مجھ سے میرا گناہ روٹھ گیا: کاشف بٹ ۔ راولپنڈی، پاکستان
جانتے ہو گناہ سے پہلے
مجھ سے میرا گناہ روٹھ گیا
تم نہیں جانتے، بتاتا ہوں
رات خلوت میں ایک دیوی سے
میں بہت دیر تک کلام کیا
حسنِ ظاہر سے حسنِ باطن تک
جتنے افسانے تھے بیان ہوئے
بات ہونے لگی لطافت کی
جب خط و خال کی… قیامت کی
مجھ سے جامِ حریم چھوٹ گیا
کیا ہوا میرا ضبط، ٹوٹ گیا
میں نے اپنی ہوس بڑھا دی تھی
آگ چاروں طرف لگا دی تھی
ایک عورت سمجھ کے جب میں نے
ہاتھ بندِ قبا پہ ڈالے تھے
میرے سارے ارادے کالے تھے
آفریں اُس حسین دیوی پر
جس نے دیکھا تھا ایسی حیرت سے
بجھ گئی آگ جو لگائی تھی
مٹ گئی جو ہوس کی دنیا تھی
ہاتھ مفلوج ہو گئے تھے مرے
دیکھیے ایک رات میں یہ ہوا
مار کر پھر مجھے اٹھایا گیا
ڈوبنے سے مجھے بچایا گیا
شکریہ اُس حسین دیوی کا
جس کی دہلیز پر گذشتہ شب
مجھ سے میرا گناہ روٹھ گیا
 

یہ نظم آپ کو کیسی لگی؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟