثقافت و تہذیب کی نمائندگی بھی کرتی تھی۔فسانئہ عجائب کی تاریخی اور ادبی حیثیت سب پرآشکار ہے۔اس کی شہرت کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس میں مختصر داستانوں کو خوب صورت پیراے اور تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔رشید حسن خاں نے سات ،آٹھ سال کی محنت کے بعد اس کتاب کی تدوین کی۔تصحیح متن کے علاوہ انھوں نے اس کتاب پر 99؍صفحات پر مشتمل طویل عالمانہ مقدمہ تحریر کیا۔رشید حسن خاں نے دہلی اور لکھنئو کی ادبی ،ثقافتی ور تہذیبی رسّا کشی کو اپنے مقدمے میں خاص جگہ دی اور یہ بتایاکہ امام بخش ناسخؔکی شاعری اور  ان کی زبان لکھنئو کی نمائندگی کرتی ہے۔یہ اس بات کی پختہ دلیل تھی کہ اب لکھنئو ،دہلی سے زبان و ادب میں کم تر نہیں بل کہ اس کے ہم پلّہ ہے۔کیوں کہ لکھنئوکے نوّابوں نے خود مختار بادشاہت کا اعلان کر،اس بات کی تصدیق کی کہ اب لکھنؤدہلی سے سماجی،سیاسی اور ادبی مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔
       ان  تمام باتوں کے علاوہ رژید حسن خاں نے فسانۂ عجائب کے مقدمے میں اس کے متن سے متعلق بحث کی ہے۔در اصل اس کتاب کے متن میں رجب علی بیگ سرورؔکے سامنے ہی تحریفات ہو چکی تھی۔خود سرورؔ نے لوگوں کی فرمائش پر ،کتاب پر نظرِ ثانی کی اور متن میں بھی معمولی ردّ و بدل کیا تھا۔بعد میں سرورؔ نے اس کتاب کے شائع کرنے کے جملہ حقوق ’’مطبع نول کشور کان پور‘‘ کو فروخت کر دیے تھے۔یہیں سے اس کتاب کے متون میں ترمیمات اور اختلافات شروع ہوئے۔اس بارے میں رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں لکھا      
               ’’بعد کی اکثر نول کشور اشاعتوں کا احوال یہ ہے کہ ان میں اختلافات ِ متن پیدا ہو گئے ہیںاور تحریفات بھی ملتی ہیں۔ میں اس مقام پر ایسی صرف ایک مثال پیش کروں گا جس سے صورتِ حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔عہدِ مصنف کے جس قدر مطبوعہ نسخے میری نظر سے گزرے ہیں ان میں ’’بیانِ لکھنؤ ‘‘کے آغاز میں مرزا رجب علی بیگ تخلص سرو’رؔمتوطّن خطّہ ٔ بے نظیر دل پذیر‘ملتا ہے۔اس نول کشوری اشاعت اوّل (اور اشاعت ثانی)میں بھی یہ ٹکڑا اسی طرح ہے۔لیکن 1882ء کی ایک نول کشور اشاعت میرے سامنے ہے ۔اس میں فقرہ یوں چھپا ہو ا ہے،رجب علی بیگ تخلص سرورؔ متوطّن حال خطّہ بے نذیر دل پذیر یعنی اس میں لفظ حال کا اضافہ ہے۔ظاہر ہے کہ یہ کھلی ہوئی تحریف ہے اور بہ ظاہر مطبع کے کسی کار کن کی کار گزاری ہے۔‘‘(مقدمہ فسانۂ عجائب،صفحہ 27)
       اس کے بعد رشید حسن خاں نے اُن کتابوں کا ذکر کیا ہے جن میں فسانۂ عجائب کو موضوعِ بحث بنایا گیا ۔ان کتابوںمیں گیان چند جین کی ’’اُردو کی نثری داستانیں‘‘اور پروفیسر نیّر مسعود کی’’رجب علی بیگ سرورؔ‘‘قابلِ ذکر ہیں۔رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں رجب علی بیگ سرورؔ سے متعلق کئی عنوانات قائم کیے ہیں۔جن کی ترتیب اس طرح ہے۔(1)ولادت وطن،وفات اور مدفن(2)تعلیم اور مختلف فنون سے واقفیت(3)کتاب کا نام(4)وجہ تصنیف اور زمانۂ تصنیف(5)نوازش اور اصلاح(6)بیانِ لکھنؤ کا اختلاف(7)آسان کہنے کی فرمائش،میر امّن باغ و بہار(8)ضمنی داستانیں(9)بندر کی تقریر(10)زبان و بیان(11)قافیہ مکتوبی(12)خطّی نسخے(13)مطبوعہ نسخے(14)طریقِ کار(15)علامات(16)رموز و اوقاف(17)ضمیمے(18)باعثِ تاخیر
        رشید حسن خاں نے فسانۂ عجائب کے متن کی بنیاد’’ نسخہ ل‘‘مطبع افضل المطالعہ لکھنؤ 1280ھ کو بنایا۔رشید حسن کی تحقیق کے مطابق یہ نسخہ ’’مصنف کا نظرِ ثانی کیا ہوا آخری نسخہ‘‘ ہے اور اس نسخے کے آخر میں سرورؔ کی لکھی ہوئی نثر بھی ہے۔اس نسکے کو انھوں نے قاضی عبداودود کی وساطت سے ’’خدا بخش لائبریری پٹنہ‘‘سے حاصل کیا تھا۔جس میں انھوں نے اس بات کی صراحت کی کہ مولوی یعقوب انصاری کی فرمائش پر میں نے اس نسخے پر نظرِ ثانی کی ہے۔اس نسخے کے آخر میں مولوی عنایت حسین گوپا موی کا ایک قطعۂ تاریخ طبع ہے اور اس قطعے سے متعلق سرورؔ کی لکھی ہوئی نثر بھی ہے۔ان دونوں نایاب و نادر چیزوں کو رشید حسن خاں نے ضمیمہ میں شامل کر لیا ہے۔ان تمام امور پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے رشید حسن خاں رقم طراز ہیں۔
              ’’جیسا کہ لکھا جا چکا ہے نسخۂ ل میں اغلاطِ کتابت کم سے کم ہیں۔جو غلطیاں ہیں وہ بہت معمولی ہیں اور نہویت واضح۔ دوسرے نسخوں ،خاص کر نسخہ ف کی مدد سے (جس پر اصلاً ل کا متن مبنی ہے)ان کی تصحیح کر دی گئی ہے۔اس کتاب کے دوسرے مطبوعہ نسخوںکی طرح نسخۂ ل میں بھی پُرانے انداز کتابت کے اثر سے ہائے مخلوط و ملفوظ میں صورت کا امتیاز ملہوظ نہیں رکھا گیا ہے۔(اس زمانے میں بطور عموم ایسے امتیازات کو ملحوظ رکھا جاتا تھا)تشدید کا بھی التزام نہیں ملتا۔کہیں ہےاور کہیں نہیں۔(یہ بھی عام انداز تھا)پیرا گراف نام کی کوئی چیز نہیں۔پیش کو ظاہر کرنے کے لیے بعض الفاظ میں (اس زمانے کی روش کے مطابق)الف کے بعد واو لکھا گیا ہے۔جیسے اوس(اُس)اوستاد(اُستاد)۔آخیر لفظ میں واقع نون غنہ پر ہر جگہ نقطہ ملتا ہے اور اضافت کے زیر عموماًموجود نہیں ۔اس کتاب میں موجودہ روش کے مطابق ہائے ملفوظ و مخلوط میں کتابت کے امتیاز کوملحوظ رکھا گیا ہے۔آخری نون غنہ کو نقطے کے بغیر لکھا گیا ہے۔مشدد حروف پر تشدید پابندی کے ساتھ لگائی گئی ہے۔اضافت کے زیر ایتزاماً لگائے گئے ہیں۔یائے معروف و مجہول کی کتابت میں بھی تفریق
کو ملحوظ رکھی گیا ہے۔اعراب بالحروف کی پُرانی روش کے مطابق لکھے گئے واو کو نکال دیا گیا ہے اور اس کی جگہ الف
 پر پیش لگایا گیا ہے۔پیرا گراف بنائے گئے ہیں اور علامات نشانات ،اعراب و رموز ِ اوقاف کو شامل کیا گیا ہے۔ (جن کی تفصیل بعد میں آ جائے گی)اس زمانے کا ایک اندازِ کتابت یہ بھی تھا کہ جو لفظ ہاے مخلوط پر ختم ہوتے تھے(خواہ اس کی ہ کو دو چشمی صورت میں لکھا جاتا ،یا ہائے ملفوظ کی کہنی دار شکل میں لکھا جاتا )ان کے آخر میں (غالباًخوش نمائی کی غرض سے)ایک زائدہ بھی لکھی جاتی تھی۔جیسے ہاتھہ،ساتھہ،کچھہ،ایسے لفضوں کے آخر سےاس زائد ہ کو نکال دیا گیا ہے۔جیسے ہاتھ،ساتھ،کچھ،اسی طرح لفظوں کو ملا کر لکھنے کا رجحان بھی اسی زمانے میں بہت تھا اور یہی صورتِ حال ل میں بھی بہت سے مقامات پر نظر آتی ہے(جیسے کرنیلگا،اوسنے) ایسے مرکبات کوالگ الگ لکھا گیا ہے یعنی کرنے لگا،اس نے۔‘‘(مقدمہ فسانہ ٔ  عجائب،صفحہ103تا104)
       جب فسانۂ عجائب انجمن ترقی اُردو (ہند) کی مالی مدد سے 1990ء میں منظر ِ عام پر آئی تو اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔رشید حسن خاں کی تدوینی صلاحیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔اس تدوینی کاوش کی بنا پر گیان چند جین نے ’’خدائے تدوین ‘‘ کے لقب سے نوازا۔بہت سے ناقدوں نے اس کتاب پر اپنی مختلف آرا کا اظہار کیا۔رشید حسن خاں کی فسانۂ عجائب کی تدوینی صلاحتوں کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ بانو رقم طراز ہیں۔
     ’’فسانۂ عجائب کی تدوین میں ان کے ا نہماک کا اندازہ ان جعلی اڈیشنوں سے بھی ہوتا ہے جو رشید حسن خاں کی نظرسے گزرے۔گہرائی سے نظر ڈالنے کے بعد انھاں نے وثوق کے ساتھ اس کے جعلی ہونے کے ثبوت پیش کیے ۔یہی نہیں رشید حسن خاں فسانۂ عجائب سے متعلق ہر پہلو کو ذہن نشیں کرنا چاہتے تھے،اسی لیے انھوں نے اپنے زمانے میں         شائع اڈیشن کا بہ غور مطالعہ کیا تاکہ وہ کسی مثبت نتیجہ پر پہنچ سکے اور تحقیق کا حق ادا کر سکے۔‘‘(رسالہ نیا دور،لکھنؤ،صفحہ42،دسمبر 2007ئ)
        یہاں یہ بات قابل ِغور ہے کہ جب اس کتاب کو مکمل کر لیا گیا تو اس کی اشاعت کا مسئلہ در پیش تھا۔اسی دوران رشید حسن خاں کو پٹنہ کا سفر کرنا پڑا اور خدا بخش لائبریری میں 1280ھ کے ایک قدیم نسخے پر ان کی نظر پڑی۔کیوں کہ اس سے قبل یہ نسخہ نایاب تھااور یہ نسخہ خود رجب علی بیگ کا نظرِ ثانی کیا ہوا تھا۔رشید حسن خاں کو اپنی تمام کاوش رائیگاں نظت آنے لگی۔سہل پسندی کا مشورہ لوگوں نے انھیں دیا۔لیکن خدائے تدوین کو سہل پسندی قبول نہ تھی ۔کام کو دوبارہ سے شروع کیا گیا۔اختلافِ نسخہ کا ضمیمہ تیار کیا گیااور مقدمہ از سرِ نو لکھا گیا۔اس تاخیر سے انھیں یہ فائدہ بھی ہوا کہ ان کو نسخہ د اور نسخہ ل کشور1283ھ سے استفادے کا موقع مل گیا۔اس دوران ان کے ادبی دوستوں ڈاکٹر نیّر مسعود،ڈاکٹر عابد رضا بیدار،ڈاکٹر محمود الٰہی ،ڈاکٹر فضل الحق ،ریئس نعمانی،ڈاکٹر فیروز احمد،انور قمر،گیان چند جین ،ڈاکٹر حنیف نقوی ،ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی ،صباح الدین عمر،ڈاکٹر سلیمان اشرف،امیر حسن نورانی ،ڈاکٹر تنویر احمد علوی ،ڈاکٹر قمر ریئس اور ڈاکٹر خلیق انجم سے بھی انھیں خوب مدد ملی۔


باغ و بہار

        باغ و بہار فورٹ ویلم کالج کلکتہ کی سب سے مشہور ،معروف اور مقبول ترین کتاب ہے۔اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کتاب کو ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر کی یونی ورسٹیوں(جہاںاُردو کی تعلیم کا نظم و نسق ہے)کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔میر امّن کے سامنے ہی باغ و بہارکا ترجمہ انگریزی زبان میں ہو چکا تھا۔میر امّن نے اس اس داستان کو ٹھیٹھ ہندوستانی زبان میں تحریر کیا تھا۔اُردو کے نامور ادیبوں ،نقادوں اور محققین نے باغ و بہار کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے۔
1۔  مولوی عبدالحق:’’اپنے وقت کی نہایت صحیح و شیریں زباں‘۔‘
2۔  کلیم الدین احمد:’’سادگی اور پُر کاری بیک وقت جمع ہیں۔‘‘
3۔  گیان چند جین:’’میرؔ اگر اہلِ زبان تھے تو امّن خالق ِ زبان۔‘‘
4۔   ڈاکٹر وحید قریشی:’’اس سے اُردو نثر میں ایک نئی سمت کا پتا چلتا ہے۔‘‘
5۔   ڈاکتر سیّد عبداللہ:’’باغ و بہار اُدو نثر کی پہلی زندہ کتاب ہے۔‘‘
6۔   وقار عظیم:’’اس کی سب سے بڑی خوبیفصاحت و بلاغت ہے۔‘‘
7۔   پروفیسر حمید احمد خاںـ:’’باغ و بہار پاکیزہ اور شفاف اُردو کا اُبلتا ہوا چشمہ ہے۔‘‘
8۔   نورالحسن نقوی:’’یہ ہماری زبان کی ایک سدا بہار کتاب ہے۔اسے ہر دور میں شوق سے پڑھا جاتا رہا ہے اور پڑھا جاتا رہے گا۔‘‘
9۔  ڈاکٹر اعجاز حسین :’’اس کی سادگی اور سلاست نے اُردو زبان میں ایک نیا راستا کھول دیا۔‘‘
10۔سر سیّد احمد خاں:’’میر امّن کو اُردو نثر میں وہی مرتبہ حاصل ہے جو میر تقی میر کو شاعری میں حاصل ہے۔‘‘
       ڈنکن فاربس اور بابائے اُردو مولوی عبدالحق جیسے دانشوروں نے اسے از سرِ نو مرتّب کیا تھا۔آج بھی س کتاب کی ترتیب و تدوین محققین و مدونین کا پسندیدہ شغل اور عمل ہے۔جن محققین نے باغ و بہار کو از سرِ نو مرتّب کیا اُن کی فہرست درج ذیل ہے۔
(1)ڈنکن فاربس
(2)مولوی عبدالحق
(3)ممتاز حسین
(4)وقار عظیم
(5)ابوالخیر کشفی
(6)ممتاز منگلوری
(7)سلیم اختر
(8)رشید حسن خاں
(9)مرزا حامد بیگ
(10)اسلم عزیز درّانی
        تصنیفی اور سنین کے اعتبار سے باغ و بہار ،فسانۂ عجائب سے پہلے لکھی گئی۔فرق صرف اتنا ہے کی فسانۂ عجائب ایک طبع زاد داستان ہے اور باغ و بہار ایک ترجمہ۔لیکن باغ و بہارکی ورق گردانی کرنے کے بعد اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ ترجمہ ہے۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے۔رشید حسن خاں نے اس کتاب کی ترتیب 1964ء میں مکتبہ جامعہ کے معیاری سیریز کے لیے کی تھی۔لیکن خاں صاحب اس کتاب کی تدوین اعلا درجے کی کرنا چاہتے تھے۔ان کی تدوینی کاوش کا نتیجہ 1992ء میں سامنے آیا جب انجمن ترقی اُردو (ہند)نے اسے شائع کیا۔رشید حسن خاں نے اس کتاب پر اپنا مفصّل،مربوط،مسبوط اور عالمانہ مقدمہ124؍صفحات پر مشتمل ،تحریر کیا۔
          رشید حسن خاں نے ادبی نقطۂ نظر سے باغ و بہار کو ’’جدید اُردو نثر کا پہلا صحیفہ ‘‘قرار دیا ہے۔فورٹ ولیم کالج کے قیام کا مقصد کچھ بھی رہا ہو ،لیکن یہ ادارہ اُردو زبان کی ترقی،تصنیف و تالیف کا مرکز بن گیا تھا۔جدید اُردو نثر اور نئے لسانی شعور کے فروغ میں اس کالج کی حیثیت بنیادی رہی ہے۔فورٹ ولیم کالج میں اُردو کی بہت سی کتابیب شائع ہوئیں۔لیکن ان کتابوں میؓ جو شہرت باغ و بہار کو ملی ،ویسی شہرت کسی دوسری کتاب کو حاصل نہ ہو سکی۔اس قبولِ عام کی ایک وجہ میر امّن کی نثر نے روز مرّہ اور محاورہ و اۃلِ زبان کی قدر و قیمت کو واضح ،بیان میں سادگی ،صفائی کی ضرورت اور سب سے بڑھ کرزبان کے چلن کی اہمیت کو روشن کیا۔1804ء میں کلکتے کے ’’ہندوستانی چھاپے خانہ‘‘ میں طبع ہونے کے بعد گل کرسٹ نے اس کتاب کو فورٹ ولیم کالج کے نصاب میں شامل کر لیا تھا۔
       رشید حسن خاںنے اپنے مقدمہ میں میرامّن کے نام حوالی سے لکھا ہے کہ ’’باغ و بہار اور گنج خوبی دونوں کتابوں کے پیش لفظ میں انھوں نے اپنا نام میرامّن تحریر کیا ہے۔باغ و بہار طبع اوّل1804ء کے سر ورق ،آخری صفحے اور ہندی مینول میں بھی ان کا نام میر امّن ملتا ہے۔لیکن رشید حسن خاں کے علاوہ کئی محققین نے ان کے نام میں اختلاف درج کیا ہے۔میر امّن کے وطن کو خان صاحب نے دہلی قرار دیا ہے۔ان کے مذہب کے بارے میںجو دلیل پیش کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھیفورٹ ولیم کالج میں انھیں ملازمت میر بہادر علی حسینی کی وساطت سے ملی۔ کالج کے ہندوستانی شعبہ میں ماتحت منشی کے عہدے پر با قاعدہ4؍مئی1801ء کو 40؍روپئے ماہانہ کے مشاہیر پر کام کرنا شروع کیا۔رشید حسن خاں نے باغ و بہار کی تکمیل کی تفصیل اپنے مقدمے میں یوں تحریر کی ہے۔
           ’’اب مختصر اً یہ کہا جا سکتا ہے کہ باغ  بہار کی پہلی روایت ہجری سن کے لحاظ سے 1215ھ میں مکمل ہو گئی تھی۔1216ھ کا آغاز 14؍مئی 1801ء کو ہوتا ہے۔اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عیسوی سن کے لحاظ سے13؍مئی تک یہ پہلی روایت مرتب ہو چکی تھی ۔اس کے بعد اس پر نظرِ ثانی کی گئی اور میر امّن کی صراحت کے مطابق 1217ھ کی ابتدا میں نظرِ ثانی کا کام مکمل ہوا۔ابتدا سے اگر سال کے پہلے دو مہینوں کی مدت بھی احتیاطاً مراد لی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ مئی جون 1802ء کے مطابق دوران نظرِ ثانی کا کام مکمل ہوا تھا۔(تقویم کے مطابق یکم محرم 1217ھ ،4؍مئی 1802ء کے مطابق ہے)نظرِ ثانی کے بعد اس کا تاریخی نام’’باغ و بہار‘‘ رکھا گیا۔جس سے ہجری سنہ 1217ھ نکلتا ہے۔(پہلےاس کا نام چہار درویش تھا)نظرِ ثانی کے بعد میر امّن نے وہ عبارت خاتمہ لکھی جس کو اوپر نقل کیا گیا ہے۔‘‘(مقدمہ باغ و بہار،صفحہ49تا50،اشاعت 2009ء )
        کالج کونسل نے دیسی زبانوں کی تصنیف و تالیف کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک رقم مقرر کی تھی۔اسی سلسلے میں باغ و بہار کو 31؍اگست 1802ء کو 500؍روپئے کا انعام دیا گیاتھا۔باغ و بہار ترجمہ ہے یا اصل تصنیف ،اس بارے میں محققین کی رائے ایک جیسی نہیں ہیں۔عام طور پر باغ و بہار کو عطا حسین تحسین کی فارسی کتاب نو طرز مرصع کا ترجمہ مانا جاتا ہے۔ لیکن مولوی عبدالحق کی آرا اس سے جُدا ہے۔لکھتے ہیں۔
’’میر امّن کی باغ و بہار اسی کتاب کا ترجمہ کہی جاتی ہے۔اور وہ خود بھی یہی کہتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فارسی کاترجمہ نہیں ۔قصہ وہی ہے مگر اس کا مآ خذ بجائے فارسی کے اُردو کی کتاب نو طرز مرصع ہے۔‘‘(مقدمہ باغ و بہار،طبع دوم،صفحہ3،مرتب مولوی عبدالحق،اشاعت 1944ء )  
         مولوی عبدالحق کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے رشید حسن خاں نے واضح طور پر لکھا۔
         ’’یعنی یہ قطعی طور پر واضح ہے کہ باغ و بہار ترجمہ نہیں۔ میر امّن نے اصلاً نو طرز مرصّع کو سامنے رکھا ہے اور قصّے کو اپنی زبان اور اپنے خاص انداز میں لکھا ہے۔‘‘(مقدمہ باغ و بہار ،صفحہ63۔مرتب رشید حسن خاں،اشاعت 2009ئ)   
        رشید حسن خاں کے مطابق ’’باغ و بہار کو اتنی بار شائع کیا گیا ہے کہ اس کا گوشوارہ تیار کرنا ایک بڑا تحقیقی کام تو ہو سکتا ہے لیکن تدوین کے اعتبارسے ان کی کوئی خاص قدر و منزلت نہیں۔ان کے مطابق’’تدوین کے اعتبار سے تین نسخے قابلِ ذکر ہیں۔(1)ہندی مینول جس میں 102؍صفحات ہیں۔(2)اشاعتِ اوّل ۔ہندوستانی پریس ،کلکتہ۔(3)نسخہ (ہ) مرتب ڈنکن فاربس۔ان کے علاوہ مولوی عبدالحق نے بھی باغ و بہار کو مرتب کیا تھا ۔اس لیے مین کی تصحیح اور تدوین میں رشید حسن خاں نے ان تمام نسخوں کو سامنے رکھ کر باغ و بہار مرتب کی۔اصلاً رشید حسن خاں نے باغ و بہار کی تدوین کے لیے پانچ نسخوں سے استفادہ کیا تھا۔جن کی ترتیب اس طرح ہے۔
(1)خطّی نسخہ(روایت اوّل)          ـ:    ن
(2)ہندی مینول                             :    م
(3)طبع اوّل (1804ء )                :    ک
(4)مرتبہ ڈنکن فاربس                 :     ف
(5)مرتبہ مولوی عبدالحق             :     ع
          رشید حسن خاں نے باغ و بہار کے متن کی بنیاد طبع اوّل(1804ئ)’’ک‘‘پر رکھی ہے۔متن ِ کتاب کے آخر میں تین ضمیمے بھی شامل کیے گئے ہیں ۔65؍صفحات پر مشتمل مفصل فرہنگ بھی کتاب میں شامل کی گئی ہے۔اس کے علاوہ رشید حسن خاں نے کتاب کے اختمام پر باغ و بہار طبع اوّل  میں شامل گل کرسٹ کا پیش لفظ (PREFACE)انگریزی متن ،باغ و بہار طبع اوّ ل کے آخری ورق کا اندرونی صفحہ (ہندوستانی پریس ،کلکتہ) ،ہندی مینول کا پہلا صفحہ،ہندی مینول کا آخری صفحہ،باغ وبہار طبع اوّل میں شامی میر امّن کی عرضی اور میر امّن کی تحریر کا عکس (گنج خوبی کا ایک صفحہ)بہ طور نمونہ  دیا ہے۔رشید حسں خاں نے باغ و بہار کے مقدمے کی بنیاد جن ذیلی عنوانات کے تحت رکھی اُن کی فہرست اس طرح ہے۔
(1)حدود کا تعیّن(2)حالاتِ زندگی(3)نام(4)تخلص(4)وطن ،علاقہ اور محلّہ(5)تعلیم(6)جاگیر اور منصب(7)مذہب(8)اولاد اور اہلِ خانہ(9)دہلی سے روانگی(10)کلکتے میں آمد(11)ملازمت(12)ملازمت سے سبک دوسی(13)گنج خوبی(14)باغ و بہار آغاز اور اختمام(15)کتاب کا نام(16)باغ و بہار کی تیاری میں مدد اور نثر کی درستی کا دعوا(17)انعام(18)باغ و بہار ،ترجمہ تالیف یا تصنیف(19)امیر خسرو سے منسوب روایت(20)خطّی نسخے(21)ایک قدیم خطّی نسخہ(ن)(22)مطبوعہ نسخے(23)ہندی مینول(م)(24)اشاعتِ اوّل (ک)(25)اشاعتِ اوّل کا سر ورق(26)پیش لفظ(27)اعراب ،علامات،رموز و اوقاف(28)مرتبہ ڈنکن فاربس (ف)(29)مرتبہ مولوی عبدالحق (ع)(30)قصہ چہار درویش(فارسی)(31)قصے کے مآخذ اور بعض دیگر متعلقات(32)نظرِ ثانی(33)باغ و بہار کی نثر،اہمیت اور اجزائے ترکیبی(34)تکرارالفاظ(35)اِمالہ(36)بہ کی مرکبات(37)قافیہ بندی(38)صنعتیں(39)عربی،فارسیاور ہندی الفاظ(40)مرکبات(41)فارسی اور اجنبی طرز ادا(42)نے اور کو کا استعمال(43)جمع الجمع(44)تذکیر و تانیث(45)اختلافِ عدد و معدود(46)شُتر گربہ۔نا علامت مصدر(47)ہائے مخلوط اور نون غنہ(48)افعال(49)الفاظ(50)طریقِ کار


مثنوی گلزارِ نسیم 

     رشید حسن خاں نے گلزارِ نسیم جیسی کلاسیکل مثنوی کی تدوین کا کام 1994ء میں انجام دیا۔گلزارِ نسیم پنڈت دیا شنکر نسیم کا مشہور و مقبول ادبی شاہ کار ہے۔اس کتاب میںرشید حسن خاں نے  141؍صفحات پر مشتمل طویل مقدمہ تحریر کیا۔اور انتساب ڈاکٹر نیّر مسعود رضوی کے نام موسوم کیا۔اس مقدمہ مین انھوں نے مثنوی کے بنیادی  مآخذ ،اصول اور طریقۂ تدوین پر مفصّل عالمانہ بحث کی ہے۔یعنی اس کی تاریخی اہمیت کو اپنی سعی سے متعین کیا۔رشید حسن خاں کی بارخدمات کا محاکمہ کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ ادیب شمیم حنفی لکھتے ہیں۔
          ’’مقدمے کے ڈیڑھ سو صفحوں میں گلزارِنسیم کی ’ادبی اور نصابی اہمیت‘قصے سے وابستہ روایات،اس کے اجزا،اس کےتمثیلی پیرائے،پھر دیا شنکر نسیم ؔ کے سوانھ اور ادبی خدمات ،اس کے بعد گلزارِ نسیم کے مختلف نسخوں ،قصہ گُل بکاولی کی فارسی روایت،فارسی متن کے نثری اُردو ترجمے(مذہبِ عشق از منشی نہان چند لاہوری)کی نوعیت اور دیگر متعلقات کی نشان دہی کی گئی ہے۔‘‘(رشید حسن خاں ،کچھ یادیں،کچھ جائزے،مرتبین،ڈاکٹر جاوید رحمانی،ڈاکٹر محمدآفتاب اشرف ،صفحہ209،دربھنگہ،2008ئ)   
        دیا شنکر نسیمؔ نے ہندوستانی قصّے’’گل بکاولی‘‘ کو منظوم شکل عطا کیاس قصے کو پہلے عزت اللہ بنگالی نے فارسی نثر میں تحریر کیا تھا۔فورٹ ولیم کالج میں گل کرسٹ کی فرمائش پر منشی نہال چند لاہوری نے اسے’’مذہبِ عشق ‘‘کے نام سے اُردو نثر میں ترجمہ کیا۔جب دیا شنکر نسیم نے اس قصے کو 1838-39ء میںاسے اُردو نظم میں پیش کیا تو اس کی شہرت نقطیۂ عروج کو پہینچ گئی۔جب یہ مثنوی معرکۂ چکبست و شرر کاموضوع بنی تو اس کے محاسن کو ’’قدر دانوں ‘‘نے اپنی پارکھی نظروں سے پرکھااور سمجھا۔نسیمؔ نے اس مثنوی میں اپنے اُستاد آتشؔ کے کہنے پر کُل 1521؍اشعار رکھے۔مثنوی گلزار نسیم میں رعایت لفظی اور اختصار بہ درجہ اتم موجود ہے۔نسیم ؔ نے اس میں صنعتوں کا اس سلیقی سے استعمال کیا ہے کہ یہ نا گوار نہیں گزرتی۔اس خاص طرزِ ادا کا احترام کرتے ہوئے رشید احمد صدیقی نے کہا’’شعر و شاعری کے جن پہلوؤں کے اعتبار سے لکھنؤ بدنام ہے،گلزارِ نسیم نے انھیں پہلوؤں سے لکھنؤ کا نام اونچا کیا ہے۔زبان کو شاعری اور شاعری کو زبان بنا دینا کوئی آسان کام نہیں۔‘‘سیّد احتشام حسین نے اس مثنوی کو ’’شاعرانہ اور فنکارانہ تخلیق کا معجزہ ‘‘قرار دیا۔ان دونوں ادبی نقادوں کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے اور لکھنؤ کی مہذب و شائستہ زبان اور فنکارانہ اسلوب نگارش پر اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے رشید حسن خاں  نے اپنے مقدمے میںلکھا ہے۔
            ’’  یہ سب بجا درست ہے مگر یہ بات اپنی جگہ رہے گی کہ رعایت لفظی اور اختصار ،ان میں کتنا ہی حسن ہو،یا پیدا کیاجائے،مثنوی کی صنف میں اور ان میں ایک طرح کا بیر ہیاور سب حسن پیدا ہو جائیں گے،مگر جذبات نگاری ،واقعہ نگاری اور محاکات ،جو مثنوی کے اہم اجزا ہیں،ان کا رنگ اُجڑ جائے گا۔اس رنگ میں یہ کہنا آسان ہے کہ آنسو پیتی کھا کے قسمیں ،لیکن یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ دوانی سی ہر سمت پھرنے لگی۔یہی وجہ ہے کہ اس مثنوی کے اشعار میں چمک ہے،فن کاری کا کمال ہے،دل کشی ہیلیکن تاثیر کی گرمی نہیں ،اس کے صفحات گویا ولایتی گلاب کے تحفے ہیں۔رنگ ہی رنگ ہیں خوشبو نہیں۔‘‘(مقدمہ گلزارِ نسیم ،صفحہ15،انجمن ترقی اُردو ہند،نئی دہلی،1995ئ)
         اس مثنوی کے ذریعہ دیا شنکر نسیم نے ایک نئے اندازِ فکر سے اہل، اُردو کو متعارف کرایا جسے اہلِ لکھنؤ نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ان کی بے مثال کاوشوں کے صلہ میں لوگوں نے اس مثنویکو لا زوال بنا دیا۔جب یہ مثنوی تخلیق ہوئی تو اس وقت لکھنؤ کی تہذیب و ثقافت اپنے عروج پر تھی۔عوام و خواص ایسی دیومالائی داستانوں(داستان چاہے نثر میں ہو یا نظم میں)کو سُن کر لطف اندوزہوتے تھے۔لوگوں کے دل جیتنے کے لیے ان داستانوں میں ہندوستانی رنگ کا تڑکا لگایا جاتا تھا۔تاکہ ایسے واقعات گیر ملکی ہوتے ہوئے بھی خالص ہندوستانی لگیں۔نسیم ؔ نے اس نئے رنگ کواپنے لیے مختص کر لیا تھا۔انھوں نے لفظی و معنوی صنعتوں اور رعایت لفظی کے الزام کو اپنا شیوہ قرار پایا۔رعایت لفظی پر گفتگو کرتے ہوئے رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں لکھا ہے۔
           ’’یہ معلوم یہ کہ لفظ و معنی کے اس نظام کو سمجھے بغیر ،جس میں رعایتوں اور مناسبتوں کا اور ان کے وسیلے سے طرزِادا کی ندرتوں کا بڑا حصے کو صحیح طور پر نہیں سمجھا جا سکتا ،غلط فہمی نے یہ خیال ذہنوں میں بیٹھا دیاہے کہ لفثی رعایت بہت بری چیزہے،یہ حسن خیال اور حسن ِ بیان کی دشمن ہے۔اس غلط اندیشی نے کلاسلکی ادب کے چالب علموں کو بہت نقصان پہنچایا ہے کہ وہ قدیم ادب کے بہت بڑے حصّے کے حقیقی محاسن کے عرفان سے محروم ہو کر رہ گئے۔‘‘(مقدمہ گلزارِ نسیم ،صفحہ 17،انجمن ترقی اُردو ہند،نئی دہلی،1995ئ) 
         رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں رعایت لفظی اور مثنوی کے حسن و معیار پر آگے لکھا ہے۔
         ’’رعایت لفظی اس مثنوی کا خاص جوہر ہے ، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مختلف لفظوں کو کسی خاص رعایت اورمناسبت  کے ساتھ لانا۔اس کا حقیقی تعلق اداے مفہوم کے لیے انتخابِ الفاظ کے سلیقے سے ہوتا ہے ،اس عمل کی خوبی اور خامی بھی اسی سلیقے کی کمی بیشی پر مبنی ہوتی ہے۔یہ دیکھا گیا ہے کہ رعایت لفظی جن شاعروں کے کلام کا خاص جوہر ہے،اُن کے اشعار خاص طور پر خوش ذوقی کے معیار پر پورے نہیں اُترتے،اُن میں کاری گری کا مصنوعی پن اِس قدر نمایاں ہوتا ہے کہ ذوقِ سلیم پر گراں گزرتا ہے۔اس مثنوی کے اکثر اشعار میں لفظی مناسبتوں کی کار فرمائی ہے،مگر وہ اس عیب سے مبرّا ہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اس قدر بے تکلفی اور اس قدر مہارت کے ساتھ ان رعا یتوں سے کام لیا گیا ہے کہ تصنّع کا رنگ نہیں اُبھر پاتا،اُس کی جگہ صنّاعی اور فن کاری کا حُسن نظر کو اپنی طرف کھینچ لیتاہے۔‘‘
(مقدمہ گلزارِ نسیم،صفحہ21،انجمن ترقی اُردو ہند،نئی دہلی،1995ئ)
         رشید حسن خاں نے گلزارِ نسیم کے متن کی بنیاد اس مثنوی کے نسخہ ٔ  طبعِ اوّل مطبوعہ’’مطبع حسینی میر حسن رضوی ،لکھنؤ سالِ طبع1260ھ پر رکھی۔کیوں کہ یہ نسخہ دیا شنکر نسیم کی زندگی کی پہلی اور آخری اشاعت ہے۔اس بنا پر یہ مثنوی کا واحد معتبر نسخہ ہے۔اشاعت اوّل کے آخر میں غلط نامہ کے تحت متن میں کتابت کی غلطیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ان کی تصحیح نسخہ مطبع مسیحائی کی مددسے کی گئی ہے۔نسخہ مطبع مسیحائی کو بھی سامنے رکھا گیا ہے۔رشید حسن خاں نے گلزارِ نسیم کی تدوین میں توصیف نگاری کا بھی اہتمام کیا ہے۔اس کے لیے رموز و اوقاف سے کام لیا گیا ہے۔ضروری لفظوں پر اعراب لگائے گئے ہیں۔تاکہ دور حاضر کا طالب ِ علم متن کی قرآت آسانی سے کر سکے۔متن کے بعد دو ضمیمے شامل کیے گئے ہیں۔ضمیموں کے بعد فرہنگ ہے۔مقدمے کے آخر میں اپنے ادبی دوستوںڈاکٹر شعائر اللہ خاں،ایم حبیب خاںاحمد ندیم قاسمی،منصورہ احمد،سالک لکھنوی،ڈاکٹر عابد رضا بیدار،اطہر فاروقی،مشفق خواجہ ،ڈاکٹر گوہر نوشاہی،گیان چند جین،نیّر مسعود،کالی داس گپتا رضا،شمس الرحمن فاروقی،ڈاکٹر حنیف نقوی،ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی،عبدالطیف عظمی،ڈاکٹر کلیم سہسرامی کا شکریہ خاص انداز میں ادا کیا کیا گیا ہیاور آخر میں اقبالؔ کے سعر پر اپنا مقدمہ مکمل کیا۔
ہر لحظہ نیا طور ،نئی برقِ تجلّی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے
       رشیڈ حسن خاں نے اپنے مقدمے میں جن ذیلی عنوانات کو قائم کیا اُن کی فہرست اس طرح ہے۔
     (1)گلزارِ نسیم کی ادبی اور نصابی اہمیت(2)قصے کا محلّ وقوع(3)قصّے کے اجزائ(4)تمثیلی انداز(5)قصّے کی قدیم ترین تحریری روایت(6)کیا عزّت اللہ بنگالی کا فارسی متن ترجمہ ہے(7)نسیمؔ کے حالاتِ زندگی(8)تصنیفات(9)گلزارِ نسیم سے متعلق بعض قابل ِذکر روایتیں(10)گلزارِ نسیم:پہلی اشاعت (ج)(11)نسخہ مطبعِ مسیحائی(م)نسخہ مطبع مصطفائی(12)نسخہ ٔ چکبست(ک)(13)نسخۂ سیرازی(ش)(14)نسخۂ قاضی عبدالودود(ق)(15)یدگار نسیمؔ(یادگار)(16)فارسی متن(17)خطّی نسخے(18)نسخۂ کلکتہ(19)نسخۂ پٹنہ(20)نسخۂ لندن(21)مذہبِ عشق(مذہب)(22)افسوسؔ نے ترجمے پر نظرِ ثانی کی تھی(23)مذہبِ عشق اور فارسی متن(24)ریحان کی مثنوی باغ و بہار(25)باغ و بہار اور مذہبِ عشق(26)باغ و بہار اور گلزار ِ نسیمؔ(27)معرکئہ چکبست و شرر(معرکہ)(28)طریق کار


مثنویاتِ شوقؔ

           نوّاب مرزا شوقؔ لکھنوی کی مثنویاں فریبِ عشق ،بہارِ عشق اور زہرعشق اُردو کے کلاسیکل ادب اور دبستانِ لکھنئو کے ادبی سرمائے کے قابل قدر حصہ ہیں۔رشید حسن خاں کلاسیکل ادب اور متون کے ماہر اور دل دادہ تھے۔فسانئہ عجائب ،باغ و بہاراور مثنوی گلزار نسیم کے بعد ان کا چوتھا تدوینی شاہ کار ’’مثنویاتِ شوق ؔ‘‘ کو1998ء میں ،انجمن ترقی اُردو (ہند) نئی دہلی نے بابائے اُردو مولوی عبدالحق سیریز کے تحت شائع کیا۔رشید حسن خاں نے مثنویاتِ شوقؔ کی تدوین میں سائنٹفک طریقہ ٔ کار استعمال کرتے ہوئے 156؍صفحات پر محیط ،تدوین کے اصول و نظریات سے ناقدانہ بحث کرتے ہوئے مفصّل ،مربوط و مسبوط عالمانہ مقدمہ ’’تمہید‘‘ کے نام سے رقم کیا۔مثنویوں کے متن کے بعد 142؍صفحات کے چار ضمیمے اور ایک فرہنگ شامل ہے۔رشید حسن خاں کی اس تدوینی کاو ش پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر گیان چند جین نے ’’خدائے تدوین کا چوتھا صحیفہ :مثنویاتِ شوقؔ‘‘ کے تحت لکھا۔
         ’’ان کے پہلے تین کارناموں کے بعد چوتھے کام کے لیے ’’مثنویاتِ شوقؔ‘‘کے انتخاب کی اطلاع پاکر میں سوچتا تھا
کہ رشید حسن خاں  نے غلچ انتخاب کیا۔ان کے جیسے علم و فضل والے عالم کے لیے شوقؔ کی مثنویاں ہلکی ہیں۔ان میں تدوین کے جوہر دکھانے کا کہاں موقع ہے۔لیکن کہتے ہیں کہ اُستاد کاری گر کے ہاتھ میں جو بھی خام مادّہ آ جائے وہ اپنی چابک دستی سے اس کو شاہ کار بنا دیتا ہے۔’’مثنویات ِ شوقؔ‘‘کی تدوین کو دیکھ کر اس پر ایمان لانا پڑتا ہے۔میرے پاس وہ علم نہیں کہ میں اس تدوین کا تنقیدی تجزیہ کر سکوں۔‘‘(رشید حسن خاں،کچھ یادیں کچھ جائزے ،صفحہ215،مرتبین،ڈاکٹر محمد اشرف،جاوید رحمانی ،دربھنگہ2008ء )
      مثنویاتِ شوقؔ،لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب و ثقافت کی پوری ایمان داری اور سچائی سے عکاسی کرتی ہے۔یہ اُس زمانے کی شاہ کار مثنویاں ہیں جب نوّاب اور اُمرا کے علاوہ ادنیٰ سے ادنیٰ فرد بھی عیش کوشی اور لذت پرستی میں مبتلا تھا۔اس طرح لکھئنو کی تہذیبی روداد کے پس منظر میں ،اودھ کی سیاسی اورسماجی تاریخ کی بدحالی اور کھوکلے پن کا اندازہ اور مشاہدہ بہ آسانی کیا جا سکتا ہے۔اُس زمانے میں طوائف،لکھنوی تہذیب کا انمول اور اٹوٹ حصّہ تھی۔ان کے بغیر معاشرے کی تشکیل نا ممکن تھی۔نوّابین لکھنئو سے باہر جاتے تو طوائفوں کے ڈیرے بھی شاہانہ انداز میں ان کے ساتھ چلتے۔گویا ان کے بغیر شاہی لشکر ادھورا ہو۔ان کی صحبتیں اختیار کرنے کے بعد بعض شرفا کے گھرانوں میں ’’زنانہ پن ‘‘متعدّی مرض اور وبا کی مانند پھیل گیا۔ان تمام امور پر مزید روشنی مولانا عبداحلیم شررؔ نے گذشتہ لکھنؤ میں ڈالی ہے۔لکھتے ہیں۔
              ’’شجاع الدولہ کا طبعی میلان مہہ جبیں عورتوں اور رقص و سرور کی طرف تھا۔جس کی وجہ سے بازار عورتوں اور ناچنے والی طوائفوں کی شہر مین اس قدر کثرت ہو گئی تھی کہ کوئی گلی کوچہ ان سے خالی نہ تھااور نوّاب کے انعام و اکرام سے وہاس قدر خوش حال اور دولت مند تھیں کہ اکثر رنڈیاں ڈعری دار تھیں،جن کے ساتھ دو تین عالی شان خیمے رہا کرتے تھے اور نوّاب صاحب جب اصلاع کا دورہ کرتے اور سفر میں ہوتے تو نوّابی خیموں کے ساتھ ساتھ ان کے خیمے بھی شاہانہ شکوہ سے چھکڑوں پر لد لد کر رونہ ہوتے اور ان کے گرد دس دس بارہ بارہ تلنگوں کا پہرا رہتا۔جب حکمراں کی یہ وجہ تھی ،تو تمام امراء اور سرداروں نے بھی بے تکلف یہی وضع اختیار کر لی اور سفرمیں سب کے ساتھ رنڈیاں رہنے لگیں۔اگر چہ اس سے بد اخلاقی اور بے شرمی کو ترقی ہو گئی لیکن اس میں شک نہیں کہ ان شاہدانِ بازاری کی کثرت اور امراء کی شوقینی سے شہر کی رونق بہ درجہ زیادہ بڑھ گئی اور فیض آباد دُلہن بن گیا تھا۔‘‘(گذشتہ لکھنؤ، صفحہ51،مکتبہ جامعہ ،دہلی،2011ئ)
       ان طوائفوں کا عمل اور دخل مذہبی رسومات میں بھی بڑھ گیا تھا ۔عزا داری،سوز خوانی،امام باڑے،کربلا،درگاہ حضرت عبّاس ،مرثیے کی مجلسوں میں طوائفوں کی نمائندگی ہونے لگی تھی۔جس کی وجہ سے ان مذہبی رسومات کا حُسن دوبالا ہو گیا تھا۔الغرض!طوائف لکھنوی معاشرے میں ایک مضبوط کردار ادا کرنے لگی تھی۔پروفیسر خورشید الاسلام نے مذکورہ امور پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔
     ’’عزا داری جو ایک مذہبی فریضہ تھا اور جس میں حدود درجہ سنجیدگی اور متانت واجب تھی،اس میں طوائفوں نے ساز خوانی کے کمال سے فائدہ اُٹھا کر دخل حاصل کر لیا تھا اور اس طرح دُنیا ہی نہیں آخرت بھی ان کے ہاتھ سے چلی گئی تھی۔‘‘(تنقیدیں،طبع دوم،صفحہ 134،بہ حوالہ حیاتِ شوقؔ،صفحہ304)
          نجم الغنی خاں نے تاریخ اودھ میں نصیرالدین حیدر اور واجد علی شاہ کے محلّات کا ذکر کرتے ہوئے عورتوں کی بد کاری،بدکرداری اور بد اخلاقی کا نقشہ کیھنچا ہے۔جسے پڑھ کر انسانیت شرم شار ہو جائے۔شاہی محل میں کم درجہ اور بازاری عورتوں کی رسائی نے دوسرے مردوں سے ان کے نا جائز تعلقات پیدا کئے۔جس سے معاشرے میں بد فعلی عام ہوئی ۔محل کی بیگمات بھی ان بد فعلیوں سے باز نہ رہ سکیںاور اپنی عزت و آبرو غیر مردوں کے حوالے کر دی۔اس بیان کی تصدیق حیدری بیگم اور واجد علی شاہ کے درمیان ہوئے مکالمے سے ہوتی ہے۔
کہا حمل ثابت علی خاں کا ہے
خطا کی ،خطا کام انساں کا ہے
نہیں میں فقط ایک تقصیر وار
کہ اس دام میں اور بھی ہیں شکار
                                             (تذکرۂ شوقؔ،صفحہ306)
            یہ اس حقیقت کا انکشاف تھا جس سے معاشرے کے زیادہ تر لوگ خبر دار تھے۔بلگمات کے چال چلن ،کردار اور پاک دامنی کے بارے میں مرزا شوقؔ نے کہا ہے۔
رنڈیاں گو کہ ساری آفت ہیں
بیگمیں اور بھی قیامت ہیں
کھلتا ہر اک پر ان کا حال نہیں
کون ان میں ہے جو چھنال نہیں
ڈھونڈ تی پھرتی خود حسین ہیں یہ
ہم سے دونی تماش بین ہیں یہ 
 (  فریبِ عشق،صفحہ182)                                

         یہ ایک بگڑے ہوئے معاشرے کی تلخ حقیقت کا دل دوز بیان ہے جس سے لوگ بے خبر نہ تھے۔یہ عناصر معاشرے میں پیوست ہو چکے تھے۔یہاں تک کہ کربلا اور درگاہوں پر جاکر بھی عیش پسند عورتیں اپنی خواہشاتِ نفس کی تسکین کا سامان تلاش کرتی تھیں۔
وضع کی گو تھی سب کو پابندی
پر نہ بچتی تھی کوئی نو چندی
دوست جتنے تھے رہتے تھے ہمراہ
کربلا میں کبھی کبھی درگاہ
رہتا تھا تیرہویں کا جلسہ یاد
شام سے جاتے تھے حسین آباد
دو پہر رات جب گرتی تھی 
ڈولی پر ڈولی پھر اترتی تھی
        زہرِ عشق کی ہیروئن کے ملنے کا دستور ملاحظہ ہو۔
ہم بھی درگاہ آج جائیں گے
ہوگی فرصت، تو واں بھی آئیں گے
        اس طرح لکھنوی معاشرے میں کربلا اور درگاہ حضرت عباس جو مذہبی رسومات کت آستانے تھے ،عورتوں کے لیے وہ  صرف تماش بینی اور آنکھیں گرم کرنے کے اڈّے بن گئے تھے۔حسین آباد کے تالاب پر تیرہویں کا جو میلا ملگتا تھا وہ محض تفریح ،سیر سپاٹے اوی تماش بینی کا مرکز بن کر رہ گیا تھا۔بہ قول مرزا شوقؔ
رات ہنس بول کر گزارتے تھے
صبح سب اپنے گھر سدھارتے تھے
مصحفیؔ نے بھی اس منظر کی تائید اس طرح کی۔
نو چندی آئی دھوم سے چل تو بھی مصحفیؔ
جاتی ہیں کربلا کو حسینوں کی ڈولیاں
            ان اشعار کی کی روشنی میں اس زمانے کے معاشرے کا اندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔لذّت اندوزی اورعیش کوشیمعاشرے کے نمائندہ طنقے پر طھائی ہوئی تھی۔مرزا شوقؔ کی ان مثنویوں کی بے باکی اور شوخ نگاری پر خوب اعتراضات کیے گئے۔لیکن شوقؔ کی حمایت میں مولانا عبدالماجد دریا بادی نے کہا’’محاورات پر یہ عبور،بیگمات کے روز مرّہ پر یہ قدرت،زبان کی یہ صحّت ،بیان کی یہ سلاست ،جذبات نگاری کی یہ قوت کیا ہر شاعر کے نصیب میں آتی ہے؟‘‘اس طرح مرزا شوقؔ نے جگ بیتی کو آپ بیتی کی شکل عطا کی ۔دبستانِ لکھنؤ کی ان نمائندہ مثنویوں کی لسانی اور ادبی اہمیت کے بارے میں رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں لکھا۔
          ’’شوقؔ نے یہ مثنویاں کسی بھی مقصد کے تحت لکھی ہوں ،ان میں سنجیدہ نگاری اور شوخ بیانی کا جو بھی انداز ہو
 یہ واقعہ ہے کہ یہ ایسے آئینے بن گئے ہیںجن میں اُس معاشرے کے بہت سے عکس محفوظ ہو گئے ہیں۔یہ عکس بہت شوخ رنگ سہی ،لیکن حقیقت کی ترجمانی ہیں۔آپ اِنھیں اُس عہد کی تہذیبی زندگی کے بعض مظاہرکے آنکھوں دیکھے بیانات بھی کہ سکتے ہیں۔ان مثنویوں کی یہ اہمیت آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی  ۔اور اس اعتبار سے اُس عہد کی تہذیبی تاریخ کے اچھے طالب علم کے لیے ان کا مطالعہ نا گزیر قرار پائے گا۔ دبستانِ لکھنؤ کی ادبی اور لسانی جہات کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے بھی ان مثنویوں کی اہمیت ہمیشہ برقراررہے گی۔عہدِ ناسخؔ کے شعری روایت اور تلامذۂ ناسخؔ کے قواعد شاعری سے متعلق بیانات کا حوالہ فائدہ لینا چاہیں گے ۔ شوقؔ کی یہ مثنویاں ان کے مطالعے کا لازمی جز قرار پائیں گی۔یہ ایک طرف تو لسانی سطح پر عہد ناسخؔ میں دہلوی اثرات کی نشان دہی ترتی ہیں اوردوسری طرف ناسخؔ اور تلامذۂ آتش و ناسخؔ کے شعری اسالیب کے مقابلے میں ایک متوازی شعری اسلوب کی آیئنہ دار ہیں۔یہی نہیں ’’زبان محلات‘‘ کی ایسی روایتی روشن اور دل کش مثالیں ان مثنویوں  میں یک جا ہو گئی ہیں کہ زبان ِ لکھنؤ کی لطافت اور نفاست کی پوری روایت نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ان مثنویوں کو الگ رکھ دیجیے تو پھر اس نفیس زبان اور ان کا لطیف بیانات کا ذخیرہ کچھ کم معلوم ہوگانا تمام
اور کم رنگ نظر آئے گا۔‘  (مقدمہ مثنویاتِ شوقؔ،صفحہ 23،انجمن ترقی اُردو (ہند)نئی دہلی،1998ئ)     
          رشید حسن خاں نے مثنوی فریب عشق کے متن کی بنیادمطبع آغا جان1272ھ کو بنایا۔ مثنوی بہارِ عشق کے لیے نسخۂ محمدی 1268ھ کو بنیاد بنایا۔ یہ مصنف کا نظرِ ثانی کردہ نسخہ تھا۔مثنوی زہرِ عشق کے لیے مطبع شعلۂ طور کان پور 1862ء کے نسخے کو متن کی بنیاد بنایا۔کُل ملاکر رشید حسن خاں نے مثنویاتِ شوقؔ کی تدوین کے لیے دس نسخوں سے استفادہ کیا تھا۔اس مثنوی کی تدوین میں رشید حسن خاں نے مسلکِ شیعہ(اثنا عشری)سے بھی استفادہ کیا تھاکیوں کہ مرزا شوقؔلکھنوی اسی مذہب کے پیرو کار تھے۔اس نسبت سے فقہہ جعفری کا مطالعہ نا گزیر تھا۔اس مثنوی میں جگہ جگہ شیعہ اثنا عشری مذہب کے آستانوں کا ذکر آیا ہے۔مذہبی فرقہ بندی سے بچنے کی پوری کوشش رشید حسن خاں نے کی ہے۔تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہواور اپنی بات بھی پوری ہو جائے۔اس بارے رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میںلکھا ہے۔
                ’’ ان مثنویوں میں کئی مقامات پر ایسی کچھ باتیں مذکور ہیں جن کا تعلق شیعہ عقائدیا روایات سے ہے۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شاعر مذہباً شیعہ تھا۔میں نے محض از راہِ احتیااط ایسے مقامات کی وضاحت کے سلسلے میں یہ مناسب بل کہ ضروری خیال کیا کہ کسی راسخ العقیدہ شیعہ سے معلومات حاصل کروں ۔کسی شیعہ عالم یا فقہہ جعفری کے ماہر سے میرے روانط نہیں۔ایسے خاصگانِ بار گاہِ خدا وندی سے ایک گناہ گار کے روابط ہو بھی ککیسے سکتے ہیںاوراحتیاط کے تقاضوں کی پاس داری بھی لازم تھی ۔میرے حلقۂ متعلقین میں نیّر مسعود صاحب اس لحاظ سے بھی متعا ر ف حیثیت رکھتے ہیں۔میں ایسے مقامات کے متعلق اُن سے دریافت کرتا رہااور ضمیمہ ،تشریحات میں اُنھی کے خطوں کی متعلقہ عبارتوں کو درج کر دیا۔یہ سب باتیں واوین میں ہیں۔ہر جگہ حوالہ کیا دیا جاتا ۔اس لیے یہاں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ ضمیمہ تشریحات میں جو تشریحی عبارتیں واوین میں مقید ہیں اور کسی کا حوالہ مندرج نہیں ،وہ سب نیّر مسعود صاحب کے خطوں کے اقتباسات ہیں ۔اس طرح دہرا فائدہ ہوا۔یہ اطمنان ہو گیا کہ صحیح باتیں لکھی جائیںگی اور بہت سے جھگڑوں سے بچ گیا۔مجھے مولانا حالیؔ کا یہ شعر یاد تھا۔
جھگڑوں میں اہل دین کے نہ حالیؔ پڑیں بس اب
قصّہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا
(مقدمہ مژنویات شوقؔ۔صفحہ162تا163،انجمن ترقی اُردو( ہند) ،نئی دہلی،1998ئ)
       مقدمے کے آخر میں رشید حسن خاں نے اپنے جن عزیزوں اور کرمفرماوں کا شکریہ ادا کیا ان میں نیّر مسعود،ڈاکٹر عابد رضا بیدار،ڈاکٹر شعائر اللہ خاں،شمس ارحمن فاروقی،عرفان زیدی،شبس بدایونی،ضیا علی خاں،اسلم محمود،ڈاکٹر اکبر حیدری،ڈاکٹر گیان چند جین،ڈاکٹر عقیل رضوی،ایم۔حبیب خاں،اور ڈاکٹر خلیق انجم کے نام کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
         میں یہاں اس امر کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ رشید حسن خاں نے اس مشنوی کے مقدمہ کا کچھ حصہ ’’ایوانِ اُردو،اپریل1998ء میں بہ عنوان ’’مثنویات شوقؔ لکھنوی معاشرت کے آئینے میں‘‘شائع کرایا تھا۔(رشید حسن خاں اس سے قبل مثنویات شوقؔ پر دومضمون ایوان اُردو جولائی1996ء اورنیا دور مئی 1996ء میں شائع کرا چکے تھے)اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد ان کے عزیز دوست ڈاکٹر نیّر مسعود نے ایک طویل خط نما مضمون ’’بہ نام رشید حسن خاں(بہ حوالہ مضمون ’’مثنویات شوقؔ لکھنوی معاشرت کے آئینے میں)ایوان اُردو کے لیے ارسال کیا۔یہ خط ایوان اُردو کے جولائی 1998ء کے شمارے میں صفحہ23تا29پر شائع ہوا۔اس خط کے شائع ہونے کے بعدرشید حسن خاں نے جواباً ایک خط نیّر مسعود کے نام ارسال کیا اور اُن تمام باتوں کی وضاحت کی جن پر نیّر مسعود کو اعتراضات تھے۔نیّر مسعود نے خط ملتے ہی ایک خط ایوان اُردو کے اڈیٹر مخمور سعدی کے نام ارسال کیا کہ ان کا طویل خط رسالے میں شائع نہ کیا جائے۔لیکن رسالہ چھپ کر تیار ہوچکا تھا۔نیّر مسعود نے فوراً ایک خط رشید حسن خاں کے نام مرقومہ 29؍جون1998ئارسال کیا(اس خط کی اصل اختر ؔشاہ جہاں پوری کے پاس ہے)یہ خط ایک طرح سے معذرت نامہ ہے اور دو ادبی بزرگوں کے مضبوط تعلقات کا گواہ بھی۔


 مثنوی سحرُ البیان 

رشید حسن خاں نے اپنے دوست کالی داس گپتا رضاؔ کے نام 14؍جولائی1996ء کو ایک مکتوب میں لکھا۔
              ’’میں نے مثنویات شوقؔ کو مکمل کر لیا،زیر کتابت ہے۔اب کل سے سحرُالبیان کو کیا ہے۔اِدھراُدھر خطوں کے گھوڑے دوڑا رہا ہوں۔آپ کے پاس کوئی خطی یا مطبوعہ نسخہ ہے؟‘‘
(رشید حسن خاں ،کچھ یادیں کچھ جائزے،صفحہ200،مرتبین ڈاکٹر محمد آفتاب اشرف ،جاوید رحمانی،دربھنگہ2008ئ)
         رشید حسن خاں نے کلاسیکی متون کی تدوین میں جس جاں فسانی سے کام لیا تھا یہ مکتوب اس کی بان گی بھر ہے۔سحرُ البیان ان کا پانچواں تدوینی کار نامہ تھا۔مثنوی سحرُ البیان میں رشید حسن خاں نے131؍صفحات کا مبسوط و مربوطاور عالمانہ مقدمہ تمہید کے نام سے تحریر کیا۔رشید حسن خاں نے سحرُ البیان کا انتساب ڈاکٹر گیان چند جین کے نام موسوم کیا۔اس کے بعد ہندوستانی پریس ،فورٹ ولیم کالج کلکتہ 1805ء کا آخری سر ورق اور متن کے پہلے صفحے کی نقل متن کے 121؍صفحات کے ساتھ منسلک کی ہے۔مثنوی سحرُ البیان کے متن کی ترتیب و تدوین کے دوران انھوں نے گیارہ خطی نسخوں اور دو مطبوعہ نسخوں سے استفادہ کیا۔لیکن رشید حسن خاں نے اپنی تدوین کے لیے نسخۂ فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے نسخے کو بنیاد بنایا۔چوں کہ اس نسخے کو صحّت متن کے لحاظ سے باقی نسخوں پر فوقیت حاصل ہے اور یہ معتبر بھی مانا جاتا ہے۔ رشید حسن خاں نیاس مثنوی سے متعلق اپنے مقدمے میں مآخذ اور زمانۂ تصنیف پر مفصّل بحث کی ہے۔انھوں نے مقدمہ مرتب کے تحت تمہید،حالات زندگی ،تصنیفات سحرُ البیان ،مثنوی کا نام ،زمانۂ تصنیف ،وجہ تصنیف،جملہ عنوانات،قطعات تاریخ،مثنوی سے متعلق بعض آرائیں،قصے کے مآخذ،دیباچہ،دیباچہ کب لکھا گیا،متن کس نے مرتب کیااور کب،سنہِ تکمیل،طباعت ،مثنوی کے خطی نسخے،ایک غیر معتبر نسخہ،تدوین میں جو نسخے پیشِ نظر رہے(1)تعارف،نسخہ فورٹ ولیم کالج کلکتہ،زبان و بیان،طریق کار ضمیمے،حدود کا تعین،اختمامیہ(2)متن(3)ضمیمہ1؍ تشریحات (4)ضمیمہ2؍اشعار کی کمی بیشی(5)ضمیمہ 3؍تلفظ اور املا(6)ضمیمہ 4؍الفاظ اور طریق استعمال(7)ضمیمہ 5؍اختلاف نسخ (8)فرہنگ ،جیسے عنوانات قائم کر ان پر بحث کی ہے۔بہ قول خلیق انجم ’’جذبات کی سچی ترجمانی،مناظر قدرت اور مظاہر فطرتکی بے لاگ تصویر کشی اور بے حد روشن زندگی کی حرکت و حرارت سے معمور مرقع تراشی،یہ ایسی خوبیاں ہیں جو اس مثنوی میں یکجا ہو گئی ہیں۔اُردو میں اچھی اچھی مثنویاں لکھی گئی ہیں ،مگر میر حسن کی اس مثنوی کے برابر کسی مثنوی کو نہیں رکھی جا سکتا۔‘‘رشید حسن خاں نے اس مثنوی میں استعمال تشبیہات،استعارات اور مرصع اندازی کے بارے میں یوں لکھا ہے۔
            ’’اس مثنوی میں کچھ مرقعے ایسے ہیں جو آج بھی جان دار متحرک نظر آتے ہیں۔کچھ مناظر کا بیان ایسا ہے جس کی روشنی اور چمک ذرا بھی ماند نہیں پڑ سکی ہے اور کچھ انسانی جذبوں کا ایسا بیان ہے جس نے سچی جذبات نگاری اور 
حقیقی احساس کی نمود کی سر حدوں کو چھو لیا ہے۔نور اور روشنی کا ایک نیا تصور اس کے اشعار میں سرایت کیے ہوئے
 ہے اور چاند کے وجود کو مرکز نور ماننے اور بنانے کا عمل اس ہمہ جہتی کے ساتھ پہلی بار کسی مثنوی میں رو نما ہوا ہے۔ان خصوصیات نے اس مثنوی کو بے مثال بنا دیا ہے۔اُردو مثنویوں کے ذخیرہ میں اس لحاظ سے یہ گل سر سیّد کی 
حیثیت رکھتی ہے۔‘‘(مقدمہ سحرُالبیان،صفحہ 15،انجمن ترقی اُردو (ہند)نئی دہلی،2000ئ)
           رشید حسن خاں نے میرغلام حسنؔ دہلوی کے حالاتِ زندگی کا مفصل جائزہ اپنے مْدمے میں لیا ہے۔کئی محققین کے نزدیک میر حسن کی زندگی کسی معمے سے کم نہیں۔ان کے والد میر ضاحک ؔکے نام کے بارے میں بھی اخلافِ رائے ملتی ہے۔آگے ان کے دہلی سے فیض آباد ہجرت کرنے،بعد میں لکھنؤ میں آنے اور یہیں پر ان کے تدفین کا ذکر کیا گیا ہے۔میر حسن کی حالاتِ زندگی پر تبسرہ کرتے ہوئے رشید حسن خاں نے لکھ ہے۔
     ’’اس مکمل تفصیل کی روشنی میں ان کی لکھی ہوئی تاریخ(یکم محرّم)کو ماننے میں بہ ظاہر کسی طرح شک کی گنجائش
 معلوم نہیں ہوتی۔تذکرہ گلشنِ ہند میں مرزا علی لطف ؔ نے میر حسن کے حالات میں لکھا ہے،’’1205ئ،بارہ سو پانچ ہجری میں سیر روضہ رضواں کی ہے،‘‘مگر افسوسؔکے بیانات کے مقابلے میں لطفؔ کا یہ قابل قبول نہیں ۔میر حسن کا صحیح سال وفات وہی 1201ھ ہے۔ان کے مدفن کی نشان دہی افسوسؔ نے کی  ہے،مگر اب قبرستان کا نشان نہیں ملتا۔‘‘(مقدمہ سحرُ البیان،صفحہ 22،انجمن ترقی اُردو (ہند)نئی دہلی،2000ئ)
         تصنیفات کے عنوان کے تحت بتایا گیا ہے کہ میر حسن نے تقریباً500اشعار پر مشتمل دیوان کے علاوہ بارہ مثنویاں ان کی تصنیفات ہیں۔اس کے علاوہ تذکرہ ٔ شعرہ اُردو(1778ئ)ان کا عظیم کار نامہ ہے۔لیکن اُردو ادب میں میر حسن کی شہرت و مقبولیت کی وجہ ان کی لا فانی مثنوی سحرُ البیان (1784ئ) کی وجہ سے ہے۔مثنوی کے نام کے تعلق سے بھی اختلافِ رائے ملتی ہے۔کیوں کہ میر حسن نے اس مثنوی کا نام سحرُ البیان نہیں رکھا تھا ۔بل کہ مصحفیؔ نے سب سے پہلے اپنے تذکرۂ ہندی میں اس کا نام مژنوی سحرُ البیان درج کیا تھا۔رشید حسن خاں نے اس بارے میں اپنے مقدمے میں اس کی وضاحت یوں بیان کی ہے۔
            ’’اس سلسلے کا تیسرا حوالہ اس مثنوی کا فورٹ ولیم کالج اڈیشن ہے(جس میں فسوسؔ کا دیباچہ شامل ہے)اس میں اُردوکا سر ورق تو نہیں،آخر میں جو انگریزی میں سر ورق ہے ،اس میں اس کا نام ’’سحرُ البیان‘‘ یا میر حسن کی مثنوی لکھا ہوا ہے مگر یہ سوال پھر بھی جواب طلب رہتا ہے کہ یہ نام کس کا رکھا ہوا ہے؟کیوں کہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ میر حسن نے یہ نام نہیں رکھّاتھا۔انھوں نے اس مثنوی کا کوئی نام ہی نہیں رکھا تھا۔انھوں نے تو شاعرانہ ریاعت کے ساتھ صرف یہ لکھا ہے،نہیں مثنوی،ہے سحرُ البیان۔اس سلسلے میں میرا خیال یہ ہے کہ اس مثنوی میں تو صاف لفظوں میں کوئی نام آیا نہیں تھابس یہ مرکب کلمہ صفت ایک شعر میں آیا تھا مگر اس مرکب کی معنویت توجہ کو اپنیطرف کھینچ سکتی تھی۔سب سےپہلے مصحفیؔ نے اس معنویت کو محسوس کیا اور یہ فرض کر لیا کہ اس مثنوی کے محاسن اور دل کشی اور دل فریببی کے لحاظ سے یہ کلمہ بہ طورنام آیا ہے۔کوئی بھی بات ہوئی ہو،مصحفیؔ نے اپنے تذکرے میں اس کا یہی نام لکھا۔اس طرح اس وقت تک جو معلومات ہمارے سامنے ہیںاس کے مطابق یہ نام پہلی بار مصحفیؔ کے تذکرے میں آیا ہے۔‘‘
(مقدمہ سحرُ البیان،صفحہ29تا 30،انجمن ترقی اُردو (ہند)،نئی دہلی،2000ئ)
         زمانئہ تصنیف کی بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس مثنوی کے آخر میں قتیلؔاور مصحفیؔ کا ایک ایک قطعہ تاریخ شامل ہے  جس سے سنہ ہجری1199ھ مطابق 1784-85ء نکلتا ہے۔
         وجہ تصنیف کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے رشید حسن خاں نے لکھا ہے کہ میر حسن نے اس مثنوی کو نواب آصف الدو لہ کوخوش کرنے کے لیے تھی۔لیکن یہ بات پورے وثوق کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی۔
        صلہ کے تحت لکھا گیا ہے کہ میر حسن نے جب اسے آصف الدولہ کے دربار میں اس غرض سے سنایا کہ وہاں سے ’’نقد انعام‘‘ملے گا ،لیکن آصف الدولہ نے شاعر کی حوصلہ افزائی رتے ہوئے اپنا’’دوشالہ‘‘انھیں دیا۔اس طرح میر حسن کو من مافق یا خاطر خواہ رقم نہ مل سکی جس کی اُنھیں اُمید تھی۔
       عنوانات کے موضوع پر رشید حسن خاں نے لکھا ہے کہ اس مثنوی میں جتنی بھی عنوانات قائم کیے گئے ہیںوہ سب قیاس پر مبنی ہیں ،چوں کہ میر حسن نے کسی بھی نسکے پر نظرِ ثانی نہیں کی تھی۔اس مثنوی کے جتنی بھی خطی و مطبوعہ نسخے ہیں ان میں مطابقت نہیں ہے۔اس مثنوی کے ایک غیر معتبر نسخے (نسخہ فورٹ ولیم کالج) کو خاں صاحب نے مثنوی سحرُ البیان کی تدوین کے لیے بنیاد بنا یا ہے۔اس میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ یہ تمام عنوانات میر حسن کے لکھے ہوئے نہیں ہیں۔بل کہ بعد کے لوگوں نے اپنی مرضی سے اس میں ضافہ کر لیے تھے۔
       قطعات تاریخ کے حالے سے اس مثنوی کا سنہ تکمیل1199ھ بتایا گیا ہے۔مثنوی سے متعلق بعض رائے میں رشید حسن خاں نے اُن لوگوں کی آرا کو قاری کے سامنے رکھا ہے جنھوں نے اس کے بارے میں غلط بیانی کی ہے۔خاص طور پر شیفتہ ؔ نے میر حسن کے ساتھ تنگ دلی کا اظہار کیا ہے۔انشاؔ نے بھی ان کے ساتھ یہی سلوک کیا۔
       مثنوی کے قصے کے مآخذ کے عنوان کے تحت یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ مثنوی طبع زاد ہے۔اس معاملے میں رشید حسن خاں نے ڈاکٹر گیان چند جین کی کتاب ’’اُردو مثنوی شمالی ہند میں ‘‘سے استفادہ کیا ہے۔ساتھ ہی فرمان فتح پوری کی کتاب’’اُردو کی منظوم داستانیں‘‘کو بھی سامنے رکھا گیا ہے۔دیباچہ کے عنوان میں لکھا گیا ہے کہ اس مثنوی کے شروع میں ایک دیباچہ ملتا ہے۔لیکن گمان کیا جاتا ہے کہ اسے میر شیر علی افسوس نے لکھا ہے۔اس ضمن میں تین باتیں بہ طور دلیل پیش کی جاتی ہیں ۔ایک یہ کہ میر حسن ،مرزا نوازش علی خاں سردار جنگ(فرزندنواب جنگ)کی سرکار میں ملازم تھے ۔دوسرے اتفاقاً میرا روز گار 1199ھ میں صاحب عالم مرزا جواںبخت کی سرکار میں ہوا۔تیسری بات تزکرۂ گلزارِ ابراہیم کا حوالہ ہے ۔شاگردی میر حسن کے سلسلے میں اس طرح میر شیر افسوس ؔنے ان تمام باتوں کی صراحت کی ہے جو میر سے متعلق ہیں۔ دیباچہ کب لکھا گیا کے عنوان میں رشید حسن خاں نے لکھا ہے کہ اس کا دیباچہ گل کرسٹ کی فرمائش پر 1803ء میں لکھا گیا۔لیکن عتیق صدیقی نے اپنی کتاب ’’گل کرسٹ اور اس کا عہد ‘‘ میں 12؍جنوری1802ء کو کالج کونسل کے نام گل کرسٹ کا خط‘‘میں اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ یہ کتاب 1802ء سے قبل چھپ گئی تھی۔اس مثنوی کی زبان و بیان کے بارے میں رشید حسن خاں نے لکھا ہے کہ اس میں ایسے بھی مقامات آئے جہاں پر شاعری اور مصوری کی مہارت اور کمالات ایک پیکر میں سما گئے ہیں بیان کی یہ خوبی قابل ذکر ہے کہ رعایت لفظی ،استعارہ ،تشبیہہ وغیرہ کے استعمال سے اس کے حسن میں نکھار پیدا ہو گیا ہے۔طریق کار کے تحت رشید حسن خاں نے مثنوی سحرالبیان کی تدوین کے دوران فورٹ ولیم کالج ،کلکتہ کے خطی نسخے کو اولیت اور فوقیت دی اور اسے بنیاد بنا کر مثنوی سحر البیان کی ترتیب و تدوین کی۔خاص بات یہ ہے کہ اس نسخے کو گل کرسٹ نے اپنے نظام املا کے التزام سے شائع کیا تھا۔علامتوں کے ساتھ رشید حسن خاں نے رموز و اوقاف سے کام لیا ہے۔اختتامیہ کے تحت رشید حسن خاں نے اپنے عزیزوں کا شکریہ اد ا کیا ہے جنھوں نے ان کی ہر ممکن مدد کی ،ان میں مشفق خواجہ،کالی داس گپتا رضا،ڈاکٹر شیام لال کالڑا،ڈاکٹر گیان چند جیں،عابد پیشاوری،ڈاکٹر شعائر اللہ خاں،انور قمر،ارجمند آرا،کاظم علی خاںاور ڈاکٹر خلیق انجم کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔


مُصطَلَحاتِ ٹھگی

      مصطلحات ٹھگی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکتر خلیق انجم نے لکھا ہے۔
         ’’ٹھگی قتل اور لوٹ مار کا ایسا منظم طریقہ تھا جو تقریباً دو سو سال تک ہندوستان میں رائج رہا۔میری معلومات کے مطابق کسی بھی ملک میں ٹھگی کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ٹھگی محض ایک لوٹ مار اور قتل و غارت گری نہیں تھی بل کہ اس نے ایک خاص مذہبی فریضے کی صورت اختیار کر لی تھی۔اس کے با قاعدہ اصول و ضوابط تھے۔اس مسلک کے پیروکار وں کے ایسے عقائد تھے جن کی پابندی ہر ٹھگ کے لیے لازمی تھی۔وہ اپنے اصول و ضوابط کے تحت مخصوص لوگوں کو ہی قتل کرتےتھے۔‘‘(حرفِ آغاز،مصطلحات ٹھگی،انجمن ترقی اُردو(ہند)نئی دہلی،2002ئ)
           ٹھگوں کے اس لغت کو رشید حسن خاں نے شاہ جہاں پور میں یکم دسمبر2001ء کو ترتیب دیا تھا۔اس کتاب پر انھوں نے 30؍صفحات پر محیطعالمانہ مقدمہ تحریر کیا تھااور اس کا انتساب ’عصر حاضر کے ادبی ٹھگوں کے نام ‘موسوم کیا۔مصطلحات ٹھگی کو علی اکبر الہ آبادی نے''Rama Seeana"سے اُردو میں ترجمہ کیا تھا۔انگریزوں نے ٹھگی کے خاتمے کے لیے 1799ء میں خاکہ تیار کیا تھا۔1830ء میں لارڈ ولیم بینٹک نے بھی اس جانب توجہ مبذول کی۔اس مہم کا سربراہ کیپٹن ولیم سلیمن کو بنایا گیا۔1835ء تک زیادہ تر ٹھگ مارے جا چکے تھے اور کچھ نے سرکاری گواہ بن کر اپنی جان کی بخشش کرا لی تھی۔وعدہ معاف گواہوں کے بیانات کو کیپٹن سلیمن نےRama Seeana کتاب میں درج کیا ۔اس طرح ٹھگوں کی خفیہ زبان ہمیشہ کے لیے قلم بند ہو گئی۔علی اکبر نے اس کتاب کا اُردو میں ترجمہکر اسے 1839ء میں شائع کیا۔
         رشید حسن خاں نے اس کتاب کی ادبی اہمیت و افادیت کے مد نظراسے مختلف نسخوں کی مدد سے از سر نو مرتب کیا۔اس کتاب کے آخر میں 4؍صفحات پر مشتمل وہ نقشہ پیش کیا جن میں ٹھگوں کی سزا کا گوش وارہ درج ہے۔اس کے علاوہ رشید حسن خاں نے ٹھگوں کی زبان اور عام بول چال کا بہ خوبی تجزیہ کیا ۔ٹھگ جب کسی مسافر کو لوٹتے تھے تو وہ آپس میں خفیہ زبان میں باتیں کرتے تھے۔اس طرح ان ٹھگوں نے ایک ایسی کو ایجاد کیا جو صرف ٹھگوں کے ما بین بولی اور سمجھی جاتی تھی۔رشید حسن خاں نے ٹھگوں کی اس انوکھی اور متعجب بولی کے بارے میں لکھا۔
           ’’مجرموں کے پرانے گروہوں میں شامل افراد عموماً بے پڑھے یا کم پڑھے لکھے ہوتے تھے۔یہ لوگ قواعد زبان سے ضرور نا آشنا ہوتے تھے مگر ان میں لفظ تراشی کا بڑا عجیب ملکہ ہوتا تھا۔ان لوگوں سے متعلق جو ذخیرہ الفاظ محفوظ رہ گیا ہےاس کا مطالعہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور ان لوگوں کی ذہانتپر گواہی دیتا ہے۔مثلاً چھوٹی (جیبی)ٹارچ تو اب کی چیز ہےپہلے جب چور نقب لگاتے تھے تو کوٹھری کا جائزہ لینے کے لیے حسب ضرورت ماچس کی تیلی جلاتے تھے۔(جس سے ان دھیرے میں روشنی نمایاں ہو جاتی تھی۔)خوبصورت فرد(خاص کر محبوب)کے لیے بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے آنے سےسے روشنی پھیل گئی۔چاند نکل آیا وغیرہ۔چوروں کی زبان میں ماچس کو ’’سندری‘‘ کہا جاتا تھا۔کیسی معنی خیز استعراتی نسبت ہے!اندھیرے میں روشنی نمود کا عمل !ماچس کو ’’سندری‘‘کہنا کیا ذہانت اور لفظ سازی کے شعورکی ترجمانی نہیں کرتا۔‘‘(مقدمہ مصطلحات ٹھگی،صفحہ12تا13،انجمن ترقی اُدو(ہند)نئی دہلی،2002ئ)
        رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں جن ذیلی عنوانات کو قاٗم کیا ان کی فہرست اس طرح ہے۔جرم اور عقیدہ،ججات کا تصور،سماجی عوامل،بھینٹ کی شرط،مذہب ،اختلاف اور مطابقت،لسانی تجزیے کی ضرورت اور اہمیت،ٹھگوں کو تحفظ حاصل تھا،اس کتاب کی اہمیت،رما سیانا،مصطلحات ٹھگی؛پہلی روایت،مصطلحات تھگی کی روایت ثانی،مصطلحات ٹھگاں،مصطلحات ٹھگاں(حیدرآ باد)،فرہنگ ِ اصطلحاتِ پیشہ وراں،واقعاتِ عجیبہ و غریبہمعروف بہ غریب نامہ۔مقدمے کے آخر میں جن لوگوں نے اس کتاب کو پورا کرانے میں خاں صاحب کی قدمے ،دامے،سخنے مدد کی اُن کے نام اس طرح ہیں۔اسلم محمود،ڈاکٹر معین الدین عقیل،یعقوب میرا مجتہدی،شمس الرحمن فاروقی وغیرہ۔
       رشید حسن خاں نے اس کتاب کے آخر میں اسلم محمود کی انگریزی ببلو گرافی کے تحت 38؍ کتابیں اور ہندوستانی ٹھگوں پر 12؍اُردو ،فارسی کتابوں کے نام سے بنیادی مآخذ کا حوالہ پیش کیا ہے۔یہ حیران کُن بات ہے ۔ایک دل چسپ بات B.B.C.Urdu کے نامہ نگار کے نامہ نگار کی کتاب ’’پرانے ٹھگ‘‘کا موصوف نے تذکرہ تک نہیں کیا ہے۔ان باتوں کے مد نظررشید حسن خاںکی اس کتاب کی مقبولیت میں کوئی نمایاں فرق محسوس نہیں ہوتا۔رشید حسن خاں نے اس کتاب کی ادبی افادیت و اہمیت کے بارے میں لکھا۔
           ’’جرائم پیشہگروہوں میں ٹھگوںکی سب سے زیادہ منظم جماعت تھی۔اُن کا ایک نقطۂ نظر تھا ،جس کے واسطے سے ٹھگی جرم کے بجائے ایک اعلا آسمانی طاقت کے احکام کی بجا آوری کا مجموعہ بن گئی تھی۔اُن کی رسمیں تھیں،طریقے تھے اوراُن کی اپنی زبان تھی۔تھگ کس نقطۂ نظر کو مانتے تھے،ہندو اور مسلمان دونوں دیوی کے پرستار کیسے بن گئے تھے،یہ کیا بات تھی کہ ہندو مسلمان دونوں اپنے اپنے مذہب کو مانتے تھے اور ایک تیسری طاقت کو بھی مانتے تھے۔اونچی ذات اور نیچ ذات کا کا تصور جو خالص سماجی مسئلہ ہے،وہ ایک مجرمانہ عمل میں بھی اس حد تک دخل ہو گیا تھا کہ نیچ ذات کےفرد پرٹھگی نہیں کی جا سکتی تھی،خواہ اُس کے پاس کتنی ہی دولت ہو،ایسے دل چسپ مسائل کی تفصیل اسی کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔‘‘(مقدمہ مصطلحات ٹھگی،صفحہ 32،انجمن ترقی اُردو (ہند)نئی دہلی،2002ئ)


زٹل نامہ

     رشید حسن خاں کی کلاسیکل متون کی تدوین کی آخری کڑی ’’زٹل نامہ ہے۔کلیات جعفرؔ زٹلی کی ترتیب و تزئین رشید حسن خاں کا اعلا تدوینی کارنامہ ہے۔جس میں ان کے وسیع و عمیق مطالعے اور تدوین کے لیے قائم کیے گئے سائنٹیفک طریقۂ کار کی نمائندگی صاف نظر آتی ہے۔زٹل نامہ میں رشید حسن خاں نے40؍صفحات پر مشتمل گراں بہاں مقدمہ لکھا ہے اور اس کتاب کا انتساب الہاج عبدالوہاب خاں سلیم کے نام کیا ہے۔یہ کتاب دو حصوں،حصۂ نثر صفحہ 51تا 118اور حصۂ نظم صفحہ 119تا 267میں منقسم ہے۔رشید حسن خاں سے قبل اُردو کے بہت سے نامور ادیبوں نے جعفرؔ زٹلّی کے کلام کی جانب توجہ مبذول کی ۔لیکن وہ اپنی کاوشوں میں ناکام رہے۔کیوں کہ ان کی نظر میں جعفرؔ کا کلام فُحش تھا۔ان اختلافات کے باوجود رشید حسن خاں نے اپنی تدوینی صلاحتوں اور تحقیقی علم کی بنا پر جعفرؔ کے کلام کو کلاسیکی ادب کے زمرے میں رکھ کر،اسے مرتب کیا۔’’زٹل نامہ ‘‘کی تدوین سے قبل جعفرؔ زٹلی پر رشید حسن خاں ایک مضمون اپنی تنقیدی کتاب ’’تلاش و تعبیر‘‘ میں تحریر کر چکے تھے۔در اصل زٹل نامہ کی تدوین میں سردار جعفری مرحوم کی ترغیبات بھی کار فرما رہی ہیں۔سب سے پہلے رشید حسن خاں سیاُنھوں نے ہی یہ فرمائش کی تھی کہ اُردو ادب میں جعفرؔ زٹلّی کو ایک’’فحش گو شاعر‘‘کہہ کر اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور آپ اس جانب توجہ کریں۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں لکھا ہے۔
            ’’یہ بات غالباً1968ء کی ہے۔(سنہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں)کہ سردار جعفری مرحوم نے اپنے رسالے گفتگو
کے لیے فرمایش کی ۔یہ بھی کہا کہ جعفرؔ زٹلی کو بہت نظر انداز کیا گیا ہے۔اگر اس سے متعلق کچھ لکھا جا سکے تو خوب ہو۔ اس وقت تک جعفرؔ کی شاعری سے میریواقفیت سرسری تھی۔ذہن میں یہ خیال بیٹھا ہوا تھا کہ یہ محض فحش نگار اور ہجو گوشاعر تھا۔اس کی حقیقی اہمیت سے میں بے خبر تھا ۔مجھے تعجب ہوا کہ کس موضوع کی فرمائش کی جا رہی ہے۔مرحوم کی با خبری اور ذہانت کا میں قائل تھا۔اس لیے خیال کیا کہ کوئی نہ کوئی بات ہوگی ضرور۔اس مضمون کے لییمیں نے کوشش
 کی کہ جعفرؔ اور کلامِ جعفرؔ سے متعلق جد قدر مآخذ دستیاب ہو سکیں ان سے استفادہ کیا جائے۔اس طرح کلام جعفری کی لسانی اور تاریخی اہمیت کا پہلی بار علم ہوا۔ہاں ایک کمی یہ رہ گئی تھی کہ دیوان جعفرؔ کا بس ایک مؤثر مطبوعہ نسخہ مطبع
محمدی دہلی کا)مل سکا تھا۔جس میں طرح طرح کے اغلاط بھی ہیںاور غیر معتبر کلام بھی شامل ہے۔مضمون تو لکھ لیا گیا لیکن یہ احساس دل میں خلش پیدا کرتا رہا کہ جعفرؔ کے مکمل کلام ِ نظم و نثر کو مدوّن کرنا بہت ضروری ہے۔اس ضروری کام کو انجام دینے کی نوبت اب آپائی ہے۔(مقدمہ زٹل نامہ،صفحہ11،انجمن ترقی اُردو ( ہند)نئی دہلی،2003ئ)
        رشید حسن خاں 1968ء سے اس بات کے لیے فکر مند تھے کہ کلام ِ جعفرزٹلی کے تمام نسخے(خطتی اور مطبوعہ)حاصل کیسے کیے جائیں۔اس لیے انھوں نے اس بارے میں اپنے عزیز وں کو مکتوبات لکھے۔تاکہ کلام جعفرؔ زٹلی کی تدوین میں تیزی آئے۔اس ضمن میں یہ بات بھی بڑی دل چسپ ہے کہ رشید حسن خاں نے کلام ِجعفر کو تدوین کرنے کا ارادہ اور آغازکب کیا،یہ کام کب پایۂ تکمیل کو پہنچا؟ان تمام امور پر رشید حسن خاں نے خطوط میں اشارہ کیا تھا کہ’’کلامِ جعفرؔ کے جو نسخے دنیابھر میں بکھرے ہوئے ہیں انھیں حاصل کرنا ان کے بس کی بات نہیں‘‘۔کئی نادر نسخوں تک تو ان کی دسترس تک نہ تھی۔رشید حسن خاں نے اپنی حالتِ زار اور کلام جعفرؔ زٹّلی کو مرتب کرنے کو اپنے عظیم آہنی فیصلے اور دلی خواہش کے بارے میں اسلم محمودکے نام 26؍ستمبر1994ء کو دہلی یونی ورسٹی سے ایک خط لکھا۔ 
          ’’جعفر زٹلّی کا دیوان مرتب کرنے کی چیز ہے مگر اس کے نسخے بکھرے پڑے ہیںیہاں سے لندن تک۔ان سب کے
         عکس جمع کرنا میرے بس سے باہر ہے۔اگر کوئی ادارہ ان نسخوں کے عکس منگوا دے تو میں یقیناًسب سے پہلے اسی کو مرتب کروںگا۔نعم احمد والا اڈیشن تو اس قابل ہے کہ اس پر مرتب کو ’’لیبر کیمپ‘‘ میں بھیج دینا چاہیے۔وہ متن کو پڑھ ہی نہی سکے ہیں۔اس کے لیے ذوق اور نظردونوں کی ضرورت ہے اور وہاں ددونوں کی کمی ہے۔‘‘
  (رشید حسن خاںکے خطوط،صفحہ 191,ڈاکٹر ٹی ۔آر ۔رینا،اُردو بک ریویو،نئی دہلی،2011ئ)
        رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں اس بات کی صراحت کی کہ حافظ محنود خاں شیرانی نے اہل علم کی روش کے بر خلاف سب سے پہلے کلام جعفرؔ کی اہمیت و افادیت کو تسلیم کیا۔شیرانی صاحب نے اپنی کتاب’’پنجاب میں اُردو‘‘میں لکھا کہ مولانا محمد حسین آزاد نے جعفرؔ کو ’’بے بھروسا‘‘قرار دیا۔جب کہ اُردوشاعروں میںنمبر شمار بہت پہلے ہے ۔ولی دکنی اور جعفرؔ زٹلّی کا زمانہ ایک ہی ہے۔جعفر زٹلّی کا کلیات گر چہ مختصر ہی سہی تاہم اس میں ایسے الفاظ بھی شامل ہیں جو آج پتروک کے زمرے میں آتے ہیں۔ان کی حیثیت نظیر اکبرآبادی سے کم نہیں ہے۔چوں کہ زبان اُردو کا ایک بڑا ذخیرہ ان کے کلام میں موجود ہے اور ان کا کلام سماجی مسائل کا ترجمان بھی ہے۔ڈاکٹر گوہر نوشاہی نے جعفرؔ زٹلّی کے کلام اور رشید حسں خاں کی تدوینی صلاحیتوں پر بحث کرتے ہوئے لکھا۔
           ’’جعفرؔ زٹلّی اُردو زبان کے اولین معماروں میں سے تھے۔جنھوں نے اُردو کے شعری اور نثری ادب کو اظہار و ابلاغ کے وہ سانچے دیے جن سے اس دور کا معاشرہ محروم تھا۔وہ اُردو میں مزاحمتی ادب کے بانی ہیں اور انھوں نے اس زما نے میں ملوکیت کے استعمار گرانہ رویوں کے خلاف آواز اُٹھائی ۔جب لکھنے والوں کی اس تصور سے روح کانپتی تھی۔
انھوں نے سچ بولنے کو معیار تخلیق قرار دیااور حرف و خیال کو سچ بولنے کی ترغیب دی۔جعفر ؔنے اپنا قلمی نام اس لیے
زٹلّی رکھا کہ وہ گپ باز اور پارہ گو کہلا کر اپنے لیے بعض ایسی باتیں کہنے کا جواز پیدی کرنا چاہتے تھے جنھیں اس عہد
کا اشرافی اور وضع دار معاشری ثقہ اور سنجیدہ شخصیات کے سایان نہیں سمجھتا تھا۔رشید حسن خاں قابل تحسین و ستائش محقق ہیں جنھوں نے ایک مجذ وب کی بڑ کو علمی اور ادبی وقار کے ساتھ ان قارئین کو منتقل کیا جو نجس اور ناپاک ہونے کے ڈر سے ایسے ادب کے قریب نہیں جا سکتے تھے۔‘‘(رشید حسن خاں ،کچھ یادیں کچھ جائزے،صفحہ 266،مرتبین ،ڈاکٹر محمد اشرف،جاوید رحمانی،دربھنگہ 2008ئ)
         رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں جو ذیی عنوانات قائم کیے ان کی فہرست اس طرح ہے۔تمہید،حالات زندگی،کلامِ جعفرؔ کی اہمیت،زبان اور بیان ،مقتول تلخ نوائی ،زٹل نامہ،مکمل کلیات کس نے مرتب کیا،مختلف نسخے ،طریق کار ،ضمیمے،سپاس گزاری۔اس کے ساتھ رشید حسن خاں نے جن دوستوں نے زٹل نامہ مرتب کرنے میں ان کی ہر طرح سے مدد کی ان کا شکریہ ادا کیا ۔ان کے نام اس طرح ہیں۔اسلم محمود،ڈاکتر معین الدین عقیل،جمیل جالبی،اطہر فاروقی،بیدار بخت،شعائر اللہ خاں،ڈاکٹر ضفر احمد صدیقی،کالی داس گپتا رضا،خڈاکٹر اصغر عباس،مشفق خواجہ،عزیزہ منصورہ،ڈاکٹر عبدالستار دلوی،ارجمند آرا،عبدالوہاب خاں سلیم اور ڈاکتر خلیق انجم کا نام شامل ہے۔


گذشتہ لکھنؤ

          گذشتہ لکھنؤ عبدالحلیم شررؔ کا شاہکار اننشایہ ہے۔اس کتاب میں لکھنؤ کی تہذیب اور ثقافت کو بے باک طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔یس کتاب کے ذریعے سے قاری لکھنؤ کے ماضی میں غوطہ زن ہو جاتا ہے۔اس کتاب کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔
          رشید حسن خاں نے گذشتہ لکھنؤ پر 26؍ صفحات کا تعارف نما مقدمہ لکھا۔اس میں انھوں نے لکھنؤکی تہذیبکو وجود میںآنے اور اس کے خاتمے،تباہی و بربادی کا علمانہ انداز میں محاکمہ کیا ہے۔نوّاب غازیالدین حیدر نے(1814تا1827)انگریزوں کے اشارے پر اپنے آپ کو نوّاب کی جگہ خود مختار باد شاہ کے خطاب سے سرفراز کیا۔غازی الدین حیدر اور نصیر الدین حیدر کے عہد میں لکھنؤ اپنے شباب پر  تھا۔اس کی رونق اور سیاسی ،سماجی اور تہذیبی گہما گہمی کے باعث اسے لوگ ’’عروس البلاد‘‘ کہ کر پکارتے تھے۔جب نوّابیت نے بادشاہت کا لبادہ اوڈھ لیا تولکھنؤ کے ان نئے بادشاہوں کے اندر دہلی کے مقابلے میں اپنے معاشرے کو ہر اعتبار سے بلند و بالا کرنے کا جذبہ اُبھرنے لگا تھا۔اسی لیے لکھنؤ ،دہلی سے ہر اعتبار سے آگے نکلنا چاہتا تھا۔دہلی کے ہر فن سے لکھنؤ مقابلہ آرائی کو تیار تھا۔عوام نے بھی اپنے فرماںروائوں کی پیروی کی۔پستی کا عالم یہ تھا کہ اخلاقی قدروں میں گراوٹ کو بھی عوام و خاص نے ہُنر اور فن کا درجہ دے دیا۔اخلاقی پستی کی پاداش میں ’’طوائف‘‘ نام کی ایک نئی برادری وجودقائم ہوا۔اشراف ،ان طوائفوں سے تہذیب کے نئے طور طریقے سیکھنے لگے۔امرا کے گھر میں طوائفوں کا آنا کوئی بری بات نہ تھی۔بادشاہوں کے خیموں کے نزدیک ڈیرے دار طوائفیں نظر آنے لگیں۔ان کا جلوس کی شکل میں جلوہ افروز ہونا شان کی علامت تسلیم کیا گیا۔اس بارے میں رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں لکھا۔
            ’’جس معاشرت کا ایک اعلا مظہر ،طوائف ہوں اور اس کے کوٹھے ،حصولِ آداب کے مرکزہوں،اس کے متعلق اتنی
 بات کہی جا سکتی ہے  کہ اس معاشر ت کی بنیاد بہت گہری نہیں ہوگی ۔خواہ وہ تہذیب بہت دل کش رنگا رنگ اور چمک دار نظر آتی ہو۔اور جس معاشرت کی بنیاد بہت گہری نہیں ہوگی اس میں طاقت اور اجزا کی آمیزش نہیں ہو گی۔وہ معاشرت اپنے آپ کو فنون لطیفہ کے اعلا مدارج کمال میں نمایاں نہیں کر  سکے گی اور دیر پا بھی نہیں ہو گی۔‘‘(مقدمہ گذشتہ لکھنؤ،صفحہ22تا23مکتبہ جامعہ لمیٹڈ ،نئی دہلی،2011ئ)      
        گذشتہ لکھنؤ میں عبدالحلیم شرر کی انشا پردازی درجۂ کمال کو پہنچ گئی ہے۔اس میں تاریخ،ناول افسانہ،اور انشائیے کے عناصر یکجا ہو گئے ہیں۔اسے پڑھتے وقت جو تصاویر ذہن میں ابھرتی ہیں وہ متحرک معلوم ہوتی ہیں۔یہی خاصیت کتام کی کامیابی کی ضامن بی۔آج ،عبدالحلیم کا نہ وہ لکھنؤ ہے ،نہ وہ روشن و رقاص تہذیبی مرقع ،نہ مٹیا برج ہے نہ قیصر باغ کے جلسے،لیکن اس کتاب کوپڑھتے وقت کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پرچھائیاں گردش کرتے کرتے رنگوں کے مرقعوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔ایسی صفت بہت کم کتابوں میں پائی جاتی ہیں ۔اس سے کتاب کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر سلیم اختر نے لکھنؤ کی شان و شوکت ،عروج و زوال اور گذشتہ لکھنؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔
            ’’مشرقی تمدن کاآخری نمونہ گذشتہ لکھنؤ گو یہ عبدالحلیم شررؔ کی کتاب ہے مگر اب اس ماحول کا جائزہ لیں تو یہ محض کتاب کا نام نہیں بل کہ گذشتہ لکھنؤ ،بلیغ اشاریہ ہے ۔نوابوں کا لکھنؤ بانکوں اور خوباں کا لکھنؤ ،آزادی اور تعزیوں کا لکھنؤ،طوا ئفوں کا لکھنؤ،مشاعروں اور بٹیروں کی پالی کا لکھنؤ۔الغرض روشن اور چمک دار چمکیلا لکھنؤ اپنے معاشی اور اخلاقی تضادات سمیت واقع ہندوستان میں مشرقی تمدن کا آخری نمونہ اور مسلم تہذیب کے بجھتے چراغ کی آخری بھڑک ثابت
 ہوا۔‘‘(اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ ،صفحہ 183،کتابی دُنیا ،نئی دہلی ،2013ئ)
        لکھنؤ میں ایک نئی تہذیب اور تمدن کا ارتقا ہوا۔اس میں نفاست دل کشی اور صناعت کمال کے درجے کو پہنچ گئی تھی۔ہر چیز میں، چا ہے وہ لباس ہو یا کھانا پینا ،آداب ِ محفل ہو یا مجالسِ عزا کے ضابطے،مرغ بازی ہو یا طوائفوں کے مجرے،سلام کرنے کا طریقہ ہو،یا شکریہ کرنے کا سلیقہ ،خوش سلیقگی ،تمیز داری اور تراش خراشکا کمال بہ درجہ اتم موجود تھا۔بذلہ سنجی،لطیفہ گوئی،داستان فرازی ،مصاحبت ،محفل آرائی سب میں اس نزاکت کا رنگ جھلکتا تھا ۔جسے ایک ایک مخصوص شائستگی کا معیار کہا جا سکتا ہے۔لطافت اس درجے کی تھی کہ انسان اس کی قسم آسانی سے کھا سکتا تھا۔یہاں کے آداب و اسلیب میں ایسی جادوگرانہ تاثیر تھیکہ اس سے ایک عقیدت سی پیدا ہونے لگتی ہے۔آج بھی لکھنؤ میں ان آداب کی کہیں کہیں جھلک دکھائی دے جاتی ہے۔تو بے ساختہ ان کی تقلید کرنے کو جی چاہتا ہے اور دل گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ شائستگی ایسا نفیس انداز ہے جسے زندگی کا لازمی جز ہونا چائیے۔کچھ دیرکے لیے تو نکتہ چیں کی آنکھیں جھپک ہی جاتی ہیں ۔رشید حسن خاں نے ان تمام امور اور گذشتہ لکھنؤ کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے مقدمے میں لکھا۔
             ’’اس کے ماسو ا عیش وعشرت کی فضائیں ،جن میں لذت اندوزی یا بوالہوسی کی نشو و نما ہوتا ہے ان کی بھی اعلا مثالیں نظر آتی ہیں۔اس داستان رامش و رنگ ،قصۂ عشرت وعبرت اور افسانۂ رنگ و نکہت کو شرر نے جس والہانہ شگفتگی کے ساتھ تحریر کیا ہے جس میں تفصیلات کا اس قدر خزانہ جمع کر دیا گیا ہے جو اس التزام کے ساتھ اور کہیں نہیں ملے گا۔‘‘ (مقدمہ گذشتہ لکھنؤ،صفحہ25،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی،2011ئ)


انتخابِ  ناسخؔ

        رشید حسن خاں نے’’انتخابِ ناسخؔ ‘‘ پر 126؍صفحات پر مشتمل طویل مقدمہ تحریر کیا۔رشید حسن خاں کو یہ مقدمہ سب سے زیادہ پسند تھا۔ناسخؔ دبستانِ لکھنؤ کے نمائندہ شاعروں میں سے تھے۔ناسخؔ کو بعض ناقدوں نے ’ادبی ڈکٹیٹر‘ قرار دیا ہے۔اصلاح ِ زبان سے بھی ان کا رشتہ جوڑا جاتا ہے۔اسی لیے مرزا غالب ؔ نے ناسخؔ کے بارے میں کہا’’زبان کو زبان کر دکھایا لکھنؤ نے اور لکھنؤ میں ناسخؔ نے ورنہ بولنے کے کون نہیں بول لیتا‘‘۔اس کے بر عکس مولوی عبدالحق نے جدید اندازِ نظر کی یوں ترجمانی کی،’’ناسخؔ بلا شبہ ایک اچھے طرز کا ناسخؔ اور ایک بھونڈے طرز کا موجد ہیں۔ان کے کلام میں نہ نمکینی ہے اور نہ شیرنی!‘‘
          رشید حسن خاں نے انتخابِ ناسخؔ کے ذریعے ان کی شاعری خاص کر غزلوں کا محاکمہ عالمانہ انداز میں کیا ہے۔غزلوں کے علاوہ ناسخؔ نے رباعیاںاور مثنویاں بھی کہیں ہیں۔در اصل اُردو ادب میں ناسخؔ کی شہرت ان کی غزلوں کی وجہ سے ہے۔انتخابِ ناسخؔ کو رشید حسن خاں نے سات حصوں میں تقسیم کیا ہے۔پہلے حصے میں ناسخؔ کی شاعری کا پش منظر بیان کیا گیا ہے۔دوسرے حصے میں کلامِ ناسخؔ پرمفصل بحث ہے۔اس میںخیال بند شعرا کے کلام،کلامِ ناسخؔ میں تراکیب کے مسائل ،سادہ غزلیات ،آج کے دور میں ناسخؔ کے کلام کی اہمیت اور قدر و قیمت ،دہلی کے شاعروں کے کلام اور ناسخ ؔ کے کلام میں مماثلت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔تیسرے حصے میں زبانِ لکھنؤ اور ناسخؔ کی زبان پر بحث ہے۔چوتھے حصے میں اس غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے کہ ناسخؔ نے اصلاحِ زبان کے اصول اورضابطے بنائے اور اُردو زبان سے متروکات کا تعین کیا۔کیوں کہ متروکات کی جو فہرستیں ہمارے سامنے ہیں ان میں سے اکثر و بیشتر ناسخؔ کے تلامذہ کے کارنامے ہیں اور ان متروکات کو ناسخؔ سے منسوب کیا جاتا رہاہے۔مقدمے کے اس باب میں رشید حسن خاں نے اس مسئلے پر بھی گفتگو کی ہے کہ پابندی ِ قواعداور تعین متروکاتکی تحریک جس تیزی سے لکھنؤ میں مقبول ہوئی اس کو دہلی میں فروغ حاصل کیوں نہیں ہوا۔پانچویں حصے میں اختصار کے ساتھ ناسخؔ کے حالاتِ زندگی اور تصنیفات کا زکر ہے۔چھٹے حصے میں اس امر کی جانب اشارہ کیا گیا ہیکہ ناسخ ؔ کے شاگرد رشکؔ نے کلیات ناسخؔ کا جو غلط نامہ بنایا ہے اس پر جگہ جگہ تصحیح کی بجائے ترمیم کا گمان ہوتا ہے اور ساتویں حصے میں اس انتخاب پر اکتصار کے ساتھ گفتگو کی ہے جو رشید حسن خاں کا اصل مقصد تھا۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں لکھا۔
              ’’ناسخ دبستانِ لکھنؤ کے سب سے پہلے اور سب سے اہم شاعر ہیں۔انھوں نے ایک نئے اسلوب کی تشکیل کی تھی
              جس نے دبستانی اسلوب کی حیثیت سے فروغ پایااور مدت تک غزل پر اپنے نشانات کو نمایاں رکھا۔بل کہ صحیح معنوں میں یوں کہنا چاہیے کہ اس اسلوب سے غزل نے ایک نیا مزاج پایاتھا۔لیکن اس اہمیت کے باوجود ابھی تک ان کی شاعری کا اس طرح جائزہ نہیں لیا گیا جس سے بحث کے سب گوشے روشن ہو جائیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ان کی حقیقی شاعرانہ قدر و قیمت کا تعین نہیں ہو سکا اور دوسری طرف ان سے ان باتوں کو منسوب کرنا روا رکھا جن کا ایک سرا مفراضات سے مل جاتا ہے۔اس میں سب سے اہم بحث اصلاح ِ زبان کی ہے۔ (تعارف،انتخابِ ناسخؔ،صفحہ7،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی،2011ئ)
        ناسخؔ نے اپنے کلام سے لوگوں کو متاثر کیا۔ناسخؔ نے جب شاعری شروع کی تو اس وقت لکھنؤ کا معاشرہ اور تہذیب اپنے عروج کی جانب گامزن تھی۔بعد میں دہلی سے برتری حاصل کرنے کے لیے شاعروں اور ادیبوں نے اپنے سر پرست نوابین کی تقلید کی تا کہ لکھنؤ ،دہلی کے مد مقابل وآ سکے۔اس مشن میں ناسخؔ اور رجب علی بیگ سرور میں سبقت حاصل کی۔شاعری کی دھارا جمناسے گومتی کی جانب موڑی گئی۔لکھنؤ کو علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کا مرکز قراردیا گیا۔کیوں کہ انگریزوں کی شہہ پر نواب ،بادشاہ بن گئے تھے۔غازی الدین حیدر کے وزیر معتمد الدولہ آغا میر نے ان کے ایک قصیدہ کا انعام سوا لاکھ روپئے دیا تھا۔لیکن آج ان کی اہمییت زبان میں صفائی پیدا کرنے اور متروکات کی با قاعدہ مہم چلانے کی وجہ سے ہے۔انھوں نے زبان و بیان کے قوانین کی خود پیروی ہی نہیں کی بل کہ اپنے شاگردوں سے بھی زبان و بیان کی پابندی کرائی۔افسرؔ امروہوی کے بہ موجب ناسخؔ نے میرؔ کے عہد کے 104اور مصحفیؔ کی زبان کے 17الفاظ متروک قرار دیے تھے۔اس پر کشش ماحول میں ناسخؔ کی شاعری کا جادو لکھنؤ میں ہر خاص و عام کے سر چڑھ کر بول رہا تھا تھا۔ناسخؔ کی شاعری کی مقبولیت کا اعتراف اہل دہلی نے بھی کیاتھا کیوں کہ ان کی شاعری کا اسلوب جدید طرز کا تھا۔رشید حسن خاں نے اس نقطۂ نظر پر طائرانہ گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے۔
              ’’یہ ایک ایسے شخص کا کلام ہے جس نے پورے عہد کو متاثر کیا تھا۔جس کا گھر شاعری کی ٹکسال تھا اور جس کا اسلوب اس عہد کا نمایندہ اور معیاری اسلوب تھا۔جو لوگ دہلی میں بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی اس شخصیت اوراس آواز سے متاثرتھے۔جادو اسی کو کہتے ہیں اور طلسمات اسی کا نام ہے۔اعجاز کے مقابلے میں آدمی جادو پر جلدی ایمان لے آتا ہے۔   لیکن جادو ،پھر جادو ہے،جب ٹوٹتا ہے تو پھراس کا کوئی توڑ نہیں ہوتا۔طلسم خواہ ہوش رُبا جیسا ہو ،اس کی مدت متعین ہوتی ہے اور محدود۔بہ ہر حال ،ناسخ ؔ کی ساحری مسلم ہے اور اُن پر ایمان لانے والوں کا گروہ بہت سے پیغمبروں کی پوری امّت سے زیادہ ہوگا۔یہ شرف بھی کسے ملتا ہے۔‘‘(تعارف،انتخابِ ناسخؔ،صفحہ132،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی،2011ئ)


دیوانِ حالیؔ

         اُردو اکادمی دہلی سے شائع دیوانِ حالیؔ(پہیلی اشاعت1893ئ)پر رشید حسں خاںنے 21؍صفحات پر مشتمل مقدمہ تحریر کیا۔اس مقدمے میں انھوں نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ’’مقدمہ شعر و شاعری ‘‘اور دیوانِ حالیؔ دو الگ الگ کتابیں نہیں بل کہ دیوانِ حالیؔ میں صرف لفظ’’مقدمہ‘‘ تھا۔اس میں شاعری کی ماہیت اور اس کے حسن و قبحپر مفصل بحث کی گئی ۔دیوانِ حالی کو مرتب کرتے وقت رشید حسن خاں نے حالیؔ کی قدیم رنگ کی غزلوں کے لیے ’’ق‘‘ کا استعمال کیا۔غزلوں کے علاوہ حالیؔ نے بہت کچھ کہا۔نظموں میں حبّ وطن اور اصلاح قوم کے مضامین کے دریا بہا دیے ہیں۔قطعہ اور رباعیاں بھی کہی ہیں۔شخصی مرثیوں میں شخص سے زیادہ ملک کا ماتم کیا گیا ہے۔اس لیے ان کی شاعری دل کے قریب ہے اور دل پر سیدھا اثر کرتی ہے۔اس طرح حالیؔ کی شخصیت ایک مصلح قوم کی زیادہ ہو گئی ہے۔حالی نے عورتوں سے متعلق جو نظمیں کہی ہیںان میں عورتوں کی وفا شعاری اور فرماں برداری کا بیان اور بخان ہے۔’’مناجات بیوہ ‘‘ کو پڑھ کر نہ جانے کتنی عورتیں اور بیوائیں روئی ہوں گی۔یعنی حالیؔ اپنی شاعری سے ایک طرف عورتوں کو صبر و تحمل کی تلقین کرتے ہیں تو دوسری طرف لڑکیوں کو وہ ان کے فرائض یاد دلاتے نظر آتے ہیں۔رشید حسن خاں نے حالیؔ کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔
              ’’مولانا حالیؔ کے دیوان کی یہ اشاعت ان لوگوں کے لیے ایک نئی بشارت کا حکم رکھتی ہے جو نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔مگر کلاسیکی رنگ تغزل کے مارے ہوئے ہیں اور آج بھی یعنی سائنس اور ٹکنالوجی کے اس عافیت آسوب زمانے میں بھی غزلیہ شاعری کو حصول مسرّت کا اور جمالیاتی احساس کی تسکین بے مثال وسیلہ سمجھتے ہیں ۔ان خوش ذوق قدر شناسوں میں اکثر یت ان لوگوں کی ہو گی جن کے دل دکھے ہوئے ہوںگے۔اس کا سبب خواہ غم عشق ہو یا غم روزگار۔ جن کے ذہنوں کو معاشرے کی بے رحم سچائیوں نے احساسات لطافت سے محروم کر دینے کی قسم کھا رکھی ہوگی اور جن کے دل  بھر ی محفل میں تنہائی محسوس کرتے ہوں گے ۔یہ لوگ غزل کے اچھے اشعار کو محفلوں میںبلند آواز سے پڑھنے کے قائل نہیں ہوں گے،انھیں تنہائی کے لمحوں کا رفیق مانتے ہوں گے۔‘‘(مقدمہ دیوان حالیؔ،صفحہ 1،دہلی اردو اکادمی،نئی دہلی،2006ئ)
      رشید حسن خاں کی اس دیوان کو مرتب کرنے مین جن لوگوں نے مدد کی اُن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ان میں داکٹر خلیق انجم،شریف الحسن نقوی،انتظار مرزا اور مخمور سعدی کا نام شامل ہے۔مقدمے کے آخر میں رشید حسن خاں نے نامی پریس کان پور سے 1893ء میںشائع شدہ دیوانِ حالیؔ کا عکس شامل ِ کتاب کیا ہے۔
       اس طرح رشید حسن خاں نے اپنے تدوینی ذوق و شوق سے مقدماتی ادب میں گراں بہا اضافہ کیا ہے۔ان کے علمی ذوق و شوق کا اندازہ ان کی تحریروں سے لگا جا سکتا ہے۔ایک ایک سطر کی تحقیق کرنا ان کا جنون تھا۔اگر رشید حسن خاں کے مجوزہ ادبی کارنامے(کلامِ اقبال،غرائب اللغات،گنجینۂ معنی کا طلسم اور امراؤ جان ادا کی تدوین)بھی منظر ِ عام پر آ جاتے تو اُردو ادب میں اور مزید اضافہ ہوتا۔خاص کر کلام ِ اقبال اور گنجینۂ معنی کا طلسم(غالبؔ کے دیوان کی شرح) کے تدوین کی اُن کی پلانگ تھی۔لیکن ان کی عمر نے ان سے وفا نہ کی۔اس طرح ہم اُردو والے ان کی تحقیقی اور تدوینی کار گزاریوں سے محروم رہ گئے۔

یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟