ہاں میں شاعر ہوں مگر ۔۔۔۔ : مبارک علی مبارکی ۔ کولکاتا، انڈیا
ہاں میں شاعر ہوں
مگر
شعرنہیں کہتا ہوں
میری غزلیں
میری نظمیں
مرے اشعار
جو تم سنتے ہو
اور پھر سن کے جنہیں
داد دیا کرتے ہیں
محفل شعر و ادب میں
بھی ہے چرچا جن کا
جن کو سننے کے لئے
لوگ تڑپ جاتے ہیں
سن کے جن شعروں کو
زاہدبھی بہک جاتے ہیں
ہاں وہ اشعار
جو کمسن سی کوئی دوشیزہ
ریشمی نرم سے کاغذ پہ
 لکھا کرتی ہے
اور پھر نرم سے نازک سے
 لبوں سے اپنے
چھپ کے گھر والوں سے
وہ چوم لیا کرتی ہے
ہاں وہ اشعار
 جو موجب ہیں مری شہرت کے
جن کے دم سے مری
دنیا میں ہے پہچان بنی
وہ مرے شعر نہیں
ہاں
وہ مرے شعر نہیں
زخم ہیں میرے دل کے
دل کے ان زخموں میں جب
درد سوا ہوتا ہے
اور ان زخموں سے جب خون ٹپک جاتا ہے
پڑھنے اور سننے میں
تم سب کو مزہ آتا ہے
بس اسی واسطے میں سب سے یہی کہتا ہوں
ہاں میں شاعر ہوں
 مگر
شعر نہیں کہتا ہوں
ہاں میں شاعر ہوں
 مگر
شعر نہیں کہتا ہوں
 

یہ نظم آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟